jamiamadniajadeed

نبیوں کے جنات مسلمان ہوجاتے ہیں

درس حدیث 280/38 ۔۔۔۔۔ نبیوں کے جنات مسلمان ہوجاتے ہیں ! ابلیس ِ اَوّل کی نسل میں بھی مسلمان ہیںوسوسوں کا علاج (1988-01-17)

حضرت اقدس پیر و مرشد مولانا سیّد حامد میاں صاحب کا مجلسِ ذکر کے بعد درسِ حدیث ''خانقاہِ حامدیہ چشتیہ'' رائیونڈ روڈ لاہور کے زیرِانتظام ماہنامہ '' انوارِ مدینہ'' کے ذریعہ ہر ماہ حضرت اقدس کے مریدین اور عام مسلمانوں تک باقاعدہ پہنچایا جاتا ہے اللہ تعالیٰ حضرت اقدس کے اِس فیض کو تا قیا مت جاری و مقبول فرمائے،آمین۔
نبیوں کے جنات مسلمان ہوجاتے ہیں ! ابلیس ِ اَوّل کی نسل میں بھی مسلمان ہیں
وسوسوں کا علاج
(درس نمبر37 کیسٹ نمبر83-A 17 - 01 - 1988 )
( تخریج و تزئین : مولانا سیّد محمود میاں صاحب )
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَیْرِ خَلْقِہ سَیِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہ وَاَصْحَابِہ اَجْمَعِیْنَ اَمَّا بَعْدُ !
آقائے نامدار ۖ نے ارشاد فرمایا مَامِنْکُمْ مِّنْ اَحَدٍ اِلَّا وَقَدْ وُکِّلَ بِہ قَرِیْنُہ مِنَ الْجِنِّ وَقَرِیْنُہ مِنَ الْملٰئِکَةِ کوئی آدمی ایسا نہیں ہے کہ جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ایک ساتھی ساتھ رہنے والا ہر وقت'' جن'' کی نسل میں سے اور ایک'' فرشتہ'' مقرر نہ فرما رکھا ہو !
توہر انسان کے ساتھ شیطان بھی ہوتا ہے اور ایک فرشتہ بھی ہوتا ہے ،ویسے تو بہت فرشتے ہوتے ہیں جسم پر اور جسم کے جوڑوں پر مامور وغیرہ وغیرہ کوئی انداز نہیں اُن کی تعداد کا ! اللہ تعالیٰ ہی جان سکتے ہیں ! اسی طرح ایک شیطان بھی ساتھ ساتھ رہتا ہے جیسے وہ ساتھ ویسے ہی یہ ساتھ، یہ قرین جنات میں سے ہے نسل ِ جن( سے ہے) اور یہ کیفیات جو دل میں پاتے ہو اُس کی وجہ یہ ہوتی ہے اصل میں( فرشتہ نیکی کی بات دل میں ڈالتا ہے شیطان برائی کی ،اسی وجہ سے انسان بعض اوقات متردّد ہوتا ہے ) انبیائے کرام کو تو دونوں چیزیں نظر آتی تھیں فرشتے بھی نظر آتے تھے جن بھی نظر آتے تھے !
صحابہ کرام نے دریافت کیا کہ جب یہ بات ہے تو جناب کے ساتھ بھی یہ(شیطان) ہوگا تو آقائے نامدار ۖ نے فرمایا وَاِیَّایَ میرے ساتھ بھی ہے وَلٰکِنَّ اللّٰہَ اَعَانَنِیْ عَلَیْہِ فَاَسْلَمَ ١ لیکن اللہ نے میری مدد فرمائی ہے اُس کے مقابلے میں اُس کے شر کے مقابلے میں تو وہ مسلمان ہو گیا ہے تو خاص شیطان کی نسل میں بھی ایک مسلمان ہے !
حدیث شریف میں ویسے بھی آتا ہے کہ رسول اللہ ۖ ایک دن باہر تشریف لے گئے صحابہ کرام بھی تھے کھلی جگہ تھی میدان جیسے ہو وہاں آپ نے ایک شخص کو آتے ہوئے دیکھا تو دُور سے ہی فرمایا کہ مِشْیَةُ جِنِّیٍّ یہ چال جو ہے یہ جنی چال ہے جِن جیسی چال ہے ! وہ قریب آ گیا اُس نے سلام کیا ! بات کی تو رسول اللہ ۖ نے اُس سے دریافت کیا کہ تو کون ہے ؟ شیطان ہے ؟ تو اُس نے اقرار کیا ! لیکن اُس نے کہا کہ میں مسلمان ہوں میں آپ پر ایمان رکھتا ہوں ! تو اُسی ابلیس کی نسل سے تھا ! جیسے آدم علیہ السلام کی نسل چلی ویسے اُس کی خاص نسل بھی اسی قدر چلتی ہے جتنی انسان کی ! یہ ساتھ لگا ہی ہوا ہے ! تو تھا وہ ابلیسِ اَوّل کی قریبی اولاد یا اُس کے خاص بیٹوں میں سے ہو گا !
آپ کے نام نبیوں کا پیغام :
تو اُس نے کہا کہ میں نے فلاں نبی کو بھی دیکھا ! فلاں کو بھی ! اور فلاں سے بھی ملا ہوں ! اور اُنہوں نے یہ پیغام دیا تھا جناب کے لیے وہ پیغام بھی پہنچایا اُس نے اور رسول اللہ ۖ نے اُس کی سب باتوں کی تصدیق فرمائی ! تو اُن (شیاطین)میں بھی اللہ تعالیٰ نے مستثنیٰ رکھے ہیں ! اسی طرح انبیائے کرام، اللہ تعالیٰ نے اُن کے ساتھ جو یہ لگائے ہیں شیطان ،تو پیدا تو وہ ہو گئے لیکن کفر پر نہیں رہے مسلمان ہوگئے ! !
مجذوبوں کاشیطان :
اسی طرح سے سننے میں آیا ہے کہ حقیقی معنی میں جو مجذوب ہوں اُن کے ساتھ بھی یہ شیطان ہوتے ہیں یہ بھی مسلمان ہوتے ہیں تو اُنہیں وسوسے نہیں آتے اور کوئی چیز ایسی نہیں پیدا ہوتی ! ورنہ(ان کے علاوہ لوگوں کو) وسوسے آتے ہیں ۔
١ مشکوة شریف کتاب الایمان رقم الحدیث ٦٧
ان کا علاج :
تو رسول اللہ ۖ نے وسوسے آنے کے لیے فرمایا ہے کہ مثلاً پیدائش کے بارے میں وسوسہ آتا ہے ! شیطان دل میں ڈالتا ہے اِسے کس نے پیدا کیا ؟ تو اُسے کس نے پیدا کیا ؟ تو اُسے کس نے پیدا کیا ؟ اللہ تعالیٰ تک پہنچ جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ! پھر دماغ میں یہ وسوسہ ڈالتا ہے وہ کہ اللہ کوکس نے پیدا کیا ! ؟ تو آقائے نامدار ۖ نے اس کا علاج بتایا کہ اَعُوْذُ بِاللّٰہْ پڑھ لے اور رُک جائے ! اپنے ذہن کو اُدھر کے بجائے کسی اور طرف لگالے ! ! !
اہلِ معرفت کی خصو صیت :
اور اصل میں جو حضرات ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اُن کو یہ توفیق بخشی ہے اور خداوند ِ قدوس نے خاص عنایت فرمائی ہے اور اپنی معرفت عطا فرمادی ہے تو اس مسئلہ پر یہ وسوسہ جو خاص ہے یہاں پر ان کو پیش نہیں آتا ! گویا اللہ تعالیٰ اُن کو نکال دیتے ہیں اس وسوسہ سے ! یہ مسئلہ اُن کی سمجھ میں آچکتا ہے ! باقی عام آدمی ،تو نہیں سمجھ میں آتا اُس کی ! اُس کا ذہن چلتا ہے اور یہ وسوسہ بھی آجاتا ہے ! !
توجیسے صحابہ کرام نے ذکر کیا تھا کہ ہمارے ذہن میں وسوسے آتے ہیں اور ایسے آتے ہیں کہ دل بھی نہیں چاہتا زبان پہ نہیں لاسکتے ! ! تو رسو ل اللہ ۖ نے فرمایا تھا اَوَقَدْ وَجَدْتُّمُوْہُ
کیا یہ چیز تم پاتے ہو ؟ اور صحابہ کرام نے عرض کیا تھا کہ پاتے ہیں تو فرمایا تھا ذَاکَ صَرِیْحُ الْاِیْمَانِ ١
یہ تو بالکل خالص ایمان ہونے کی دلیل ہے ! خالص مومن ہونے کی دلیل ہے ! کوئی کافر ہو تو وسوسوں سے پریشان نہیں ہوگا ! ہاں مومن ہو تو پریشان ہوگا ! تو پریشانی دلیل ہے ایمان کی ! اور وسوسے بھی پھر اُسے ہی آتے ہیں ! جیسے میں نے عرض کیا تھا کہ وہ کہتے ہیں کہ چور وہیں آتا ہے جہاں سامان ہو مال ہو ! ورنہ کیا کرے گا آکے ؟ تو یہ ایمان ہونے کی دلیل ہے یہی رسول اللہ ۖ نے ارشاد فرمایا ہے ! ! !
١ مشکوة شریف کتاب الایمان رقم الحدیث ٦٤
وسوسہ کی دُعا :
اس کے علاج کے لیے دُعا ارشادفرمائی ہے کہ وسوسے آئیں تویہ ہے کہ اَعُوْذُ بِاللّٰہْ پڑھ لے اور دُوسرا علاج یہ ہے اٰمَنْتُ بِاللّٰہِ وَرُسُلِہ کہہ دے کہ میں اللہ اور اُس کے رسولوں پر ایمان رکھتا ہوں یعنی اللہ کی ذات پر توحید پر کہ وہ یکتا ہے نہ وہ کسی سے پیدا ہوا ، نہ کوئی اُس سے پیدا ہوا ! ! !
وَرُسُلِہ اُس کے پیغمبروں پر ایمان ہے کہ جو کچھ اُنہوں نے خدا کی طرف سے پہنچایا ہے وہ حق ہے اور سچ ہے ، یہ کہہ لے ! !
پیدائش کے وقت بچہ کا رونا :
اور فرمایا کہ جب پیدا ہوتا ہے تو اُس کو شیطان چھوتا ہے اور اُس کے چھونے سے وہ روتا ہے ! اور ارشاد فرمایا کہ سوائے مریم علیہا الصلٰوة والسلام وابنہا یعنی ماں اور بیٹا وہ دو ایسے تھے کہ اُنہیں شیطان نے چھوا ہی نہیں بالکل ! اُن کو خدا نے اس سے بچائے رکھا ! تو ہر چیز میں مستثنیٰ مل جائیں گے !
حضرت موسٰی علیہ السلام کی خصوصیت :
جیسے کہ حضرت موسٰی علیہ السلام کے بارے میں آتا ہے قیامت کے دن جب میں اُٹھوں گا تو دیکھوں گا کہ موسٰی علیہ السلام عرش تھامے ہوئے ہیں بَاطِش بِالْعَرْشِ اور فرماتے ہیں کہ میں نہیں سمجھ سکتا یا یقینی طور پر ایک بات نہیں کہہ سکتا کہ یہ مجھ سے پہلے ہوش میں آگئے ! یا جو'' طُور'' پر قصہ پیش آیا تھا اور یہ بے ہوش ہوئے تھے تجلی ٔ باری تعالیٰ سے اُس کی وجہ سے قیامت کے دن بے ہوش نہیں ہوں گے ! ! !
اور قرآنِ پاک میں تو ہے ( وَنُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَصَعِقَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَمَنْ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآئَ اللّٰہْ ) جب صور پھونکاجائے گا وہ صور جو ختم کرنے کے لیے ہوگا تو پھر سب بیہوش ہوجائیں گے (فَصَعِقَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ)آسمانوں میں جو مخلوقات ہیں وہ بھی (وَمَنْ فِی الْاَرْضِ ) جو زمین میں ہیں وہ بھی
( اِلَّا مَنْ شَآئَ اللّٰہْ )سوائے اُس کے کہ جسے خدا چاہے ! یعنی کوئی ہیں ایسے جو مستثنیٰ ہیں،
اس (صور) سے بیہوش نہیں ہوں گے ! لیکن وہ کون ہیں اُن کی صراحت حدیث شریف میں نہیں پائی گئی اور قرآنِ پاک میں بھی اُن کا ذکر نہیں جیسے حضرت مریم علیہا السلام مستثنیٰ ہوگئیں عیسیٰ علیہ الصلٰوة و السلام مستثنیٰ ہوگئے کہ شیطان (پیدائش کے وقت) چھوتا ہے مگر ان دو کو نہیں چھوا ! اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی رضا اور فضل اور رحمتوں سے دُنیاا ورآخرت میں نوازتا رہے، آمین۔ اختتامی دُعا ...

Have a question?

Email us your queries on jamiamadniajadeed@gmail.com you will be answered in less than 24 hours or Give us a call directly at +92 333 4249302, +92 333 4249 301.