jamiamadniajadeed

سب سے افضل یہ ہے کہ جو زائد ہو خرچ کر ڈالو

درس حدیث 4/43 ۔۔۔۔۔ سب سے افضل یہ ہے کہ جو زائد ہو خرچ کر ڈالو ! حضرت ابوذر کی رائے اور باقی صحابہ کا مسلک ؟ (1981-06-26)

حضرت اقدس پیر و مرشد مولانا سیّد حامد میاں صاحب کا مجلسِ ذکر کے بعد درسِ حدیث ''خانقاہِ حامدیہ چشتیہ'' رائیونڈ روڈ لاہور کے زیرِانتظام ماہنامہ '' انوارِ مدینہ'' کے ذریعہ ہر ماہ حضرت اقدس کے مریدین اور عام مسلمانوں تک باقاعدہ پہنچایا جاتا ہے اللہ تعالیٰ حضرت اقدس کے اِس فیض کو تا قیا مت جاری و مقبول فرمائے،آمین۔
سب سے افضل یہ ہے کہ جو زائد ہو خرچ کر ڈالو !
حضرت ابوذر کی رائے اور باقی صحابہ کا مسلک ؟
( درسِ حدیث نمبر ٤ : ٢٢ شعبان ١٤٠١ھ/٢٦ جون ١٩٨١ء )
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَیْرِ خَلْقِہ سَیِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہ وَاَصْحَابِہ اَجْمَعِیْنَ اَمَّابَعْدُ !
جناب ِرسول اللہ ۖ نے ارشاد فرمایا روایت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی ہے، اسی قسم کی روایت حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے بھی ہے لَوْکَانَ لِیْ مِثْلُ اُحُدٍ ذَھَبًا اگر میرے پاس اُحد پہاڑ کے برابر سونا ہوتا لَسَرَّنِیْ اَنْ لاَّ یَمُرَّ عَلَیَّ ثَلاثُ لَیَالٍ وَعِنْدِیْ مِنْہُ شَیْئ تو میں اِس بات پر خوش ہوں یہ بات میرے لیے خوشی کی ہوگی کہ تین دن گزریں اور میرے پاس کچھ بھی اس میں سے نہ بچے
اِلَّا شَیْئ اُرْصِدُہ لِدَیْنٍ ١ سوائے وہ چیز کہ جسے میں اپنے قرض کے لیے بچاکر رکھ لوں کہ اس سے مجھے قرض ادا کرنا ہے یا یہ معنٰی بھی ہوسکتے ہیں کہ قرض سے میں بچا رہوں، اتنی مالیت میں اپنے پاس روک لوں ! باقی اس کے سوا میں اپنے پاس کچھ بھی نہ رکھوں ! ! !
جنابِ رسول اللہ ۖ کی تعلیم اور عمل دونوں میں اسی بات پر زور ہے کہ اپنے پاس ضرورت سے زائد چیز نہیں رکھی ! اور اپنی ضرورت پر دُوسروں کی ضرورت کو ترجیح دی ! اور نقدین جو یعنی سونا چاندی یہ کبھی روکا ہی نہیں اپنے پاس ! باغات ہیں یا پھل ہے اُن کا تو اپنے پاس رکھنے کا معمول رہا ہے باقی ان سے جو آمدنی ہوجائے وہ کبھی نہیں رکھی اپنے پاس ! ! !
١ مشکوة المصابیح کتاب الزکوة رقم الحدیث ١٨٥٩
تو حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کا مسلک یہ تھا کہ سونا اور چاندی ایسی چیزیں ہیں کہ انہیں انسان جمع کرہی نہیں سکتا رکھ ہی نہیں سکتا، یہ ہے ہی خلافِ شرع ! ! اور وہ یہ فرماتے تھے کہ ایک دفعہ جنابِ رسول اللہ ۖ نے مجھ سے دریافت فرمایا أَتُبْصِرُ اُحُدًا ١ تمہیں اُحد پہاڑ نظر آرہا ہے ؟ تو کہتے ہیں کہ میں نے ایک نظر پہاڑ پر ڈالی اور ایک نظر سورج پر ڈالی ! کیونکہ میں یہ سمجھا کہ رسولِ کریم علیہ الصلوٰة والتسلیم مجھے کسی کام کے لیے بھیجنا چاہتے ہیں ! میں نے دیکھا فورًا کہ کتنا حصہ باقی ہے دن کا کہ میں دن میں وہ کام کرآئوں، میں نے عرض کیا جی ہاں ! فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ۖ نے مجھے کام تو کوئی نہیں بتلایا ہاں اُحد پہاڑ دیکھ لیا جوکہ بڑا پہاڑ ہے ! ایسا پہاڑ تو نہیں ہے جیسے یہ مری وغیرہ کے اُونچے پہاڑ ہیں لیکن مدینہ منورہ کے قرب و جوار میں اس کا پہاڑ ہونا نمایاں ہے ! تو ارشاد فرمایا کہ اگر میرے پاس اُحد جیسے پہاڑ کے برابر سونا ہو تو میں اُسے اپنے پاس جمع نہ رکھوں وہ سب کا سب خرچ کردُوں ! ! !
آپ اپنا ذاتی مال بھی خرچ فرما دیا کرتے تھے :
اب یہ حال تھا کہ رسول اللہ ۖ کے پاس جو جہاد میں مال آتا تھا اُس میں پانچواں حصہ رسولِ کریم علیہ الصلوٰة والسلام کا ہوتا تھا ! لیکن آپ کے پاس تو کوئی چیز نہیں رہتی تھی ! گھر میں یہ حال رہتا تھا کہ میسر آگیا تو کھالیا نہ میسر آیا رہنے دیا ! تشریف لاتے تھے پوچھتے تھے کوئی چیز ہے کھانے کی ! ؟ جیسے ناشتہ کا وقت ہوتا ہے،اب اگر کھانے کی چیز ہوئی تو تناول فرمالیا اور اگر کہا کہ نہیں ہے تو ارشاد فرما دیتے کہ میرا روزہ ہے، روزہ کی نیت کرلیتے تھے ! یہ جو روپے پیسے کا معاملہ ہے یا دُوسروں کو دینے کا معاملہ ہے یہ آقائے نامدار ۖ کے عمل میں اتنا پایا جاتا ہے کہ کوئی دور ایسا نہیں کہ جس میں آپ نے کبھی کچھ رکھا ہو، یہ ملے گا کہ رکھنے سے گھبرائے ! ! !
ایک حدیث اور آئی ہے اُس میں یہی تھا کہ مال آیا تھا آپ تقسیم فرمارہے تھے، کسی نماز کا وقت آگیا وہاں نماز میں تشریف لے گئے سلام پھیرا تو خلاف ِعادت جلدی سے آپ اُٹھ کر گھر میں تشریف لے گئے !
١ صحیح البخاری کتاب الزکوة رقم الحدیث ١٤٠٨
پھر تشریف لائے تو صحابہ کرام کو دیکھا کہ جیسے تشویش میں ہوں ! ؟ تو فرمایا کہ بات یہ تھی کہ میرے پاس تھوڑا سا سونا رہ گیا تھا، بانٹ تو چکا تھا یہ رہ گیا تھا میں نے کہا کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ میرے پاس رہ جائے اور رات آجائے یعنی پھر اِس کا بانٹنا کل پر جائے ! بعض روایات میں یہ ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ میں دُنیا سے رُخصت ہوجائوں ! ؟ رسول اللہ ۖ تو ہر وقت ہی تیار رہتے تھے ! تو تاخیر کرنا مناسب نہیں تھا اور وہ تھا بانٹنے ہی کے لیے، اگر ملے گا تو یہ کہ آپ کو اپنے پاس باقی رہنے کی وجہ سے تشویش ہوئی ہو، یہ نہیں ملے گا کہ خرچ ہونے کی وجہ سے تشویش ہوتی ہو ! تو عمل بہت ہی بڑی چیز ہوتی ہے ! تو اِرشادات اور تعلیم بھی یہی ہے اور عمل بھی یہی ہے آپ کا ! ! !
حضرت ابوذر کا مسلک :
حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے اس پر اِس طرح عمل کیا کہ اُنہوں نے اسے واجب سمجھ لیا کہ یہی ضروری ہے ! باقی کپڑے ہیں اور ضرورت کا سامان ہے اور چیزیں ہیں اُن کو حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ منع نہیں فرماتے تھے، ہاں سونا چاندی یہ بالکل نہیں ! کہتے تھے کہ یہ جمع رکھنا درست ہے ہی نہیں ! یہ بانٹ ہی دے نکال ہی دے آدمی ! یہ صرف اِن کا مسلک تھا باقی اور کسی کا یہ مسلک نہیں ہے صحابہ کرام میں سے ! یہ ضرور ہے کہ قرآنِ پاک میں جو آیت آئی ہے کہ جمع کرنا منع آیا ہے اور اِس پر یہ آیا ہے کہ عذاب ہوگا ! ! !
بقیہ تمام صحابہ کی رائے :
اس آیت سے جب وہ اِستدلال کرتے تھے تو صحابہ کرام اُن سے عرض کرتے تھے کہ یہ آیت اہلِ کتاب کے بارے میں ہے جو زکوة نہیں دیتے تھے ! اور اب مسلمانوں کے بارے میں(بھی ہے) جو زکوٰة نہ دیں ! جب زکوة دے دیں تو پھر یہ حکم نہیں ہوگا ! یہ وعید اُن لوگوں کے لیے نہیں ہے جو زکوٰة دے دیں تو یہ اجماعی مسلک ہے باقی سب صحابہ کرام کا سوائے حضرت ابوذر عفاری رضی اللہ عنہ کے کیونکہ انہوں نے رسول اللہ ۖ سے وہ کلمات سن رکھے تھے ! اِن سے انہوں نے یہ سمجھا تھا کہ یہ بالکل جائز ہے ہی نہیں کہ روپیہ پیسہ ذرا بھی جمع رکھا جائے تو وہ اِس کے قائل تھے ! ! !
یہاں آقائے نامدار ۖ سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نقل فرماتے ہیں لَوْکَانَ لِیْ مِثْلُ اُحُدٍ ذَھَبًا لَسَرَّنِیْ اَنْ لَّا یَمُرَّ عَلَیَّ ثَلٰثُ لَیَالٍ ١ مجھے اس بات پر یقینا خوشی ہوگی کہ تین راتیں نہ گزرنے پائیں کہ میں سب بانٹ دُوں اورمیرے پاس اس میں سے کچھ بھی نہ بچا ہو۔
اُحد ایک پہاڑ ہے پہاڑ کے برابر ہونا بہت بڑی چیز ہوتی ہے ! یہ جو پتھر کاٹتے ہیں سرگودھا میں یہ اب تقریبًا چالیس سال کے قریب اُن لوگوں کو ہوگئے ہیں ! نظر تو یہ آتا ہے کہ یہ چھوٹے موٹے پہاڑ ہیں لیکن ان ہی میں سے وہ کاٹ کاٹ کر لارہے ہیں ! کریشر لگے ہوئے ہیں اور گاڑیوں کی گاڑیاں بھری ہوئی آتی ہیں اور سڑکیں بنتی ہیں ! اور کیا کیا ہوتا ہے ! اور پورے سیزن ہوتا ہے مارچ تک ساری سردیاں وہ توڑتے رہتے ہیں ! اور پہاڑ پھر ویسے کا ویسے ہی ہے ! اس سے مثال دی ہے آقائے نامدارۖ نے ! !
اسلام میں گویا انتہائی زور دیا گیا ہے کہ لوگ دوسرے لوگوں کا خیال کریں اور جس کے پاس مال ہے وہ دوسروں کو تقسیم کردے ! اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی مرضیات کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔اختتامی دُعا....
(مطبوعہ ماہنامہ انوارِ مدینہ اکتوبر ١٩٩٣ئ)

Have a question?

Email us your queries on jamiamadniajadeed@gmail.com you will be answered in less than 24 hours or Give us a call directly at +92 333 4249302, +92 333 4249 301.