jamiamadniajadeed

مذہبی آزادی کفار نے سلب کی

درس حدیث 281/39 ۔۔۔۔۔ مذہبی آزادی کفار نے سلب کی ! حضرت عمر کے گھر پر چڑھائی ''زمانے'' کو خدا ماننے والے دہریے ! ''کیمونزم''کی بنیاد ''نفی''پر ہے عقل سے بالا اُمور کے لیے اَنبیاء بھیجے گئے ! وڈیروں کے مزدُوروں پر مظالم ! (1988-01-24)

حضرت اقدس پیر و مرشد مولانا سیّد حامد میاں صاحب کا مجلسِ ذکر کے بعد درسِ حدیث ''خانقاہِ حامدیہ چشتیہ'' رائیونڈ روڈ لاہور کے زیرِانتظام ماہنامہ '' انوارِ مدینہ'' کے ذریعہ ہر ماہ حضرت اقدس کے مریدین اور عام مسلمانوں تک باقاعدہ پہنچایا جاتا ہے اللہ تعالیٰ حضرت اقدس کے اِس فیض کو تا قیا مت جاری و مقبول فرمائے،آمین۔
مذہبی آزادی کفار نے سلب کی ! حضرت عمر کے گھر پر چڑھائی
''زمانے'' کو خدا ماننے والے دہریے ! ''کیمونزم''کی بنیاد ''نفی''پر ہے
عقل سے بالا اُمور کے لیے اَنبیاء بھیجے گئے ! وڈیروں کے مزدُوروں پر مظالم !
(درس نمبر 38کیسٹ نمبر83-B 24 - 01 - 1988 )
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَیْرِ خَلْقِہ سَیِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہ وَاَصْحَابِہ اَجْمَعِیْنَ اَمَّابَعْدُ !
آقائے نامدار ۖ نے ارشاد فرمایا تھا کہ وساوس آتے ہیں ،اور ایک آدمی تو وہ ہے کہ جو اِن سے قطع نظر کر لے آخرت سے بھی معاذ اللہ قطع نظر کرلے فقط دُنیا پر نظر رکھے ( اِنْ ھِیَ اِلَّاحَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوْتُ وَنَحْیَا وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِیْنَ) اس طرح کا عقیدہ پہلے بھی تھا کہ وہ کہتے تھے کہ بس یہی زندگی ہے جو ہے اور آخرت میں نہیں اُٹھایا جائے گا ! بہت بے خوف اور بہت لالچی اور بہت ظالم ! !
حضرت خباب رضی اللہ عنہ بہت بڑے صحابی ہیں شروع میں اسلام لے آئے انہیں تکلیف پہنچائی جاتی تھی انگاروں پر لٹایا گیا اور ان کی کمر میں انگارے دھنس گئے چربی نکل آئی ! تو وہ لوہے کا کام کرتے تھے لوہار تھے ! خاندان کے لحاظ سے تو کوئی چیز نہیں وہ توپیشہ ایک بن جاتا ہے تو انہوںنے عاص اِبن وائل سہمی کی فرمائش پر اُسے کچھ سامان بنا کے دیا لوہے کا پھر اُس کے پاس گئے پیسے لینے وہ ٹلاتا رہا ! یہ نہیں کہ پیسے تھے نہیں دے نہیں سکتا تھا ! بلکہ بڑاآدمی تھا اور بڑا با اَثرتھا مگر یہ کہ جیسے مزدُوری ٹلانی ہوتی ہے، حضرت خباب رضی اللہ عنہ تو بہرحال مزدور ہی تھے ! !
یہ عاص اِبن وائل سہمی جو تھے یہ حضرت عمرو اِبن عاص جو بہت معروف صحابی ہیں ان کے باپ تھے ! حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دوست تھے ! !
مذہب کیوں بدلا ؟
جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسلمان ہوگئے تو ان کے گھر پر چڑھائی کر دی کفارنے ! گھیراؤ یا چڑھائی اس طرح کی چیزیں پہلے بھی تھیں مگر وہ چڑھائی تھی گھیراؤ نہیں تھا ! تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے عبداللہ جو چھوٹے سے بچے تھے اُس وقت ! وہ نقل کرتے ہیں کہ میں اُوپر تھا چھت پہ دیکھ رہا تھا بہت لوگ جمع ہیں مجمع بہت بڑا جمع ہے ! حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بے بس جیسے تھے کچھ نہیں کرسکتے تھے ! تو اتنے میں ایک شخص آیا اُس کا حلیہ بتایا بڑا عمدہ لباس ! لباس کی بھی اُنہوں نے کیفیت بتائی کہ یہ یہ چیزیں تھیں ایسے تھا ایسے تھا وہ آیا ! اور اُس نے آکے اُن کو سمجھایا اور اُنہیں کہا کہ دیکھو میںاُن کا دوست ہوں حمایتی ہوں ! تو تم لوگ ایسی کوئی چیز نہیں کر سکتے ! بس اُس کا یہ کہنا تھا کہ لوگ چھٹ گئے یہی عاص اِبن وائل تھا، مطلب یہ ہے کہ بڑا با اَثر اور بڑا سمجھدار اور غریب نہیں متمول تھا !
''این جی اَوز ''والا جبر :
مگر اُنہیں پیسے دیتے وقت تنگ کرنا یہ کوئی خاص(بری) بات تھی ہی نہیں (ان وڈیروں کی نظر میں) اورپھر یہ تو مسلمان تھے اِن سے تو چڑ تھی اُن کو ! تو جب انہوں نے تقاضا کیا تو آخرت پر اُس کا ایمان تھا ہی نہیں تو وہ کہنے لگا کہ میں تودُوں گا جب تم محمد ۖسے الگ ہوجاؤ حَتّٰی تَکْفُرَ بِمُحَمَّدٍ اُن کا انکار کرو ! نبوت کا جو اِقرار کررکھا ہے اس سے تم پھر جاؤ پھر تو میں تمہیں پیسے دُوں گا ورنہ نہیں دُوں گا ! !
ممکن ہے سامان یامال زیادہ تیار کرا رکھا ہو، توایمان کے تو یہ بہت زیادہ پختہ تھے انہوں نے کہا نہیں یہ تو ممکن ہی نہیں ہے ! حتی کہ جب مرے گا تو پھر زندہ ہوگا تو اُس وقت تک بھی یہ ممکن نہیں حَتّٰی تَمُوْتَ ثُمَّ تُبْعَثَ ١ اُس نے کہا کہ اچھا کیا میں مروں گا تو پھر زندہ بھی ہوں گا ! ! ؟
انہوں نے کہا کہ ہاں زندہ تو ہو گے ! !
اُس(عاص بن وائل) نے کہا کہ اچھا ایسے ہوگا ! ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ایسے تو ہونا ہے اُس نے کہا اچھا جب میں دوبارہ زندہ ہوں گا تو وہاں میرے پاس ظاہر ہے کہ یہ جو مال میں چھوڑ کر جاؤں گا یہاں جمع کیا ہوا یہ بھی ہوگا ! میری اولاد بھی ہوگی وہاں ! تو میں پھر اُس وقت وہاں تمہیں دے دُوں گا ! ( لَاُوْتَیَنَّ مَالًا وَّ وَلَدًا ) سورۂ طٰہٰ کے آخر میں یہ آیتیں جو اُتری ہیں یہ اسی کے بارے میں ہیں اسی واقعہ پر اسی سوال وجواب پر اُتری ہیں ! ! ! غرض پیسے نہیں دیے تو ایک طبقہ تو وہ ہے جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتا تھا وہ پہلے بھی پایا جاتا تھا ! ! !
مرنے کے بعد پھر زندگی :
اور بہت زیادہ قرآنِ پاک میں اس کی تاکید ہے جگہ جگہ تذکرہ ہے کہ دوبارہ اُٹھائیں گے اور یہ کہ اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی مشکل نہیں( اَللّٰہُ یَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُہ ) پیدا فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ پھر دوبارہ اُٹھائیں گے ( وَھُوَ اَھْوَنُ عَلَیْہِ ) اور اللہ کے لیے سب آسان ہے !
اور(ہم) دن رات دیکھتے ہیں کہ ایک چیز پیدا ہوتی ہے وہ کھالی جاتی ہے فنا ہوجاتی ہے یا بیچ جو آپ ڈالتے ہیں وہ بھی تو مٹی میں ڈال دیتے ہیں فنا ہی ہوجاتا ہے ! یہ الگ بات ہے کہ وہ نکل آئے ، نہ نکلے تو فناہی ہوگیا اُس کی وہ شکل توپھر نہیں رہتی ! وہ تو اور نئی چیز بن کر نکلتا ہے پھر اُس میں سے ہی وہ چیز پھر پیدا ہوتی ہے جو اُس کی اصل تھی پھر گیہوں نکلتا ہے ! تو اللہ تعالیٰ نے قرآنِ پاک میں بہت جگہ قیامت کا، دوبارہ اُٹھنے کا یہ ذکر فرمایا حشرو نشر اور حساب تاکہ جو کچھ کرتا ہے اُس کا بدلہ دیاجا سکے اُسے ! ( لِتُجْزٰی کُلُّ نَفْسٍ بِمَا تَسْعٰی )
١ بخاری شریف کتاب الاجارة رقم الحدیث ٢٢٧٥
''دہر''کو خدا قرار دینا :
ایک طبقہ وہ ہے کہ جو ''زمانے'' کو بس خدا مانتا ہیں ! ''دَہریے'' جنہیں کہتے ہیں وہ بھی پہلے (سے )تھا یہ نیا نہیں ہے اور ( مَا یُھْلِکُنَا اِلاَّ الدَّھْرُ وَمَا لَھُمْ بِذٰلِکَ مِنْ عِلْمٍ ) اور سب کے جواب میں انبیائے کرام ہر جگہ آتے رہے ہیں ! اور اُن کو غلطیاں بتلاتے رہے ہیں اور صحیح عقیدہ بتلاتے رہے ہیں ! یہ عقائد جو ہم تک پہنچے ہیں اسلام میں محفوظ ہیں مکمل حالت میں محفوظ ہیں ! باقی مذہبوں میں بھی(توحید وغیرہ کے عقائد اَدھوری حالت میں) پائے جاتے ہیں ! اہلِ کتاب یہود ہوں نصاریٰ ہوں اور ہندوؤں میں بھی جن کے یہاں کوئی کتاب نازل ہوئی ہے اور اِن (ہندؤوں کے بارے میں)مغل دور میں تو کچھ علماء نے فتوی دیا تھا کہ یہ اہلِ کتاب ہی ہیں ! ! کیونکہ ان کی ''وید ''یا اور چیزیں اس طرح کی جو ہیں اُن کی وجہ سے اُنہوں نے کہا کہ یہ بھی کوئی اہلِ کتاب ہیں ! حالانکہ یہ حقیقی طورپر معلوم نہیں کہ وہ کسی نبی کی کتاب ہے یا کسی صوفی یامصلح کی تصنیف ہے ! کوئی پتہ اُس کا ایسے نہیں، سندمتصل نہیں کوئی،تو نا تمام حالت میں توبہت مذاہب میں ملتی ہیں چیزیں وہ اسلام کی تعلیمات سے ملتی جلتی اور نامکمل حالت میں ہیں، مکمل حالت میں اسلام میں ہیں ! !
تواُس دور کا ایک طبقہ ایسا تھا جویہ کہتاتھا( نَمُوْتُ وَنَحْیَا وَمَا یُھْلِکُنَا اِلاَّ الدَّھْرُ ) بس یہ زندگی اور موت جو بھی ہے وہ یہی ہے اور یہ بھی اس میں کہتے تھے کہ یہ پرانی باتیں چلی آرہی ہیں ہمیں اور ہمارے ماں باپ سے یہ وعدے کیے جاتے رہے ہیں ( لَقَدْ وُعِدْنَا نَحْنُ وَاٰبَاؤُنَا ھٰذَا مِنْ قَبْلُ اِنْ ھٰذَا اِلَّا اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ ) تواُنہوں نے ان چیزوں کو پس ِ پشت ڈال دیا تھا ! تو یہ طبقہ پہلے بھی تھا درمیانِ دور میں بھی رہا ہوگا اور اب بھی ہے جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ! ! !
''کیمونزم'' کی بنیاد'' نفی'' پر ہے :
یہ ''کیمونزم'' جو ہے اس کی بنیاد نفی ٔ خدا پر ہے ! سوشل اصلاحات اور نفی ٔ خدا ! جو کچھ ہے وہ سب ہم ہی ہیں اور ہم ہی کرتے ہیں اور جو کرتے ہیں وہ ہوتا ہے وغیرہ ! ایسے خیالات اور ایسے افکار اُن کے ہیں ! تو یہ دور اور یہ چیزیں پہلے بھی تھیں(ان کے فاسد) عقائد میں ! اسلام نے اُن کی نفی کردی ! ! !
اس دُنیا کے بعد :
اب اسلام نے بتادیا کہ آخرت بھی ہے ! مرنے کے بعد دوبارہ زندہ بھی ہوناہے ! بلکہ زندگی فورًاشرو ع ہوجاتی ہے ! اور وہ دوسری زندگی ہے اور اُس میں اچھائی یابرائی انسان کے ساتھ فورًا ہونے لگتی ہے ! یا جنت کی طرف اور اُس کے آثار ! یا معاذ اللہ نار اور اُس کے آثار جوبھی چیزیں ہیں ! اور قبرسے ہی شروع ہوجاتی ہیں ! یعنی بس ختم ہوا اور اُس کے (فورًا) بعد ! کسی کوجلا بھی دیا جائے تو بھی کوئی حرج نہیں ہے وہ تو اجزاء ہیںاُس کے ! اب تو آسانی سے سمجھ میں آجاتی ہے ! ایک ایٹم جو ہوتاہے اُس میں کیا کیاطاقتیں بھری ہوئی ہوتی ہیں ! ؟ تو جلنے کے بعد جو اَجزاء ہیں اُس کے جسم کے اُن میں سے کسی جزو سے حیات ڈال کر سوال کیا جا سکتا ہے ! !
یہاں آنے سے پہلے :
اور اپنی پیدائش کی طرف(انسان کو) توجہ دلائی اور جگہ جگہ ہے (خَلَقَکُمْ مِّنْ طِیْنٍ) (مِنْ سُلَالَةٍ مِّنْ طِیْنٍ )اور(مِنْ نُطْفَةٍ ) اور( خَلَقَہ فَقَدَّرَہ ) اور پھر اس طرح سے( عَلَقَةٍ ثُمَّ مُضْغَةٍ ) اور حدیث شریف میں مزید اُس کی تشریحات آئیں کہ اللہ تعالیٰ اس طرح سے پیدا فرماتے ہیں
اور جو فرشتہ مُوَکَّل ہوتا ہے مامور ہوتا ہے وہ پوچھتا رہتا ہے اللہ تعالیٰ سے کہ اب اتنا ! اب اتنا ! اب اتنا ! اب یہ مذکر ہوگا یا مؤنث ہوگا ؟ اور شَقِیّ اَمْ سَعِیْد یہ بد بخت ہوگا یا نیک بخت ! تو وہ سب یُکْتَبُ فِیْ بَطْنِ اُمِّہ (اپنی ماں کے پیٹ میں لکھ دی جاتی ہیں) اس طرح کی تعلیمات (اسلام نے) جب دیں اور انسان کو پتہ چلا کہ(صرف) دُنیا نہیں آخرت بھی ہے ! اور آخرت میں اتنا ہے کہ جو دُنیا میں نہیں ہے ! اور یہ جو دُنیامیںہے یہ عارضی ہے قطعی طور پر ! اور یہ بالکل ناقابلِ اعتبار ہے .................. تو پھر اُس میں شیطان کودخل ہونا شروع ہوگیا، حدیث شریف میں آتا ہے کہ
اِنَّ لِلشَّیْطَانِ لَمَّةً بِابْنِ آدَمَ وَ لِلْمَلَکِ لَمَّة ١ شیطان بھی اسی طرح سے نزول کرتا ہے انسان پر یا ویوز(waves) پھینکتاہے اپنی چیز کو اُتارتا ہے اُس کے دل میں ! ! اور فرشتہ بھی اسی طرح ! ! یہ نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اُسی کے حوالے کردیا ،نہیں ! مدد بھی فرمائی ! تو یہ جوشیطانی چیزیں ہوتی ہیں اور وساوس ہوتے ہیں وہ پیچھے کی طرف چلے جائیں کہ کس نے پیداکیا ؟ پھر کس نے ؟ پھر کس نے ؟ یا آگے کی طرف چلے جائیں پھر کیا ہوگا ؟ پھر کیا ہوگا ؟ پھر کیا ہوگا وغیرہ ، ان کو فرمایا گیا یہ کوئی گھبرانے کی چیز نہیں یہ ایمان کی علامت ہے ! ! ! اور اس کا علاج بتایا گیا کہ فَلْیَنْتَہِ وہاں رُک جائے دوسرے کام میں لگ جائے اور یہ بھی علاج بتایاگیا کہ فَلْیَسْتَعِذْ بِاللّٰہِ اعوذ باللہ کہہ لے۔
اور ایک حدیث شریف کی کتاب ہے ابوداود شریف اُس میں میں دیکھ رہا تھا تو اُس میں علاج ایک اور ہے جوبہت آسان سی آیت ہے ( ھُوَالْاَوَّلُ وَالْاٰخِرُ وَالظَّاہِرُ وَالْبَاطِنُ وَھُوَ بِکُلِّ شَیْ ئٍ عَلِیْم) کہ یہ کہہ لیا کرو اِس کو پڑھ لیا جائے ترجمہ دیکھ لیاجائے یہ سورۂ حدید کی ہے ستائیسویں پارے میںیہ پڑھ لینا یہ بھی وساوس کا علاج ہے ! ! ٢
تو''ماضی ''کیا ہے ؟ غورکرتے جائیں ! انتہا تک پہنچ ہی نہیں سکتے عقل وہاں رُک جائے گی ! ! اور ''مستقبل'' کیا ہے ؟ یہاں بھی اسی طرح عقل تھک جائے گی ! ذاتِ باری تعالیٰ جس کی وحدت پر ایمان ہے کہ وہ ایک ہے ! اورایک ہی پر جا کر رُکتی ہے چیز ! اُس پر ایمان ہے ! وہاں بھی عقل جواب دے جاتی ہے ! ! !
عقل سے بالا اُمور کے لیے انبیاء کو بھیجا گیا :
تو جن چیزوں میں ایسی چیز تھی کہ جو سمجھ سے باہر تھی وہاں انبیائے کرام علیہم الصلٰوة والسلام بھیجے گئے اُنہوں نے تعلیم دی سمجھایا بتلایا رہبری کی ! اب اُس میں وسوسے آجاتے ہیں جب وسوسے آتے ہیں پھر اُس کا علاج یہ ہے کہ اس طرح سے رُک جائے کسی اور کام میں لگ جائے چھوڑ دے !
١ مشکوة شریف کتاب الایمان باب الوسوسة رقم الحدیث ٧٤
٢ ابوداود شریف کتاب الادب باب فی رد الوسوسة رقم الحدیث ٥١١٠
کیونکہ ماوراء العقل ہے اور جو چیز عقل سے پرے ہے اُس پرعقل کی روشنی پہنچ نہیں سکتی ! وہاں تک پہنچ نہیں ہوسکتی اس دُنیا میں ! ہاں اِس دُنیا سے جب نکل جائے اور (خالص)رُوحانی دور شروع ہو تو وہ رُوحانی پہنچ الگ بات ہے ! باقی عقلی مادّی(چیزکی اتنی رسائی) نہیں ہوسکتی ! ! ؟
تو آقائے نامدار ۖ نے علاج بتایا کہ لگ جائے دوسرے کام میں اور چھوڑ دے ، ذہن دُوسری طرف لگالے ! لیکن اگر کسی کو دُعائیں آسکتی ہیں تو پھر دُعائیں بھی بتادیں اُس کے لیے اَعُوْذُ بِاللّٰہْ پڑھ لے اور تیسر ی چیز یہ آیت مثلاً( ھُوَ الْاَوَّلُ وَالْاٰخِرُ وَالظَّاہِرُ وَالْبَاطِنُ وَھُوَ بِکُلِّ ّ شَیْیٍٔ عَلِیْم ) یہ کہہ لینا بھی وساوس کا علاج ہے ! یہ کہہ لے اور پھر دُوسرے کام میں لگ جائے ! !
اللہ تعالیٰ ہم سب کو غیر متزلزل ایمان عطا فرمائے اِیْمَانًا لَا یَرْتَدُّ وَنَعِیْمًا لَا یَنْفَدُ وَقُرَّةَ عَیْنٍ لَا تَنْقَطِعُ آمین، اختتامی دُعا..........

Have a question?

Email us your queries on jamiamadniajadeed@gmail.com you will be answered in less than 24 hours or Give us a call directly at +92 333 4249302, +92 333 4249 301.