ماہنامہ انوار مدينہ <br> جلد : ١٨ جمادی الاوّل ١٤٣١ھ / مئی ٢٠١٠ء شمارہ : ٥ <br> ٭٭٭ <br> سےّد محمود میاں مدیر اعلٰی <br> سےّد مسعود میاں نائب مدیر <br> ٭٭٭ <br> بدلِ اشتراک <br> پاکستان فی پرچہ ١٧ روپے .......... سالانہ ٢٠٠ روپے <br> سعودی عرب،متحدہ عرب امارات..... سالانہ ٧٥ ریال <br> بھارت ،بنگلہ دیش ............. سالانہ ٢٠ امریکی ڈالر <br> برطانیہ،افریقہ ........................ سالانہ ٢٠ ڈالر <br> امریکہ .................................. سالانہ ٢٥ ڈالر <br> جامعہ مدنیہ جدید کا اِی میل ایڈ ریس <br> E-mail: jmj786_56@hotmail.com <br> fatwa _abdulwahid1 @hotmail.com <br> ترسیل ِزر و رابطہ کے لیے <br> دفتر ''انوارِ مدینہ ''نزدجامعہ مدنیہ کریم پارک راوی روڈ لاہور <br> اکاؤنٹ نمبر انوارِ مدینہ <br> 0095402010079142 <br> مسلم کمرشل بنک کريم پارک برانچ راوي روڈ لاہور(آن لائن) <br> جامعہ مدنیہ جدید : 924235330311+ <br> خانقاہِ حامدیہ : 924235330310+ <br> فون / فیکس : 924237703662+ <br> رہائش ''بیت الحمد'' : 924236152120+ <br> موبائل نمبر : 923334249301+ <br> مولاناسیّد رشید میاں صاحب طابع وناشر نے شرکت پرنٹنگ پریس لاہور سے چھپواکر <br> دفتر ماہنامہ ''انوارِ مدینہ '' نزد جامعہ مدنیہ کریم پارک راوی روڈ لاہور سے شائع کیا <br> <br> <br> <br> <br> اس شمارے میں <br> ٭٭٭ <br> حرفِ آغاز ٣ <br> درس ِحدیث حضرت اَقدس مولانا سیّد حامد میاں صاحب ٥ <br> ملفو ظات شیخ الاسلام حضرت مولانا ابو الحسن صاحب بارہ بنکوی ١٤ <br> قیام ِپاکستان اورمسلمانانِ برصغیر کے لیے... حضرت اَقدس مولانا سیّد حامد میاں صاحب ١٩ <br> تربیت ِاَولاد حضرت مولانا محمداشر ف علی صاحب تھانوی ٣٤ <br> حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا حضرت مولانا محمد عاشق الٰہی صاحب ٣٨ <br> اِسلام کی اِنسانیت نوازی حضرت مولانا مفتی محمد سلمان صاحب منصورپوری ٥٠ <br> گلدستہ ٔ ا حادیث حضرت مولانا نعیم الدین صاحب ٥٢ <br> دینی مسائل ٥٤ <br> تقریظ و تنقید ٥٧ <br> اخبار الجامعہ محمد اِنعام اللہ ،متعلم جامعہ مدنیہ جدید ٦١ <br> <br> <br> <br> <br> حرفِ آغاز <br> ٭٭٭ <br> نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم امابعد! <br> اپریل کے شروع کی بات ہے کہ میں نے کسی ضروری کام کے لیے دعوت نامہ پر لکھا ہوا مولانا عبدالغفور صاحب حیدری ناظم جمعیت علمائِ اِسلام کا فون نمبر ملایا،خیال تھا کہ وہ خود مل جائیں گے مگر دُوسری طرف سے کسی اَور صاحب کی آواز نمودار ہوئی۔ میں نے عرض کیا کہ مولانا عبدالغفور صاحب حیدری سے بات کرنی ہے۔ <br> کہنے لگے کہ آپ کون صاحب بول رہے ہیں ۔ <br> میں نے اپنا تعارف کراتے ہوئے بتلایا کہ رائیونڈ روڈ جامعہ مدنیہ جدید سے محمود میاں بول رہا ہے۔ <br> وہ کہنے لگے کہ حیدری صاحب تو یہاں نہیں ہیں ۔ <br> میں نے کہا کہ کہاں ہیں ۔ <br> وہ بولے کہ اِسلام آباد میں ہیں ۔ <br> میں نے پوچھااُن کا نمبر کیا ہے اگر ہے تو وہ مجھے دے دیں ۔ <br> اُنہوں نے کہا کہ نمبر تو ہیں مگر مجھے یاد نہیں ہیں ، میں آپ کو جوابی فون کر کے دو منٹ میں بتلاتا ہوں ۔ <br> میں نے فون بند کردیا دو منٹ گزرنے نہیں پائے تھے کہ اُن کا فون آگیا اَور اُنہوں نے پوری ذمہ داری اَوراطمینان سے مجھے اُن کا نمبر لکھوایا اَور یہ بھی کہا کہ اَبھی مل بھی جائیں گے اگر آپ کا رابطہ نہ بھی ہوسکا تو میں رابطہ ہونے پر آپ کے فون سے اُن کو آگاہ کردُوں گا۔ <br> ہم نے حیرت ناک ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے والے اِن نامعلوم صاحب کا شکریہ اَدا کرتے ہوئے فون بند کردیا اَور اگلے ہی لمحہ دُوسرے موبائل نمبر پر مولانا حیدری صاحب کو فون ملایا تو دُوسری طرف مولانا حیدری صاحب کی آواز تھی ،سلام و دُعا اور ضروری گفتگو سے فارغ ہوکر مختصر حال احوال کے بعد فون پر رابطہ ختم ہوگیا۔ <br> اِس سارے واقعہ میں جوبات قابلِ ذکر بھی ہے اَور قابلِ قدر بھی وہ مولانا عبدالغفور صاحب حیدری کا حسنِ انتظام اَور اُن کے معاونین کااحساسِ ذمہ داری اَور خوش خلقی جو اِس دَور میں خال خال ہی دیکھنے میں آتی ہے ۔ <br> اہل ِ حق کی مذہبی جماعتوں سے وابستہ سیاسی ذمہ داران اللہ کے نبی کے جانشین اَور خلقِ خدا کے رہنماء بھی ہوتے ہیں اَور خادم بھی۔ لہٰذا اِن کا ہر کس ونا کس سے رابطہ میں رہنا اُن کے مقاصد کا حصہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ اللہ کے بھی مقرب ہوجاتے ہیں اَور مخلوق کی نظر میں بھی عزت حاصل کرتے ہیں ۔ اِن ذمہ داران سے رابطہ میں رُکاوٹ یا بِلاوجہ تاخیر یا پروٹوکول کے نام پر بے جا تکلّفات بہت سی خرابیوں کو جنم دینے کے ساتھ ساتھ مقصد سے نہ صرف دُور کردیتے ہیں بلکہ بسا اَوقات ناکامی سے دوچار کرادیتے ہیں ۔ <br> اِن چند سطروں کے تحریر کرنے کا مقصد اپنے جماعتی ذمہ داران کی خوبیوں کااعتراف اَور اُن کا اظہار ہے جو کہ ہم پر اِن کا حق بنتا ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے مَنْ لَّمْ یَشْکُرِ النَّاسَ لَمْ یَشْکُرِاللّٰہَ لہٰذا ہم سب پر لازم ہے کہ اپنے قائدین اَور ذمہ داران کی خوبیوں کی قدر بھی کریں اَور اللہ کے دربار میں شکر گزاری بھی کریں ۔ <br> دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام اہل ِ حق کی حفاظت فرمائیں اَور قدم بقدم کامیابیوں سے ہمکنار فرماکر دُنیا و آخرت میں اَجر ِ عظیم عطاء فرمائیں ۔ <br> <br> <br> <br> <br> درس ِحدیث <br> ٭٭٭ <br> حضرت ِاقدس پیر و مرشد مولانا سید حامد میاں صاحب کے مجلسِ ذکر کے بعد درسِ حدیث کا سلسلہ وار بیان ''خانقاہِ حامدیہ چشتیہ'' رائیونڈ روڈ لاہور کے زیرِانتظام ماہنامہ'' انوارِ مدینہ'' کے ذریعہ ہر ماہ حضرت اقدس کے مریدین اور عام مسلمانوں تک با قاعدہ پہنچایا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ حضرت اقدس کے اِس فیض کو تا قیا مت جاری و مقبول فرمائے۔ (آمین) <br> اِسلام کے بارے میں مستشرقین کی خیانتیں اَور اُن کے جوابات <br> حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی سیاسی اور اِقتصادی دُور اَندیشی <br> غلاموں کی آزادی ٔ رائے اَور اِسلامی معاشرہ <br> خلفائے اَربعہ کے بعد حضرت ابن ِمسعود کا علمی مقام <br> حضرت اَبوسفیان کا اعترافِ تقصیر اَور اُس کی تلافی <br> ( تخریج و تزئین : مولانا سیّد محمود میاں صاحب ) <br> (کیسٹ نمبر 61 سا ئیڈ B 05 - 09 - 1986 ) <br> اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَیْرِ خَلْقِہ سَیِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہ وَاَصْحَابِہ اَجْمَعِیْنَ اَمَّابَعْدُ ! <br> صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی فضیلت کے جو باب چل رہے تھے اُن میں یہ آتا ہے ایک حدیث میں ہے حضرتِ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ ہر نبی کے سات خاص آدمی ہوتے ہیں یہ پہلے سے چلا آیا ہے طریقہ اللہ کا کہ ہر نبی کو کچھ آدمی ملتے رہے ہیں سَبْعَة نُجَبَائُ وَرُقَبَائُ ۔ نُجَبَائُ نَجِیْب کی جمع ہے'' نجیب'' شریف کو کہتے ہیں رُقَبَائُ رَقِیْب کی جمع ہے ''رقیب'' نگران کو کہتے ہیں یعنی خاص لوگ ہوئے جن میں اللہ نے وہ جو ہر رکھا ہے پاکیزگی کا اَور ہر نبی کے ساتھ وفاداری کا جیسے کہ وہ اُن کی حفاظت کرتا ہو نگہداشت کرتا ہو یا جانثاری کرتا ہو، اپنے بارے میں اِرشاد فرمایا کہ مجھے سات نہیں چودہ دِیے گئے۔ <br> حضرتِ علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم لوگوں نے دریافت کیا کہ وہ کون ہیں ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے بتلایا کہ ایک تو تم ہو اَور میرے دونوں بچے یہ حسن اَور حسین رضی اللہ عنہما، بہت چھوٹے تھے مگر اِنہیں بھی فرمایا اَور جعفر اَور حمزہ جعفر زندہ تھے حمزہ شہیدہوچکے تھے ابوبکر،عمر، مصعب ابن ِ عمیر یہ بھی شہید ہوچکے تھے بلال، سلمان ،عمار، عبد اللہ ابن ِ مسعود، ابوذر غفاری اَور مقداد ابن ِ اَسود ١ ۔ <br> اِن حضرات کے نام جنابِ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے بتلائے اَور جیسے یہ ہوتے ہیں نا قطب، اَبدال یا غوث ہوگئے اِسی طریقے پر یہ بھی ایک خداوند ِ کریم کے نزدیک جو اُن کا مقام تھا وہ یہاں جنابِ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے بتلایا۔ <br> اپنے بارے میں اگر کسی کو یقین ہو بھی تو وہ دُوسرے پر لازم نہیں سوائے نبی کے اِرشاد کے : <br> ہرکسی آدمی کی اپنے بارے میں بھی یقینی بات نہیں ہوتی (کہ وہ قطب ابدال یا غوث ہے) اَور یقین ہو بھی جائے اُسے، تو دُوسرے کے لیے وہ دلیل نہیں ہے کسی کو پتا ہو کہ میں غوث ہوں اَور ہو بھی غوث سَچ مُچ تو دُوسرے کے لیے ضروری نہیں ہے کہ اُسے غوث مانے لیکن نبی کریم علیہ الصلٰوة والسلام کی فرمائی ہوئی بات سب کے لیے قابل ِ تسلیم ہے تو اُس کا اِنکار کوئی نہیں کرے گا یہ درجہ بہت بڑا ہوا یہ نبی کے رُقَبَاء نبی کے نُجَبَاء اَور نبی کریم علیہ الصلٰوة والسلام کا درجہ دُوسرے اَنبیائے کرام کے سردار کا درجہ ہے۔ <br> چار اَفراد سے محبت کا حکم : <br> حضرتِ آقائے نامدار صلی اللہ عليہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ایک صحابی بُرَیْدَہْ وہ کہتے ہیں کہ جنابِ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے اِرشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ حکم دیا ہے کہ میں چار لوگوں سے محبت رکھوں بِحُبِّ اَرْبَعَةٍ اَور اللہ نے مجھے یہ بتلایا ہے اَنَّہ یُحِبُّھُمْ کہ حق تعالیٰ بھی اُنہیں محبوب رکھتے ہیں تو وہ کون ہیں ؟ قِیْلَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ سَمِّھِمْ لَنَا اِن کے نام ہمیں جناب بتلائیے؟ تو اِرشاد فرمایا عَلِیّ مِّنْھُمْ علی اُن میں سے ہیں ایک ، اِسی طرح تین دفعہ اِرشاد فرمایا پھر فرمایا کہ اَبوذر اَور مقداد اَور سلمانِ فارسی۔ <br> ا مشکٰوة شریف ص ٥٨٠ <br> اِسلام لانے کے وقت حضرت سلمان فارسی کی عمر ڈھائی سو برس تھی : <br> حضرت سلمانِ فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تو بہت بڑی عمر کے تھے تقریبًا ڈھائی سو سال کم اَز کم نقل کی گئی ہے عمر اِن کی جس وقت یہ مسلمان ہوئے اَور کب یہ نکلے تھے اپنے گھر سے پھر اِنہیں بنالیا اِغوا کرکے غلام اَور بیچتے رہے اَور بِکتے بِکتے یہ مدینہ منورہ تک پہنچ گئے، غالبًا بِضْعَ عَشَرَةَ مِنْ رَبٍّ اِلٰی رَبٍّ ایسے کلمات ہیں دس سے بھی زیادہ مالک اِن کے تبدیل ہوتے رہے دس سال پندرہ سال ایک کے پاس رہے آٹھ دس سال ایک کے پاس رہے اِس طرح سے ہوتے ہوتے یہ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کی مدینہ منورہ تشریف آوری کے وقت مدینہ شریف میں تھے اَور طبیعت اِن کی پہلے ہی سے اِسلام کی طرف تیار تھی مائل تھی مذہب ہی کی تلاش تھی تو اللہ تعالیٰ نے اَنبیائے کرام کے سردار کے ساتھ اِن کو کردیا تو یہ بھی اُن (چار) میں ہیں ۔ <br> عشرۂ مبشرہ کی فضیلت سب سے بڑھ کر ہے : <br> یہ الگ بات ہے کہ دس حضرات تو عشرۂ مبشرہ کے نام سے مشہور ہیں چاروں خلفائے کرام اَور حضرتِ طلحہ، حضرتِ زبیر، ابوعبیدہ ابن ِ جراح ،حضرتِ سعد ابن ِ وقاص، سعید ابن ِ زید،عبدالرحمن ابن ِ عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہم یہ دس حضرات یہ اِس طرح سے بن جاتے ہیں تو یہ دس مَبَشَّرِیْنَ بِالْجَنَّّةِ ہیں اِن کے بارے میں بار بار جنت کی بشارت زبانِ رسالت ِ مآب صلی اللہ عليہ وسلم سے صادر ہوئی۔ <br> خلفائے اَربعہ کے بعد علمی برتری کے اعتبار سے ابن ِ مسعود کا درجہ : <br> لیکن اَور صحابہ بھی ہیں جن کے بارے میں الگ الگ فضیلتیں آئی ہیں جیسے ابن ِ مسعود رضی اللہ عنہ کی، عشرۂ مبشرہ میں تو یہ نہیں ہیں لیکن علمی مقام بہت بلند ہے اِن کو جب لکھتے ہیں علمی کتابوں میں حدیث کی کتابوں میں جو رِجال ہیں کہ کس سے کتنا علم منقول ہے تو اُس میں خلفائے اَربعہ کا تو سب سے پہلے ذکر ہوجاتا ہے کہ علم میں بھی وہ سب سے بلند تھے اُن کے بعد پانچواں نمبر اِن ہی کا آتا ہے تو اِن کی فضیلت عشرۂ مبشرہ میں ہونا تو نہیں آتی لیکن دُوسری ہے فضیلت۔ <br> یہ بُرَیْدَةکہتے ہیں جنابِ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا اِنَّ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی اَمَرَنِیْ بِحُبِّ اَرْبَعَةٍ چار لوگوں سے محبت رکھنے کا حکم فرمایا مجھے اللہ تعالیٰ نے وَاَخْبَرَنِیْ اَنَّہ یُحِبُّھُمْ اَور مجھے یہ بتلایا کہ اللہ تعالیٰ بھی اُنہیں محبوب رکھتے ہیں قِیْلَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ سَمِّھِمْ لَنَا اِن کے نام ہمیں بتلادیجیے قَالَ عَلِیّ مِنْہُمْ علی اُن میں سے ہیں یہ تین دفعہ اَور پھر اُس کے بعد ابوذر ، مقداد، سلمان اَمَرَنِیْ بِحُبِّھِمْ وَاَخْبَرَنِیْ اَنَّہ یُحِبُّھُمْ ١ دوبارہ پھر فرمادیا کہ مجھے حکم ہوا ہے کہ میں اِنہیں محبوب رکھوں اَور مجھے بتلایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اِنہیں محبوب رکھ رکھا ہے۔ <br> اپنے خزانچی اَور مؤذن حضرت بلال کو ہدایت : <br> حضرت ِ جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرتِ عمر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ اَبُوْبَکْرٍ سَیِّدُنَا ابوبکر ہمارے آقا ہیں سردار ہیں وَاَعْتَقَ سَیِّدَنَا اَور ہمارے سردار کو اُنہوں نے آزاد کیا یعنی بِلَالًا ٢ مراد حضرتِ بلال رضی اللہ عنہ ہیں جوکہ حبشی غلام تھے مگر اِسلام اَور ایمان پر بہت زیادہ پختہ تھے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ اِن کو بڑا درجہ دیتے ہیں پھر رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کے خزانچی بھی رہے ہیں ۔ حدیث شریف میں آتا ہے ایک دفعہ فرمایا اَنْفِقْ یَا بِلَالُ وَلَا تَخْشَ مِنْ ذِی الْعَرْشِ اِقْلَالًا خرچ کرتے رہو اَور عرش والے سے کمی کا خیال نہ کرو کمی کا اَندیشہ نہ کرو کہ اُس کے پاس سے کم ملے گاخرچ کرو اَور اللہ دے دے گا، ویسے بھی آتا ہے کہ ایک دفعہ تشریف لے گئے عورتوں کی طرف اَور اُن سے کہا تَصَدَّقْنَ صدقہ کرو وَلَوْ مِنْ حُلِیِّکُنَّ چاہے اپنے زیورات ہی میں سے ہو تو زیور عورتوں کو بہت عزیز ہوتا ہے لیکن سکھایا یہ گیا ہے کہ اُس سے وہ محبت کم کریں اپنی، لگائو کم کریں قلبی لگائو تو پھر عورتوں میں کسی نے انگوٹھی دی کسی نے چَھلّہ دیا اِس طرح سے وہ ڈالتی رہیں حضرتِ بلال ساتھ ساتھ رہے ہیں اُس حدیث میں بھی آتا ہے تو فِیْ ثَوْبِ بِلَالٍ حضرت بلال کے پاس کوئی کپڑا تھا اُس میں وہ ڈالتی رہیں ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کے خازن تھے رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کے مؤذن تھے اَور اِسلام پر اِتنے پختہ کہ اِن کو ہر طرح ستایا گیا ذلیل کیا بہت زیادہ لیکن اِن کے اُوپر کوئی اَثر نہیں ہوا اِیمان کی پختگی میں کوئی فرق نہیں آیا سب تکالیف برداشت کیں ۔ <br> حضرت اَبوبکر نے آزاد کیا، حضرت عمر نے بڑے لقب سے نوازا : <br> حتّٰی کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اِن کو خرید لیا بہلاکر سمجھاکر کہ یہ تمہارے کام کا تو ہے نہیں مجھے دے دو تو پھر اِس طرح سے اُن کو خریدا خریدنے کے بعد حضرتِ بلال رضی اللہ عنہ جو صدمات سہ چکے تھے خدا کی راہ <br> ١ مشکٰوة شریف ص ٥٨٠ ٢ ایضًاص ٥٨٠ <br> میں بہت تکالیف برداشت کرچکے تھے تو اُنہوں نے اَبوبکر رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ اِنْ کُنْتَ اِنَّمَا اشْتَرَیْتَنِیْ لِنَفْسِکَ فَاَمْسِکْنِیْ اگر اپنے لیے خریدا ہے پھر تو مجھے آپ اپنے پاس رکھ لیں اَور اِنْ کُنْتَ اِنَّمَا اشْتَرَیْتَنِیْ لِلّٰہِ اگر آپ نے اِس لیے خریدا ہے کہ خدا کی خوشنودی حاصل کریں مذہب کے لیے اِسلام کے لیے فَدَعْنِیْ وَعَمَلَ اللّٰہِ ١ تو اللہ کے جو احکام ہیں اُن پر عمل کرنے کے لیے مجھے اَور خدا کو چھوڑ دیں تو حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اُن کو آزاد کردیاتو حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مگر بڑے ہی بلند الفاظ سے کہ اَبُوْبَکْرٍ سَیِّدُنَا وَاَعْتَقَ سَیِّدَنَا ٢ یہ ہمارے سردار ہیں اَور اِنہوں نے ہمارے سردار کو آزاد کیا ہے یعنی بلال کو۔ حضرت بلال کا اِکرام حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہمیشہ کرتے رہے ہیں ۔ <br> عِلم سے کورے ایک آنکھ والے محققین کی شرارتیں اَور اُن کا جواب : <br> آج کل جوکتابیں یورپ سے آرہی ہیں مشتشرقین کی اُن میں بہت بُرے بُرے خیالات ڈال دِیے جاتے ہیں دماغوں میں اَور مستغربین جو ہیں یعنی مغربی کتابوں کو پڑھنے والے اُن کے پاس علمِ دین اپنے(دیانتدار) ذرائع سے تو ہوتا ہی نہیں اِنہی (خیانت کار بددیانت) ذرائع سے پہنچتا ہے تو وہ (یعنی یہاں کے مرعوب مغرب زدہ حکام) سمجھتے ہیں کہ یہ بہت بڑے محقق ہو تے ہیں بغیر تحقیق کے بات نہیں لکھتے اِس لیے اُسی پر اطمینان کرلیتے ہیں پوچھتے بھی نہیں اَور ایسی ایسی باتیں سُننے میں آتی ہیں کہ جو ہم نے کہیں بھی نہ پڑھیں نہ سُنیں ۔ <br> حضرت ِ امام ابویوسف پر اعتراض، امام محمد پر اعتراض اَور حضرتِ بلال رضی اللہ عنہ کے بارے میں اَب آیا ہے کہ اُن کو کسی قریشی نے اپنی بیٹی نہیں دی کیونکہ وہ کالے تھے تو اِسلام کی مساوات جو ہے وہ محض دعویٰ ہے عمل نہیں ہے اِس پر حالانکہ آپ کے سامنے یہ موجود ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کتنا اِکرام کرتے تھے۔ <br> پہلا جواب : <br> اَور بیٹی لینا دینا وہ تو خاندان کے لحاظ سے ہوتا ہے رہن سہن کے لحاظ سے ہوتا ہے اُس میں مدار اِس چیز پر نہیں ہے کہ کون ہے کہاں کا ہے اگر مزاج ملتے ہوں تو پھر ٹھیک ہے رشتے ہوجاتے ہیں نہ مزاج ملتے ہوں تو رشتے بھی نہیں ہوتے اَور کہیں کسی جگہ ہم نے عام کتابوں میں ہماری حدیث کی تو یہ آتا ہی نہیں ہے کہ اِنہوں <br> ١ مشکٰوة شریف ص ٥٨٠ ٢ ایضًا ص ٥٨٠ <br> نے خواہش کی ہو کہ میری فلاں جگہ شادی ہوجائے حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے یہ خواہش بھی نہیں کی کبھی فلاں جگہ شادی ہوجائے میری فلاں خاندان میں شادی ہوجائے خاندانی لڑکی میں لے آئوں یہ خواہش بھی کبھی نہیں کی۔ <br> دُوسرا جواب : <br> درجہ اُن کا اِتنا بڑا تھا کہ جو خاندانی لوگ تھے اُن پر حضرت عمر اِن کو ترجیح دیتے تھے ،ایک دفعہ اَبوسفیان اَور اُن کے ساتھی حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ وعنہم کے دَور میں ملنے آئے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اَبھی ٹھہریں بیٹھ جائیں ذرا فارغ ہوجائوں تو بُلائوں گا اِن کے بعد حضرت بلال آئے حضرت بلال تویقینًا تھے اَور کون تھے ساتھ کچھ ساتھ اَور بھی تھے اُنہوں نے اِطلاع بھجوائی کہ وہ ملنا چاہتے ہیں نشست گاہ میں اُن کی بیٹھک میں تو اُنہوں نے کہا بُلالو اُنہیں ، اُنہیں فورًا بُلالیا ۔ابوسفیان کہتے ہیں کہ ہمیں محسوس ہوا بہت فرق محسوس ہوا اِس سے کہ ہم بہت پیچھے ہیں اُن کی نظر میں بہت چھوٹے ہیں اُن کی نظر میں ۔ <br> ایک اَور شرارتی : <br> پھر ایک مسئلہ پیش آیا ہے کیونکہ مستغربین جو ہیں یعنی مغربی کتابوں کا مطالعہ کرنے والے اِنہیں پورا پتہ ہوتا نہیں ہے (اِسلام کے خلاف یہودیوں کی کتابیں پڑھنے کی وجہ سے اِسلام کی طرف منسوب جھوٹی) خرابی ہی خرابی آتی ہے سامنے۔ اَور یہ بات نہیں ہے کہ وہ کوئی تحقیق کرتے ہیں ،''تحقیق'' نہیں کرتے بلکہ اِسلام کی اَور اہل ِ اِسلام کی'' تحقیر'' کرتے ہیں موضوعات ایسے(گڑھ کر) دے دیتے ہیں جن میں تحقیر ہو۔ ایک موضوع دیا اُنہوں نے کہ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کے زمانے میں جاسوسی کی ترقی تھی اِس طرح کا موضوع دیا یہاں سے جانے والے جو ہیں وہ اُسی موضوع پر جو وہ دے دیں اُلٹا سیدھا لکھتے ہیں ، اَبھی اَبھی کوئی ڈاکٹر ہے یہاں پی ایچ ڈی کرکے آیا ہے یہ بہاولپور کی اسلامیہ یونیورسٹی جو ہے اِس میں وہ لگا ہے اُس کے خلاف ''بینات'' میں پہلے بھی تھا اَور جو موضوع وہ لکھ کر آیا ہے وہ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم پر اعتراض کا موضوع تھا اُس کو یہاں اِسلامیات کا اُنہوں نے انچارج لگادیا اُس پر ''بینات'' نے لکھا بھی ہے کہ یہ شخص تو مسلمان نہیں ہے یہ اپنا اِیمان بیچ کے آیا ہے ١ اَور آپ نے اِسے اِسلامیات کا اِنچارج بنادیا ہے ۔پھر وہ اَور رسالوں میں بھی <br> ١ ''الہُدٰی'' کی بانی ڈاکٹر فرحت ہاشمی بھی شرارتی قبیلے کی ایک فرد ہے بقول اِس کے ''میں نے دین یہودی سکالروں سے سمجھا ہے۔'' (ادارہ) <br> چھپا ہے خدام الدین میں بھی چھپا ہے وہ مضمون اَور اُس کی تحریر اَور تحریر کا ترجمہ سب کے فوٹووہ چیزیں چھپیں ہیں تو اِن لوگوں کو کوئی خبر نہیں ہوتی۔ <br> اِن کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رائے دینے بلکہ اختلافِ رائے کا بھی حق دیا : <br> جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ (حضرت بلال) اِتنے بڑے درجہ کے شمار ہوتے تھے کہ جب شام کے علاقے میں لڑائیاں ہو رہی تھیں جہاد ہو رہا تھا فتوحات ہو رہی تھیں توحضرت بلال حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہمااَور بلال آگے آگے تھے یہ کہتے تھے کہ جو علاقہ مسلمانوں نے جہاد کے ذریعہ سے فتح کیا ہے وہ بانٹ دیا جائے مجاہدین کو دے دیا جائے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اِس سے بہت اِختلاف تھاوہ فرماتے تھے کہ اگر مجاہدین کو میں دے دیتا ہوں تو یہ پینتیس ہزار پچاس ہزار ساٹھ ہزار ہیں اگر یہ علاقہ اِن کو دے دیا جائے تو باقی کا کیا ہو گا یہ تو سب کے سب نواب ہو جائیں گے بڑے بڑے زمیندار ہو جائیں گے تو باقیوں کا کیسے ہو گا یہ میں نہیں کروں گا یہ یہ کہتے تھے کہ ایسے ہی کریں اَڑے ہوئے تھے۔ <br> حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی معاشی بصیرت اَور سیاسی دُور اَندیشی : <br> حضرت عمر دُعا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ بلال کے بارے میں بلال کے مقابلے میں تو میری مدد فرمامسئلہ کے لحاظ سے وہ بھی ٹھیک یہ بھی ٹھیک لیکن بہت دُور کی سیاست اگرلی جائے چند سال بعد ہی کی سیاست لی جائے تو حضرت بلال رضی اللہ عنہ کا فیصلہ غلط تھا لیکن اِتنی اِن کی بات کی قوت تھی اَور وزن تھا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ پریشان ہو گئے اَور اُنہوں نے یہ دُعا مانگی ہے یہ دُعا آتی ہے حالات میں جو وہاں لکھے ہیں تاریخ کی کتابوں میں اُن میں یہ لکھا ہے کہ اُنہوں نے دُعا کی یہ کہ اللہ تعالیٰ تو بلال کے مقابلے میں میری مدد فرما۔ <br> فاتحین کو بھی ملے اَور بعد والے بھی محروم نہ رہیں : <br> اُنہوں نے کہا مسئلہ بھی اِسی طرح سے ہے کہ جو کوئی علاقہ فتح ہویا تو وہ فتح کرنے والوں کو دے دیا جائے جیسے خیبر وغیرہ ،دُوسری صورت یہ ہے کہ وہ زمین رہے مرکزی حکومت کی اُس کی آمدنی مرکزی حکومت کی ہو وہاں سے مجاہدین کے وظیفے مقرر کر دیے جائیں اَب یہ وظیفے جو مقرر ہوں گے اِس کو فرماتے تھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ اَتْرُکُھَا خِزَانَةً لَّہُمْ میں یہ اِن کے لیے خزانہ بنا کر چھوڑ کے جانا چاہتا ہوں ، تو یہ صورت ہو سکتی ہے کہ جتنے مجاہدین ہیں اُن کو وظیفہ دیا جاتا رہے بیت المال سے زمین کا مالک اُنہیں نہ بنایا جائے تو دونوں صورتیں شریعت ِ مطہرہ میں جائز ہیں کہ جو علاقہ فتح کیا ہے چاہے تو وہ علاقہ ہی بانٹ دے، رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے ایسے بھی کیا ہے اَور ایسے بھی کیا ہے کہ اُس کی آمدنی وہاں چلی جائے اَور وہاں سے وظیفے اِن کے جاری ہوں ،حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی رائے جو تھی وہ یہ تھی کہ یہ طریقہ کہ جو فتح ہو علاقہ اُس کی آمدنی بیت المال میں جائے اور اُن کے نام دیوان میں (یعنی) سرکاری رجسٹر میں موجود ہوتے تھے تو وہ لوگ رجسٹرڈ ہوتے تھے اُن کو وظیفہ مقرر کر دیا جاتا تھایہی طریقہ سب سے زیادہ صحیح تھا اور فرماتے تھے کہ بَبَّانْ رہ جائے گا (یعنی) آگے جتنے آنے والے ہوں گے اُن کے پاس کچھ بھی نہیں ہو گاتو یہ تو مساوات نہ رہی مساوات اِسی میں ہے اُن کی کارکردگی پر اُن کی زمین جو اُنہیں ملنی تھی اُس کے بجائے وظیفہ دے دیا جائے،اِس پر عمل ہوتا رہا ہے یہی طریقہ کامیاب رہا ہے اَور مسئلہ بھی اَب اِسی طرح سے بن گیا لیکن وہ پہلا باطل بھی نہیں ہوا۔ <br> بغیر تنخواہ دار مجاہدین کے لیے دونوں میں سے کوئی سا بھی طریقہ اِختیار کیا جاسکتا ہے : <br> اَگر آج بھی کوئی علاقہ فتح ہو اَور مجاہدین تنخواہ دار نہ ہوں اپنے پیسے سے جہاد کر رہے ہوں تو اُن کے لیے یہی ہے کہ اِختیار ہے حاکم ِاعلیٰ کو کہ چاہے مجاہدین کی مفتوحہ زمین اُن ہی میں بانٹ دے جواِس جہاد میں شریک تھے اَور چاہے اُس کی آمدنی بیت المال میں لے جا کر اِن مجاہدین کو دی جاتی رہے دونوں صورتیں درست ہیں ۔ <br> حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے صلح جو کی تھی تو اُس میں کچھ علاقے رکھ لیے تھے اِدھر اِیران کی طرف کے کہ اِن کی آمدنی میں لیتا ہوں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے اَور اُس کی وجہ یہی تھی کہ اِن علاقوں میں جہاد میں یہ لوگ تھے یہ علاقے جب فتح ہوئے اُس جہاد میں یہ لوگ تھے اَور جو علاقے فتح ہوئے شام وغیرہ کے اُن میں بھی تھے لوگ لیکن زیادہ بنو اُمیہ کے تھے۔ <br> حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ : اعترافِ تقصیر اَور تلافی : <br> کیونکہ اَبوسفیان نے جب یہ دیکھا کہ ہمارا مقام تو حضرت عمر کی نظر میں بہت گرا ہوا ہے یہ سمجھ دار تو بہت زیادہ تھے تو اُنہوں نے کہا کہ اِس میں اِن کا قصور نہیں ہے ہمارا قصور ہے ہم دیر سے مسلمان ہوئے یہ پہلے مسلمان ہو چکے تھے تو اِن کا درجہ ہم سے بڑا ہے اَب ہمیں اُس کی تلافی کرنی پڑے گی اَور تلافی اِس طرح ہوسکتی ہے کہ اِسلام کو پھیلانے کے لیے اپنی جانیں پیش کریں تو ہم جہاد کے لیے جائیں تووہ جہاد کے لیے گئے۔ <br> سب سے بڑا بیٹا دُنیا کے سب سے ترقی یافتہ علاقہ کاگورنر : <br> پھر واقعی درجہ اُن کو ملا اُن کی تو وفات ہو گئی لیکن یزید ابن ِابی سفیان رضی اللہ عنہ جو تھے صحابی ہیں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے( بڑے) بھائی ہیں اُن کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے شام کا گورنر بنایا جو اِس دُنیا کا سب سے زیادہ ترقی یافتہ حصّہ تھا اُس وقت ،توجب وہ فتح ہوا اُس کا گورنر اُنہیں بنایا پھر جب اُن کی وفات ہوگئی تو حضرت معاویہ کو بنایا اَب وہ (بطورِ گورنر) چلے بھی آئے ہیں مُدت العمر بلکہ دارُالخلافہ بھی وہیں شام میں بنالیا اُنہوں نے اپنے دَورِ خلافت میں ، مدینہ منورہ سے شام کی طرف اُن کے دَور میں جب خلافت منتقل ہوئی ہے اَور درمیان میں اِس سے پہلے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دَور میں خلافت کوفے میں رہی ہے کیونکہ جنگی نقطۂ نظر سے کوفہ ٹھیک بیٹھتا تھا اَور مدینہ طیبہ ایک طرف ہوجاتا ہے اَور حکومت پھیل چکی تھی بہت، لہٰذا کوفہ ہی اُس وقت فوجی اَور سیاسی اعتبار سے دارُالخلافہ کے لیے بہت مناسب تھا فوری طور پر ہر طرف کارروائی کی جاسکتی تھی ……… ………اختتامی دُعا <br> اَفسوس کہ آخر کی چند سطریں کیسٹ میں محفوظ نہ تھیں اُمید ہے آئندہ کسی درس میں اِس تشنگی کی تلافی ہوجائے گی اِنشاء اللہ۔ <br> ٭٭٭ <br> <br> <br> <br> <br> جامعہ مدنیہ جدید کے فوری توجہ طلب ترجیحی اُمور <br> ٭٭٭ <br> (١) زیر تعمیرمسجد حامد کی تکمیل <br> (٢) طلباء کے لیے مجوزہ دَارالاقامہ (ہوسٹل) اور درسگاہیں <br> (٣) اَساتذہ اور عملہ کے لیے رہائش گاہیں <br> (٤) کتب خانہ اور کتابیں <br> (٥) زیر تعمیرپانی کی ٹنکی کی تکمیل <br> ثواب جاریہ کے لیے سبقت لینے والوں کے لیے زیادہ اَجر ہے ۔ <br> <br> <br> <br> <br> ملفوظات شیخ الاسلام <br> حضرت مولانا سیّد حسین احمد مدنی <br> ( مرتب : حضرت مولانا ابوالحسن صاحب بارہ بنکوی ) <br> ٭٭٭ <br> (٦) دور ِ حاضر کے ہم مسلمانان اِنڈین یونین کی مشکلات جو کہ اَکثریت کی طرف سے مسلمانوں کو گھیرے ہوئے ہیں ، مہا سبھا کی فرقہ وارانہ ذہنیت، آر ایس ایس کی اِسلام دُشمنی آریہ سماجیوں کی جار حانہ مذہبی پالیسی اَور مرتد بنانے کی جان توڑ کوششیں اَور مسلمانوں کی ہر قسم کی مادی اَور رُوحانی کمزوری اَور اُن کی منتشرہ حالت اُن میں احساسِ کمتری کا روز اَفزوں مرض، ملحدانِ مغرب کی طرف سے اِلحاد و زِندقہ کی مسموم آندھیاں ، کالجوں کی تعلیم، نفوسِ اِنسانیہ کا دُنیاوی اَور مادی ترقی کی طرف طبعی رُجحان وغیرہ وغیرہ تو متقاضی تھے کہ مسلمانوں کے شیرازہ کو زیادہ سے زیادہ مضبوط بنادیا جائے اَور حکیمانہ اَور عاقلانہ تنظیم عمل میں لاکر اُن کے خوف و حراس، بدحواسی اَور بزدلی، بے دینی اَور بے عملی کو دُور کیا جاتا (لیکن ) ہم دیکھتے ہیں کہ آپ کی تحریک (اِسلامی) اِس کے برخلاف دینی اَور دُنیا وی بربادی کی وبائی ہوا فضا ء میں پیدا کر رہی ہے اَور آئندہ تمام ملک کو اِس سے مسموم کردینے کا سامان مہیاکیا جارہا ہے، اِس لیے میں مناسب جانتا ہوں کہ مسلمانوں کو اِس تحریک سے علیحدہ رہنے اَور مودودی صاحب کے لٹریچر کے نہ دیکھنے کا مشورہ دُوں ۔ <br> آپ حضرات کا یہ اِرشا دکہ ہم کو مودودی صاحب کے اعتقاد اَور شخصی خیالات سے سرو کار نہیں ہے ہم اِس کا بار بار اعلان کر چکے ہیں ، ایسا ہی ہے جیسے کہ مشرقی صاحب نے لوگوں کے اعتراضات کو تحریکِ خاکسار ان میں رُکاوٹ دیکھ کر اعلان کیاکہ ہم تو مسلمانوں میں جنگی اَور حربی تعلیم اَور سپرٹ پیدا کرنا اَور اِس کو پھیلانا چاپتے ہیں ، ہمارے عقائد اَور ہماری تصانیف سے مسلمانوں کو کوئی سرو کار نہیں ، پھر کیا اَیسا ہوا؟ اَور جماعت ِ خاکساران کیا اپنے لیڈر کے عقائد و اَخلاق اَور اُس کی تصانیف کی گندگیوں سے محفوظ ہیں ۔خود مودودی صاحب ہی کی زبان سے سن لیجیے دیکھئے الفرقان نمبر 2،3 ص 9 ،10 بابت ماہِ صفرو ربیع الاوّل ، بعنوان ''خاکسار تحریک اَور علامہ مشرقی'' <br> محترما! جب کوئی تحریک کسی شخص کی طرف منسوب ہوگی تو وہ قبلۂ توجہ ہوگا اَور اُس شخص کے عقائد اَور اَخلاق کا اَثر ممبروں پر قطعی طور پر ضرورپڑے گا خصوصاً جبکہ مودودی صاحب کا لٹریچر زَور دار طریقے پر شائع کیا جا رہا ہے اَور ممبروں اَور غیر ممبروں کو اِس کے مطالعہ کی ترغیب دی جارہی ہے اِس صورت میں وہ زہریلا مواد جو نہایت چلاکی سے تحریروں میں رکھا گیا ہے اَپنے اَثر سے خالی نہیں رہ سکتا۔ <br> (٧) مودودی صاحب اپنی جماعت کا دستور لکھ رہے ہیں عرصہ سے یہ دستور شائع ہو رہا ہے اَور الفاظ اِتنی وضاحت کے ساتھ سلب ِکلی کے طور پر ہر اِنسان سے معیار یت ِحق اَور تنقید سے بالا تر ی اَور ذہنی غلامی میں ابتلاء کی تبلیغ کر رہے ہیں ۔اِس عموم اَور استغراق اَور سلب ِ کلی اَور استغراق کو کہاں لے جائیں گے؟ بحث الفاظ پر ہے، احتمالات غیر مفہومہ عن العبارة پر نہیں ۔ اَور اگر آپ مودودی صاحب کی تصانیف اَور اُن کے خواص کی تالیفات کا اِستقصا فرمائیں گے تو نہ صرف عام اَنبیاء و رُسل بلکہ اُلو العزم رسولوں کے لیے بھی اُن کے بے پناہ قلم سے پناہ اَور اُن کی تنقید سے نجات نہ پائیں گے۔ <br> (٨) جس جگہ صحابۂ کرام (رضوان اللہ علیہم اجمعین ) سے نہ صرف بدظنی پھیلائی جاتی ہو بلکہ اَشْہَدُ اَنَّ عَلِیًّا وَلِیُّ اللّٰہِ وَصِیُ رَسُوْلِ اللّٰہِ وَ خَلِیْفَتُہ بِلَا فَصْلٍ با آواز ِ بلند اَذان میں کہا جاتا ہو نیز اِمام باڑوں ، مجلس ِ خاصہ اَور خصوصی مساجد میں اُن کی طرف غلط اَور جھوٹے اہانت آمیز واقعات منسوب کیے جاتے ہوں اَور عوام کے سنیوں کے سننے اَور شریک ہونے سے غلطی میں پڑنا ممکن ہو تو سُنیوں کی اصلاح اَور تحفظ ِعقائد کے لیے ایسی مجالس کا منعقد کرنا جن میں صحابہ کرام کے صحیح واقعات ذکر کیے جاتے ہوں اَور اُن کی ثناء اَور صفت کی جاتی ہو واجب ہے۔ <br> (٩) مسلَّمہ اصول ہے کہ ہر قوم اپنے مقتدایان ِ دین اَور اَکا بر ملت کے کارناموں ، اُن کی تعلیمات اَور اُن کے واقعات ِ زندگی سے متاثر ہوتی ہے، مسلمانوں کے لیے رسولِ مقبول صلی اللہ عليہ وسلم کے بعد حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بالخصوص خلفائے راشدین کے کارنامے اُن کی تعلیمات اُن کے حالات ِ زندگی سرچشمہ ہدایت ہیں ، اَور نہ صرف مسلمانوں کے لیے بلکہ تمام اِنسانی دُنیا کے لیے اُن کے کارناموں میں کھلی ہوئی اَور صاف ستھری روشنی موجود ہے اَور یہی وجہ ہے کہ ١٧جولائی ١٩٣٧ء کے اَخبار ہریجن میں گاندھی نے کانگریسی وزراء کو زَور دار الفاظ میں ہدایت کی تھی کہ وہ اپنا طرز ِ عمل حضرات شیخین حضرت ابو بکر اَور عمر جیسا بنائیں ، یورپین مؤرخین اِس کی خصوصی طور پر ہدایت کرتے ہیں اَور اِسی بنا پر سیرت ِ فاروقی رضی اللہ عنہ کو فرانس کی یونیورسٹیوں وغیرہ میں داخلِ نصاب کر دیا گیا ہے، نہایت ضروری ہے کہ مسلمانوں کا بچہ بچہ اُن کے کارناموں اَور اخلاق و اَعمال سے واقف ہو۔ <br> اَور چونکہ مسلمانوں کا فریضہ ہے کہ دُنیا میں اِسلام کی اشاعت کریں اِس لیے اُن پر اَور بھی لازم ہے کہ ساری نوعِ اِنسانی کو اِن باتوں سے واقف کریں اَور ہر بستی میں عام جلسوں اَور جلوسوں وغیرہ سے مسلمانوں اَور غیر مسلموں کو بتائیں کہ اُن کے بزرگوں نے دُنیا میں کیا کار نامے بطور ِ یاد گار چھوڑے ہیں ۔ جناب ِ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کی تعلیم و تربیت سے کس طرح متاثر ہوئے اَور اہلِ عالم کو مذہب، اخلاق، تمدن، معاشرت، اقتصادیات ،سیاسیات وغیرہ تمام شعبہائے زندگی اَور آخرت کے کیسے کیسے اَسباق سکھائے۔ <br> (١٠) ہندوستان کے کروڑوں مسلمان اَور غیر مسلم جاہلِ محض ہیں نہ کتابیں پڑھ سکتے ہیں نہ اخبارات، اِن بے پڑھے لوگوں کو مقدس ہستیوں کی پاکیزہ زندگی کے پاکیزہ حالات اُن کے خیالات، مہتم بالشان کارناموں سے روشناس کرانے کا سوائے اِس کے اَور کیا ذریعہ ہے کہ بار بارعام جلسوں اَور جلوسوں میں اُن کا ذکرِ خیر کیا جائے اَور اُن کے نام نامی سے ہر کہ ومہ کو مانوس بنایا جائے، بالخصوص ایسی جگہوں میں جہاں کہ غلط فہمیاں قصدًا پھیلائی جاتی ہیں یہی مقصد سیرت کے جلسے اور جلوسوں کا ہے اور یہی مقصدمدحِ صحابہ کے جلسے اور جلوسوں کا ہے، ہندوستان جیسے ملک میں تبرا قانونی اَور اجتماعی اور اخلاقی جرم ہے اَور مدح صحابہ اَخلاقی ذاتی اَور اجتماعی فریضہ ہے۔ <br> (١١) لکھنؤ کی اَندھیر نگری میں تقریبًا تیس بتیس برس سے یہ حکم نافذ ہے کہ اہل ِ سنت و الجماعت کو جن کی تعداد شہر میں اَسی ہزار سے زیادہ ہے اَور اُن کے خلاف شیعوں کی آبادی صرف اَٹھارہ ہزار ہے، اپنے پیشوایان ِمذہب صحابہ کرام خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کی مدح و ثناء کی اجازت نہیں ہے بار بار اِس پر قید و بند اَور جرمانہ و تکلیف کی نوبت آچکی ہے، حکومت نے اگرچہ ٣٠ مارچ ١٩٣٨ء کے اعلان میں یہ الفاظ شائع کردیے تھے ۔ <br> ''گورنمنٹ واضح کردینا چاہتی ہے کہ پہلے تین خلفاء کی مدح پڑھنا خواہ عام مقام پر ہو خواہ کسی شخصی مقام پر زیرِ بحث نہیں ، یہ حق سُنیوں کو بلاشک حاصل ہے۔'' <br> مگر اَفسوس کہ آج تک باوجود کہ تقریبًا ایک سال گزر چکا ہے یہ مقالہ مثل سابق گورنمنٹوں کے مقالوں کے اَور ١٨٥٧ء کے اعلانات ِوکٹوریہ اَور ١٩١٤ء کے لائڈجارج کے وعدوں کی طرح ثابت ہوئے یہ نہیں ہوا کہ اِس پر عمل نہیں کیا گیا بلکہ عام پبلک مقامات اَور مساجد وغیرہ میں بھی مدحِ صحابہ سے روکا گیا اَور سُنیوں کو سزائیں دی گئیں ۔ <br> (١٢) آج ٣١مارچ ١٩٣٩ء مطابق ٩ صفر مسلمانوں کو چاہیے کہ بعد نماز جلسہ کریں اَور اِس میں گورنمنٹ کے اِس فعل پر کہ اُس نے مسلمانوں کے مذہبی اِنسانی شہری حق ِمدحِ صحابہ میں ناجائز مداخلت کر کے اُن کے صحیح جذبات کو ناقابلِ برداشت ٹھیس لگائی ہے جس کی وجہ سے ہزاروں مسلمان پروانہ وار جیل میں بند ہوچکے ہیں ، صدائے احتجاج بلند کریں ۔ <br> (١٣) یہ دِکھلادیں کہ مسلمان اپنے مذہبی امور میں حتی الوسع ذرّہ بھر بھی مداخلت گوارہ نہیں کریں گے اَور نہ کر سکتے ہیں ۔ <br> (١٤) سیرت کمیٹیوں کا اِختراع قادیانیوں کے طرف سے تو نہیں ہوا، مگر بعض اَوقات اِس سے قادیانیوں نے فائدہ اُٹھانا ضرور چاہا اَور اُٹھایا، اِس کا بیڑہ اُٹھانے والے شیخ عبدالمجید صاحب قریشی ساکن ''پٹی'' لاہور ہیں ۔ قریشی صاحب نے ابتداء میں اِس کے متعلق مختلف مقامات سے رائے لی، چنانچہ میرے پاس اَور مولانا کفایت اللہ صاحب کے پاس بھی اُن کے خطوط آئے تھے ،ہم دونوں کے جوابات تقریبًا متفق تھے خلاصہ یہ تھا کہ ہر اَمر نہایت مستحسن ہے بشرطیکہ اِس کے لیے کوئی تاریخ اَور مہینہ متعین نہ ہو، کبھی صفر میں ہو تو کبھی جمادی الاوّل میں کبھی ربیع الاوّل میں ہو تو کبھی رجب میں علی ہذا لقیاس ،بارہ پندرہ کی ہمیشہ کے لیے تعین نہ ہوا کرے۔ نیز سال میں صرف ایک دفعہ نہ ہوا کرے بلکہ دُوسرے تیسرے مہینہ اَور اگر اِس سے زائد ممکن ہو تو زیادہ تر ہوا کرے، نیز سیرت کے متعلق بیان کرنے والے کوئی واقف کار شخص ہوں جو کہ صحیح اَور قوی روایتیں بیان کریں اَور عوام کو جناب ِ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کی اَصل زندگی سے آگاہ کرتے رہیں ، جب تک اِس قسم کے بیانات عوام تک لگاتار اَور کثرت سے نہ پہنچائے جائیں گے فائدہ نہ ہو گا۔ <br> معترضین علی الاسلام کے زہر آلود پروپیگنڈوں سے عوام کو اِسی طرح محفوظ رکھا جا سکتا ہے مگر اَفسوس ہے کہ قریشی صاحب نے ہماری عبارت میں کانٹ چھانٹ کی اَور اپنے مدعا کے موافق جملوں کو لے کر شائع کرایا اَور باقی کو حذف کردیا، ہم نے اِس کے بعد اُسی زمانہ میں اخباروں میں اپنی تراشیدہ عبارتوں کو پھر چھپوایا، مگر وہ اپنے پروپیگنڈے سے باز نہ آئے، اَور اَب اُنہوں نے سالانہ ربیع الاوّل کو اِس کی تحریک شروع کردی اَور اِس کے استحسان میں ہمارے نام شائع کرا رہے ہیں ہم ہر گز تعین ِتاریخ وماہ کے ساتھ سالانہ ایک جلسہ کو شرعی اَور ملکی نقطۂ نظر سے نہ مفید سمجھتے ہیں اَور نہ ضروری۔ <br> (١٥) حضرت شاہ ابو سعید رحمة اللہ علیہ ہمارے سلسلۂ مشائخ چشتیہ صابریہ میں نہایت معزز اَور محترم بزرگ گزرے ہیں جو کہ تقریبًا ١١٤٠ھ میں فوت ہوئے تھے، حضرت شاہ نظام الدین بلخی رحمة اللہ علیہ کے خلیفہ اَور حضرت شاہ محب اللہ صاحب الٰہ آبادی رحمة اللہ علیہ کے مرشد ہیں اِن کا مزار شاہ عبد القدوس کی خانقاہ کے قریب ایک قُبَّہ میں ہے۔ <br> (١٦) موجودہ مشائخ میں حضرت مولانا خلیل احمد صاحب، مولانا صدیق احمد صاحب اَنبیٹھوی ، مولانا اشرف علی صاحب تھانوی، مولانا عزیزالرحمن صاحب مفتی مدرسہ دیوبند، مولانا اَنور شاہ صاحب، مولانا شبیر احمد صاحب، یہ جملہ حضرات ہر قسم کے کمالات کے حا وی ہیں ، بعض مسائل میں بعض حضرات کا مخالف ہونا دُوسری بات ہے۔ <br> (١٧) ہجومِ اَحزان وہموم کے لیے ہر نماز کے بعد سات مرتبہ سورہ اَلم نشرح اَور سوتے وقت سترہ مرتبہ یہی سورت اوّل آخر درُود شریف پڑھ کر سینہ پر دم کر لیا کریں ، تنگ دستی اَور قرض کے لیے مندجہ ذیل عمل ہمیشہ جاری رکھیں ۔ <br> (١) بعد عشاء تنہا بیٹھ کر ''یَا وَہَّابْ'' چودہ سو چودہ بار پڑھ کر یہ دُعا ایک سو مرتبہ پڑھا کریں ۔ <br> یَا وَھَّابُ ھَبْ لِیْ مِنْ نِّعْمَةِ الدُّنْیَا وَالْآخِرَةِ اِنَّکَ اَنْتَ الْوَھَّابُ اوّل و آخر تین تین دفعہ درُود شریف ہو۔ <br> (٢) بعد نماز ِصبح سورہ اَذَا جَآئَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ الخ اِکیس مرتبہ بعد ظہر ٢٢ مرتبہ بعد عصر ٢٣ مرتبہ بعد مغرب ٢٤ مرتبہ اَور بعد عشاء ٢٥ مرتبہ، اوّل و آخر تین تین مرتبہ درُود شریف پڑھا کرے، مداومت پر اِنشاء اللہ کامیابی حاصل ہوگی، نماز باجماعت اَور اِتباع ِشریعت اَور ذکر میں کوتا ہی نہ کریں ۔ <br> ٭٭٭ <br> <br> <br> <br> <br> علمی مضامین سلسلہ نمبر٣٧ ( قسط : ٤،آخری قسط) <br> ''الحامد ٹرسٹ''نزد جامعہ مدنیہ جدید رائیونڈ روڈ لاہورکی جانب سے شیخ المشائخ محدثِ کبیر حضرت اقدس مولانا سیّد حامد میاں صاحب رحمة اللہ علیہ کے بعض اہم خطوط اور مضامین کو سلسلہ وار شائع کرنے کا اہتمام کیا گیا ہے جو تاحال طبع نہیں ہوسکے جبکہ ان کی نوع بنوع خصوصیات اس بات کی متقاضی ہیں کہ افادۂ عام کی خاطر اِن کو شائع کردیا جائے۔ اسی سلسلہ میں بعض وہ مضامین بھی شائع کیے جائیں گے جو بعض جرا ئد و اخبارات میں مختلف مواقع پر شائع ہو چکے ہیں تاکہ ایک ہی لڑی میں تمام مضامین مرتب و یکجا محفوظ ہو جائیں ۔ (اِدارہ) <br> ٭٭٭ <br> قیام ِ پاکستان اَور مسلمانانِ بر ِ صغیر کے لیے <br> علمائِ دیو بند کا بے داغ کردار <br> ٭٭٭ <br> یہاں تک مکالمة الصدرین کے بارے میں بیشتر مضامین ''کشف ِ حقیقت'' سے لے کر لکھے گئے اسی بحث سے متعلقہ چند اَور باتیں بھی درباری حضرات کو سنادُوں کہ چشم ِ بصیرت اِسے کہتے ہیں نہ کہ محض کفر کا فتوی لگا دینے کو۔ <br> نوٹ : کچھ عرصہ سے ملکی روزناموں میں بِلا وجہ اَکابر علمائِ دیوبند با لخصوص شیخ العرب والعجم حضرت اَقدس مولانا السیّد حسین احمد مدنی رحمة اللہ علیہ پر بے بنیاد اِلزامات لگائے جارہے ہیں اَور اُن کی اعلیٰ سیاسی بصیرت کو جانبدارانہ اَور بے وزن تجزیوں کے ذریعہ بڑی بے اِنصافی سے داغدار کرکے نئی نسل کو گمراہ کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں جبکہ ملک وقوم سے وفاداری اَور اُس کے لیے جان ومال کی قربانیاں دینا، جیلیں کاٹنا اَور ہندوستان کے عوام میں جذبہ آزادی بیدار کرکے تحریک کو ایسے مقام تک لے جا نا جس کے نتیجہ میں ہندوستان پر غاصبانہ قبضہ کرنے والے فرنگیوں کو یہاں سے بوریا بستر گول کر کے راہ ِفرار اِختیار کرنا پڑی اُن کے اخلاص و پاکیزہ کردار اَور اُولو العزمی پر شاہد ِبین ہیں ۔ <br> اِس لیے ضرورت محسوس کی جارہی ہے کہ آج سے٢٥ برس قبل قطب الارشاد حضرت اقدس مولانا سیّد حامد میاں صاحب رحمہ اللہ سابق مرکزی اَمیر جمعیت علمائِ اِسلام کا تحریر فرمودہ مضمون شائع کردیا جائے جس میں تحریک ِ آزادی سے لیکر تادم ِ تحریر مدلل اَور باحوالہ سیاسی حقائق بہت سہل اَنداز میں بیان کیے گئے ہیں ۔ (اِدارہ ) <br> تصور ِ پاکستان اَور حدود ِ پاکستان کے بارے میں حضرت مدنی اپنے دُوسرے رسالہ میں تحریر فرماتے ہیں : <br> پاکستان کے مفہوم کے متعلق اَب تک مختلف تفصیلات آئی ہیں اجلاس لاہور ١٩٤٠ء میں جو قراداد پاس ہوئی تھی اَور جسے پاکستان کی بنیاد قرار دیا جا سکتا ہے اِس کے الفاظ حسب ِ ذیل تھے : <br> مسلم لیگ کی یہ پختہ رائے ہے کہ کوئی دستور حکومت بغیر اِس کے کہ وہ ذیل کے اصول پر مبنی ہو نہ قابل ِ عمل ہوسکتا ہے اَور نہ مسلمانوں کے لیے قابل ِ قبول یہ کہ <br> (١) جغرافیائی حیثیت سے متصل وحدتوں کی ایسے علاقوں میں حد بندی کردی جائے جو اِس طرح بنائے جائیں اَور اُن میں ضرورت کے مطابق ایسی سرحدی تبدیلیاں کی جائیں وہ رقبے جہاں مسلمانوں کی عددی اکثریت ہے مثلاً ہندوستان کی شمال مغربی اَور مشرقی منطقے (یعنی پنجاب و غیرہ اَور بنگال و آسام اُس وقت کے صوبے نہیں بلکہ اَزسرے نو تقسیم شدہ حصے۔ یہی تجویز پنجاب اَور بنگال کی تقسیم کی بنیاد بنی) ایک مستقل ریاست بن جائیں اَوراِس ر یاست کے اجزائِ ترکیبی اَندرونی طرز پر خود مختار اَور مطلق العنان ہوں ۔ <br> (٢) یہ کہ اُن علاقوں اَور منطقوں کے اجزائِ ترکیبی میں اقلیتوں کے مذہبی، ثقافتی، اقتصادی، سیاسی، اِنتظامی اَور دُوسرے حقوق و مفاد کے تحفظ کے لیے آئین میں معتدل اَور مؤثر اَور واجب التعمیل تحفظات درج کیے جائیں اَور نیز ہندوستان کے دُوسرے علاقوں میں جہاں مسلمانوں کی تعداد کم ہے مسلمانوں کے لیے اَور نیز دُوسری اقلیتوں کے لیے ایسی معقول، مؤثر اَور واجب التعمیل تحفظات معین طور پر دستور میں شامل کر دیے جائیں جن سے اُن کے مذہبی ،ثقافتی، اقتصادی، سیاسی اَور دُوسرے حقوق و مفاد کی حفاظت ہوجائے۔ <br> یہ اِجلاس ورکنگ کمیٹی کو یہ اِختیار دیتا ہے کہ دستور کی ایک اسکیم مرتب کرے جو اِن بنیادی اصولوں پر مبنی ہو اَور اِس قسم کی ہو کہ اُس میں یہ گنجائش ہو کہ اِن علاقوں کو اِس قسم کے اِختیارات مل جائیں جیسے دفاع، امور ِخارجہ، رسل ورسائل، کروڑ گیری اَور نیز ایسے ہی دُوسرے امور جو ضروری ہوں ۔(اجمل ٣٠ مئی ١٩٤٤ء ) <br> مذکورہ بالا ریزولیوشن سے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان کے لیے صوبوں کی پرانی حدود نہ ہوں گی بلکہ نئی حدود جو کہ مذکورہ اصولوں کے مطابق ہوں مقرر کی جائیں گی۔ پنجاب ١ اَور بنگال اَور آسام کے وہ اضلاع جن میں مسلمان غیر مسلموں سے اقلیت میں ہیں وہ خارج کر دیے جائیں گے نیز لیگ کی ورکنگ کمیٹی دستور کی کوئی مفصل اسکیم بنائے گی مگر آج تک ہمارے سامنے ورکنگ کمیٹی کی کوئی ایسی اسکیم نہیں آئی شخصی آراء اَور اسکیمیں بہت آئیں جن میں آپس کے اِختلاف کے علاوہ اِن شروط کے مطابق عددی اکثریت بھی بسا اَوقات نہیں پائی جاتی مثلاً ڈاکٹر عبداللطیف صاحب نے مختلف تہذیبی اصول (منطقوں ) کو معیارِ تقسیم قرار دیا ہے جو کہ اِن اصولوں سے علیحدہ ایک اصول ہے۔ <br> چنانچہ روزنامہ حقیقت لکھنؤ اپنی اشاعت مورخہ ٥ ستمبر ١٩٤٥ء ب ٥ نمبر١٤٢ میں لکھتا ہے کہ : <br> کراچی میں مسٹرجناح نے ایک پریس کانفرنس کی جس میں ہندو مسلم اَخبارات کے ایڈیٹر شریک تھے اِس کانفرنس میں ایک مسلمان اَخبار نویس نے مسٹر جناح سے خواہش کی کہ وہ پاکستان کی تعریف کریں ۔ مسٹر جناح نے جواب میں کہا کہ ''مجھے پاکستان کی وضاحت کر نے کے لیے کچھ وقت درکار ہے تاکہ میں اِس کا پوری طرح مطالعہ کر سکوں ۔ پھر اَخبار ایڈیٹر کے مسلسل مطالبہ پر اُنہوں نے جواب دیا جو رسالے اَور مضامین اَب تک پاکستان کی تائید میں شائع ہوچکے ہیں اُن کو پڑھ لو۔'' <br> اُن سے اِس سے زیادہ سول کیے گئے تو اُنہوں نے ناراضگی سے کہا کہ ''اَب وہ اِس مسئلہ میں مزید گفتگو کرنا نہیں چاہتے۔'' <br> ١ حضرت مدنی رحمة اللہ علیہ نے بر وقت غور کرنے اَور طے کرکے ایک چیز پرجم جانے کی تنبیہ فرمائی تھی۔ <br> اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ خود مسٹر جناح کے ذہن میں ٥ ستمبر ١٩٤٥ء تک کوئی مکمل حقیقت اَور تحدید موجود نہ تھی۔ <br> نواب زَادہ لیاقت علی خاں صاحب جنرل سیکریٹری آل اِنڈیا مسلم لیگ ١٤ ستمبر ١٩٤٥ء کو علی گڑھ میں تقریر کرتے ہوئے فرماتے ہیں : <br> ''مجھے ایک بار پھر پاکستان کی تشریح کرلینے دیجیے پاکستان سے مقصود یہ ہے کہ اُن علاقوں میں جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے آزاد اَور خود مختار حکومتیں قائم کی جائیں ۔ لوگ پوچھتے ہیں کہ پاکستان کی حدور ِ اَربعہ کیا ہوں گی۔ میں ایک بار پھر اِس پلیٹ فارم سے اعلان کرتا ہوں کہ پاکستان کی حدور ِ اَربعہ کی بنیاد وہی ہوگی جو اَبھی صوبۂ پنجاب، سرحد، بنگال، بلوچستان اَور آسام کی حدود ِ اَربعہ ہیں ۔'' <br> اِس عبارت سے واضح ہوتا ہے کہ نواب زادہ اُن صوبوں کے قدیمی انگریزی حدود ہی اعتبار فرماتے ہیں اگرچہ اُن میں ایسے متعدد منطقے ہیں جن میں مسلمان بہت تھوڑی اقلیت رکھتے ہیں جیسے صوبۂ آسام کا مشرقی شمالی حصہ یعنی برہم پتر ویلی اَور پہاڑی حصہ وغیرہ۔ یاپنجاب کے مشرقی اَور بنگال کے مغربی منطقے یا سکھوں کے اَکثریت والے اضلاع پنجاب۔ <br> ١٧ اکتوبر ١٩٤٥ء کو مسٹر جناح نے کوئٹہ میں تقریر کرتے ہوئے مندرجہ ذیل الفاظ فرمائے : <br> بہرحال ہمارا مطالبۂ پاکستان بالکل واضح ہے یعنی وہ علاقے جہاں مسلمان عددی اَکثریت رکھتے ہیں اُنہیں آزاد خود مختار ملکوں کی شکل میں مجتمع کیاجائے جن میں ہر واحدہ ترکیبی خود مختار اَور کامل الا قتدار ہوگااَور جن میں اقلیتوں کو اُن کی مذہبی، معاشرتی، اقتصادی، سیاسی اَور انتظامی حقوق کے لیے مؤثر آئینی تحفظات دیے جائیں گے۔ہمارا مطالبہ بالکل واضح ہے اَور اِنصاف کے معیار پرپورا اُترے گا۔(انجام ٢٠ اکتوبر ٤٥ء ج ١٦نمبر ٢٦٨) ۔(وحدت ٢٠ اکتوبر ٤٥ء ج ١٧ نمبر٢١٣) <br> مسٹرجناح نے ایک امریکن نامۂ نگار سے اِنٹر ویو میں کہا : <br> ''پاکستان شمال مغربی سرحدی صوبہ ،بلوچستان، سندھ، پنجاب اَور بنگال جس میں بندرگاہ کلکتہ اَور اُس کے اِرد گرد صنعتی علاقے بھی شامل ہیں اَور آسام کے صوبوں پر مشتمل ہوگا۔پاکستان کا آئین سیاسی طور پر بالکل جمہوری ہوگا۔ بڑی بڑی صنعتیں اَور عوام کو فائدہ پہنچانے والی سروسیں سوشلسٹ اصولوں پر قومی ہوں گی۔تمام صوبوں اَور اُن سے متعلق تمام ریاستوں کو داخلی آزادی حاصل ہوگی۔ <br> پاکستان دو بڑے حصوں یعنی شمال مغربی اَور شمال مشرقی پر مشتمل ہوگا۔ لیکن وہ بحیثیت عمومی ایک ہی بلاک کہلائے گا۔ اِس کے قدرتی ذرائع اَور اِس کی آبادی اِتنی کافی ہوگی کہ اِسے دُنیا کی ایک طاقت بنا سکے۔ مجموعی آبادی تقریبا ًدس کروڑ ہوگی۔ کوئی وجہ نہیں کہ اِس کے قدرتی وسائل سے فائدہ نہ اُٹھایا جائے یا اِسے دُنیا کی بڑی طاقت نہ بنایا جائے۔ انگلستان کی آبادی ساڑھ تین کروڑ سے زائد نہیں پھر بھی وہ دُنیا کا بہت بڑا ملک بن گیا ہے۔'' <br> اِس بیان میں صوبوں کی تفصیل ہے لیکن یہ نہیں ہے کہ اُن کی تحدید اِسی نہج پر ہوگی جو کہ انگریزی گورنمنٹ نے کر رکھی ہے یا اِس میں سے وہ منطقے جو کہ غیر مسلم اَکثریت رکھنے والے ہیں خارج کیے جائیں گے یا نہیں ۔اَلبتہ ڈاکٹر اقبال مرحوم کا وہ بیان جو کہ اِلہ آباد کے جلاس میں ١٩٣٠ء میں اُنہوں نے اپنے خطبہ میں دیا تھا وہ اِن قطعوں کو صاف الفاظ میں مستثنیٰ فرماتے ہیں ۔ مندرجۂ ذیل الفاظ ملاحظہ ہوں : <br> ''اِس تجویز کو ہنٹر کمیٹی کے سامنے بھی پیش کیا گیا ہے اُنہوں نے اِسے اِس بنا ء پر رَد کر دیا کہ اِس پر عمل کرنے سے ایک ناقابل ِ انتظام سلطنت ظہور پذیر ہوگی۔ یہ صحیح ہے جہاں تک کہ رقبہ کا تعلق ہے لیکن آبادی کے لحاظ سے ہندوستان کے بعض موجودہ صوبوں سے کمتر ہوگی۔ لیکن اگر اَنبالہ ڈیویژن اَور بعض دیگر غیر اِسلامی اضلاع کو اَلگ کردیا جائے تو اِس کی وسعت بھی کم ہوجائے گی اَور مسلم آبادی کا عنصر اَوربھی بڑھ جائے گا۔ اِس طرح غیرمسلم اقلیتوں کو مزید مؤثر سیاسی مراعات دینے کا موقع بھی میسر ہوگا۔ '' <br> اِن تمام اقوال میں کشمیر ١ کا کوئی تذکرہ موجود نہیں ہے مزید چوہدری رحمت علی صاحب بانی پاکستان نیشنل موومنٹ ١٩٣٣ء میں کشمیر کو بھی اِس میں داخل فرماتے ہوئے پاکستان کی وجہ تسمیہ میں حرف ِکاف کو کشمیر ہی میں سے لیتے ہیں ظاہر ہے مسلم آبادی کی وہاں پر خصوصی اَور غیر معمولی اَکثریت اِس کی مقتضی بھی ہے اگر چہ لیگی حضرات اِس سے ساکت یا مخالف معلوم ہوتے ہیں ۔ <br> بہرحال پاکستان کی حدود کی تعیین محتاج تنقیح ضرور ہے اَقوال مختلف ہیں کوئی قابل ِ اطمینان صورت اَبھی تک سامنے نہیں آئی ہے۔ اگر آبادی کی اَکثریت کوہی بنائِ تقسیم قرار دیا جاتا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ غیر مسلم اَکثریت والے اِضلاع کو مجبور کیاجائے کہ وہ حق ِخود اِختیاری اَور حق ِاِنفصال سے روکے جائیں اَور اپنی مرضی کے مطابق جس مرکز سے چاہیں تعلق نہ رکھیں اَور اگر تحدیدات ِ برطانیہ کو اِس کا موجب قرار دیا جاتا ہے تو اِس کی محقولیت میں یقینا کلام ہے بالخصوص لاہور والی تجویز کی روشنی میں ۔ <br> پاکستان کا طرز ِ حکومت : <br> اِس رسالہ میں حضرت مدنی رحمة اللہ علیہ اِس معاملہ پر بھی پوری طرح روشنی ڈالتے ہیں وہ تحریر فرماتے ہیں : <br> خود مسٹرجناح نے بمبئی کے ایک اجتماع میں فرمایا کہ : <br> ''پاکستان کا دستور ِ اساسی پاکستانی عوام مرتب کریں گے اَور تمام اَقلیتوں کو حکومت میں نمائندگی دی جائے گی۔ ''(زمیندار لاہور مورخہ ١٠ نومبر ١٩٤٥ء ) <br> احمد آباد میں تقریر کرتے ہوئے فرمایا : <br> ''پاکستان کی حکومت جمہوری ہوگی اَور سارا نظم و نسق عوام کے نمائندوں کے ہاتھوں میں ہوگا۔'' (انجام مورخہ ٢٧ اگست ١٩٤٥ئ) <br> نمائندہ نیوزکرا نیکل کو بیان دیتے ہوئے مسٹر جناح نے فرمایا : <br> ١ حضرت مدنی کی یہ تحریر ٤٥ء کی ہے اِس میں وہ کشمیر کی یاد دِہانی کرارہے ہیں ۔ <br> ''پاکستان کی حکومت (یورپین) جمہوریت کے طریقہ پر ہوگی۔ ہندو اَور مسلمان آبادی اَور مردم شماری کی حیثیت سے رائے شماری کر کے فیصلہ صادر کریں گے اَور وَزارتوں اَور لیجیلیچر میں سب حصہ دار ہوں گے۔(شہباز لاہور مورخہ ٢٧ اکتوبر ١٩٤٥ء بحوالہ ڈان) <br> ٨ نومبر ١٩٤٥ ء کو بمبئی میں ایسوسی ایٹڈ پریس آف امریکہ کو بیان دیتے ہوئے مسٹر جناح نے فرمایا کہ : <br> ''پاکستان ایک جمہوری حکومت ہوگی مجھے اُمید ہے کہ پاکستان کی بڑی بڑی صنعتیں اَور کارخانے سوشلسٹ اصول پر قوم کے قبضہ میں دیے جائیں گے۔ (منشور ١١ نومبر ٤٥ء ص ٣ کالم نمبر ٢) ۔(انجام ١٢ نومبر ٤٥ء ص ١ کالم نمبر ٤) <br> میاں بشیر احمد صاحب رُکن ورکنگ کمیٹی آل اِنڈیا مسلم لیگ ٢ نومبر ١٩٤٥ء کو لاہور کے جلسۂ عام میں تقریر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : <br> ''ہمارے قائد اعظم بار با کہہ چکے ہیں کہ پاکستان میں بِلا لحاظ مذہب عوام کی حکومت ہوگی پاکستان میں ہندوؤں اَور سکھوں کو برابری اَور آزادی جائے گی۔'' <br> علی گڑھ یونیورسٹی میں نواب زادہ لیاقت علی خاں صاحب نے تقریر کرتے ہوئے فرمایا کہ : <br> ''ہم سے سوال کیا جاتا ہے کہ پاکستان کا دستور ِ اساسی کیا ہوگا ،اِس کا جواب یہ ہے کہ پاکستان ایک جمہوری اسٹیٹ ہوگا اَور اِس کے دستور ِ اساسی کی تشکیل اُن علاقوں کے باشندگان بتوسط ایک منتخب کردہ مجلس دستورِ اساسی خود ہی کریں گے ہر چیز اظہر من الشمس ہے۔'' (عصرِ جدید کلکتہ مورخہ ٢٦ ستمبر ١٩٤٥ء بحوالہ ڈان ٢٥ ستمبر ٤٥ ء ص ٦ کالم ١) <br> شہباز لاہور مورخہ ٢٧ اکتوبر ١٩٤٥ء لکھتا ہے کہ لیگ کا ذمہ دار سرکاری ترجمان ڈان لکھتا ہے کہ : <br> ''مسٹرجناح نے ہمیشہ کہا ہے کہ پاکستان کوئی دینی و مذہبی حکومت ہر گز نہ ہوگی بلکہ خالصًا ایک دُنیوی حکومت ہوگی اَور مسلمانوں کی حکومت ِالٰہیہ کے نظریہ سے اِس کا کوئی تعلق نہ ہوگا۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کو عالمگیر اِسلامی قومیت (پین اِسلام اِزم ) سے کوئی دُور کا واسطہ بھی ہے اُن سے مسٹر جناح کو ہر گز اِتفاق نہیں ۔ '' <br> ڈان ٩ ستمبر ١٩٤٥ء لکھتاہے کہ : <br> ''مسٹر جناح نے ہمیشہ پاکستان کو ایک دُنیاوی اسٹیٹ قرار دیا ہے اَور اِس خیال کی ہمیشہ سختی سے مخالفت کی ہے کہ اِس میں مسلمانوں کی حکومت اِلٰہیہ قائم ہوگی۔ جولوگ پاکستان کو پان اِسلام اِزم (اتحاد ِاسلامی) کے مترادف قرار دیتے ہیں وہ اِتحاد کے دُشمن ہیں ۔'' <br> مدینہ بجنوز مورخہ ٢١ نومبر ١٩٤٤ء نمبر٩٤ جلد نمبر ٣٣ لکھتا ہے کہ اَخبار ''ایمان'' نے مسلم لیگ کے ترجمان ڈان کے ایک مراسلہ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ : <br> ''پاکستان میں مذہبی حکومت یا مسلم راج نہ ہوں گے کیونکہ مذہبی حکومت صرف وہاں قائم ہوسکتی ہے جہاں ایک ہی مذہب کے سوفیصدی لوگ ہوں یا اِتنی فوجی طاقت ہو کہ وہ غیر مذہب والوں کو مجبور کرکے مطیع کر سکے۔'' <br> پھر یہی صاحب فرماتے ہیں کہ : <br> ''اگر پاکستان میں مذہبی حکومت بنادی گئی تو اِس سے عوام کی ترقی رُک جائے گی طبقات کی تفریق کا سلسلہ جاری رہے گا۔ اِنسان کی اجتماعی اَور اقتصادی نجات کی راہ بند ہو جائے گی مذہبی حکومت کے پیشرو مسلمان ہوں گے اَور وہ قابل نہیں ہیں ، ہندو صوبوں کے مسلمانوں پر ظلم و ستم ہونے لگیں گے اِس سے ہندوستان میں خانہ جنگی کی آگ بھڑک اُٹھے گی۔'' <br> ''پاکستان کیا ہے'' حصہ دوم اَز ص ٢ تا ص ١٢ <br> بقلم شیخ الاسلام حضرت مولانا سیّد حسین احمد صاحب مدنی <br> صدر جمعیة علمائِ ہند و صدر کُل ہند مسلم پارلیمنٹری بورڈ <br> ناشر ناظم جمعیة علمائِ ہند دہلی <br> حضرت مدنی تحریر فرماتے ہیں کہ : <br> ''پاکستان کی حکومت یورپین طریقہ پر ڈیموکریسی (جمہوری) حکومت ہوگی جس میں پریسیڈنٹ کیبنٹ اَور لیجلیچر کا تابع محض ہوگا بیشک وہ مسلم لیگی ہوسکتا ہے مگر صرف اُس وقت تک کہ جب لیگ کی پارٹی کے ممبر اکثریت میں ہوں اَور ہاؤس کی اَکثریت اُس کو منتخب کرے اَور اگر کوئی مخلوط پارٹی اکثریت میں آگئی اَور اُس نے غیر مسلم کو منتخب کردیا تو مسلمان پریسیڈنٹ بھی نہ ہوگا۔'' (پاکستان کیا ہے ص ١٦ حصہ دوم) <br> قائد اعظم نے ٢٩ فروری ١٩٤٤ء کو نیوز کرانیکل لندن کی دعوت پر پاکستان کے مسئلہ میں جو بیان دیا تھا حضرت مدنی نے وہ بھی نقل فرمایا ہے اُنہوں نے کہا : <br> ُُ''اگر برطانوی حکومت ملک کے دوٹکڑے کردے تو تھوڑے عرصہ کے بعد جو تین ماہ سے زیادہ نہ ہوگا ہندو لیڈر خاموش ہوجائیں گے۔ اَور جب تک دونوں ٹکڑے آپس میں امن سے نہ رہیں تب تک برطانوی حکومت کا فوجی اَور خارجی کنٹرول ضروری ہے اِس صورت میں مصر کی طرح کم اَزکم ہم اَندرونی طور پر تو آزاد ہوں گے۔ آج بھی اصولاً پانج صوبوں میں پاکستانی حکومتیں مسلم لیگ کے ماتحت قائم ہیں اَور ہندو وزیر اُن میں کام کر رہے ہیں ۔ پاکستان کی قائمی میں ٤/٣ ملک ہندووں کے زیرِ اثر ہوگا اَور٤/١ مسلمانوں کے، نیز پاکستان کے قائم ہونے سے دائمی امن کی اُمید ہے۔ (مدینہ بجنوز ١٧ جلد ٣٣ مورخہ ٥ مارچ ١٩٤٤ئ) ۔ (پاکستان کیا ہے ص٢٢ حصہ اوّل ) <br> حضرت مدنی رحمة اللہ علیہ نے اِن تحریرات و تقاریر وغیرہ سے اِستدلال کر کے یہ بیان فرمایا ہے کہ : <br> (١) پاکستان بنانے کے لیے تقسیم کے اصول معین نہیں کیے گئے۔ <br> (٢) پاکستان میں جب یورپین طرز کی جمہوری حکومت ہوگی تو خود مسلم لیگ کی حکومت بھی ختم ہو کر کسی دُوسری پارٹی کی حکومت آسکتی ہے۔ <br> (٣) ذمہ دار حضرات وہاں سرے سے مذہبی حکومت قائم کرنے کے حق میں ہی نہیں ہیں ۔ <br> (٤) وہ حکومت ،حکومت ِ برطانیہ کے زیرِ اَثر ہوگی اَور اگر حکومت مصر کی طرح ہوئی تو ملک تو آزاد نہ ہوگا غلام ہی رہے گا، وہ بھی غیر معینہ عرصہ تک کے لیے۔ <br> بہرحال یہ اُن کے دلائل تھے جو ہمیں پورے تیس سال گزرجانے کے بعد بھی اِن اَکابر کے رسائل میں مل گئے اَور بھی بہت سے رسائل تھے جن میں بحث علمی اَور مفکرانہ اَنداز میں تھی ۔اِن حالات کو وہ خوب سمجھتے تھے ۔ <br> اِس لیے اِن حضرات نے علامہ شبیر احمد صاحب عثمانی کی توجہ اِس طرف مبذول کرائی تھی کہ مسلم لیگ سے باضابطہ طے کر لیں کہ پاکستان میں شرعی نظام ہی نافذ ہوگا۔ کیونکہ اِس میں شامل موثر عنصر مذہب سے واقف نہیں اَور مسلم لیگ یورپین جمہوری نظام کی طرف جارہی ہے۔ مگر اُنہوں نے مسلم لیگ سے طے کرنے کے بجائے ''مکالمة الصدرین'' نامی رسالہ میں مولانا مدنی کو ہی جواب دے دیا ۔ اُنہوں نے حضرت مدنی رحمة اللہ علیہ جیسے '' اَلْاَلْمَعِیْ '' کی مخلصانہ رائے پر عمل نہ کیا۔ ورنہ وہ اَکابر مسلم لیگ سے صاف طرح طے کر لیتے اَور پاکستان بنتے ہی بجائے نظام ِ اسلامی سے دُوری کے نفاذ ِنظامِ اسلامی عمل میں آتا۔ یہ حضرات مسلم لیگ سے باضابطہ جماعتی طور پر ''نفاذِ نظام ِ اسلامی'' منظور کرانے پر اِس لیے زور دے رہے تھے کہ اُنہیں پہلے تجربہ ہوچکا تھا اَور وہ مسلم لیگ سے اِسلامی نظام کے بارے میں مایوس ہوچکے تھے۔ <br> احتشام الحق صاحب تھانوی مسئلہ رویت ِ حلال کے اختلاف پر ایوب خان کی نظر بندی سے رہا ہوکر آئے تو اُنہیں لاہور اَور راولپنڈی میں شاندار عصرانے دیے گئے۔ دونوں ہی جگہ اُنہوں نے تقریر کرتے ہوئے حضرت مولانا حفظ الرحمن صاحب رحمة اللہ علیہ جنرل سیکرٹری جمعیة علماء ہند کے خلوص و فراست کی تعریف کی اَور اُن کی یہ بات نقل کی جو مولانا نے اُن سے کہی تھی کہ : <br> ''پاکستان تو بڑی بات ہے اگر مجھے یقین ہو کہ فقط ضلع گڑگانوہ جتنی جگہ کا نظام شرعی نافذ کرنے کے لیے مطالبہ کیا جارہا ہے تو میں اِس کے لیے اپنی پوری زندگی وقف کرنے کے لیے تیار ہوں ۔'' <br> میں بھی اِس استقبالیہ عصرانہ میں موجود تھا۔ یہ مال روڈ پر سابق '' نیڈوز ہوٹل'' میں دیا گیا تھا۔ چھ سو سے زائد سامعین تھے اَور جوصاحب چاہیں تھانوی صاحب سے دریافت کر سکتے ہیں ۔ <br> آخری دور میں خود علامہ عثمانی صاحب رحمة اللہ علیہ کے خیالات بزبان امیر شریعت حضرت مولانا عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری وغیرہم مایوسانہ ہوگئے تھے۔ اُنہوں نے وفات کے قریبی دِنوں میں بہاولپور میں متعدد جملے فرمائے ۔ ''مجھ سے دھوکہ ہوا'' ''میرے ساتھی صحیح کہاکرتے تھے '' ''میں اَپنوں سے دُور ہوگیا ہوں '' <br> پہلے گزر چکا ہے کہ مولانا مدنی کے جیل جانے کے بعد حالات اَیسے ہوگئے تھے کہ علامہ عثمانی دیوبند سے باہر چلے گئے تھے اَور پھر دُور اَور دُوری میں مجبور ہوتے چلے گئے۔ رحمہ اللّٰہ تعالٰی۔ <br> تنبیہ : <br> ہم نے اِن اَکابر کا یہ فارمولا اِس لیے ذکر کیا ہے کہ اِن کے متعلق جو لوگوں کو غلط فہمیاں ہیں وہ دُور ہوجائیں کہ اِن حضرات نے اپنی دَانست میں اپنی فراست سے دیانتداری کے ساتھ کام لیا تھا ۔ معاذَاللہ بدنیتی کی بد گمانی بھی غلط ہے اَور سیاسی بصیرت کی کمی کا اِنتساب بھی غلط ہے۔ <br> حضرت مدنی رحمةاللہ علیہ کا ایک واقعہ الجمعیة کے شیخ الاسلام نمبر خصوصی شمارہ جلد ٤٣ بروز ہفتہ ٢٥ رجب ١٣٧٧ھ /١٥ فروری ١٩٥٨ء میں ص ١٦٤ کالم نمبر١ سطر نمبر پانچ پر دیا گیا ہے۔ بعد میں وہ ایک اَور کتاب میں جو ١٩٦٥ء میں لکھی گئی ہے طبع ہوا، کتاب کا نام ہے ''حیرت اَنگیز واقعات '' عنوان ہے ''تقسیم ِ ہند کی حتمی پیشین گوئی۔'' <br> اَوائل ١٩٤٦ء میں جنرل الیکشن کی ہنگامہ خیزیوں کا زمانہ تھا۔ حضرت شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی نوراللہ مرقدہ مسلم پارلیمنٹری بورڈ کے اُمیدواروں کو کامیاب بنانے کے لیے تمام ہندوستان کا طوفانی دَورہ فرمارہے تھے۔ صوبہ بنگال میں تمام صوبوں کے بعد الیکشن ہوا تھا اِس لیے حضرت شیخ الاسلام اَوائل فروری میں نواکھالی تشریف لے گئے۔ مختلف مقامات پر حضرت کی تقریروں کا پروگرام بنا۔ آپ کے سفر سے متعلقہ اِنتظامات راقم الحروف سے متعلق تھے۔ <br> بہرحال ہمارا قافلہ ٣ مارچ کی شام گوپال پور تھانہ بیگم گنج پہنچا۔ مولانا عبدالحکیم صدیقی، مولانا نافع گل اَور دیگر چار پشاوری طالبعلم ہمراہ تھے۔ <br> چوہدری رازق الحیدر چیرمین ڈسٹرکٹ بورڈ نواکھالی کے دولت کدہ پر قیام ہوا۔ دُوسرے دِن ایک عظیم الشان جلسہ میں انتخابی تقریر کرنی تھی۔ نماز ِ عشاء کے بعد ١١ بجے طعام تناول کیا اَور تقریبًا ١٢ بجے سونے کی غرض سے آرام فرمانے لگے۔ راقم الحروف پاؤں دباتا رہا۔ کچھ دیر بعد آپ کو نیند آگئی اَور ہم لوگ دُوسرے کمرے میں بعض ضروری کاموں کی تکمیل میں مصروف ہوگئے۔ تقریبًا دو بجے شب کو راقم الحروف اَور چوہدری محمد مصطفی (ریٹائرڈ) اِنسپکٹر مدارس کو طلب فرمایا ہم دونوں فورًاحاضر خدمت ہوئے۔ اِرشاد فرمایا کہ : لوبھئی! اصحاب ِ باطن نے ہندوستان کی تقسیم کا فیصلہ کردیا اَور ہندوستان کی تقسیم کے ساتھ بنگال و پنجاب کو بھی تقسیم کردیا۔ یہ سن کر راقم الحروف نے عرض کیا کہ اَب ہم لوگ جو تقسیم کے مخالف ہیں کیا کریں گے؟ آپ نے جواب دیا کہ ہم ظاہر کے پابند ہیں اَور جس بات کو حق سمجھتے ہیں اُس کی تبلیغ پوری قوت سے جاری رکھیں گے۔ <br> دُوسرے دِن گوپالپور کے عظیم الشان جلسہ میں تقسیم کی مضرتوں پر معرکة الاراء اَور تاریخی تقریر فرمائی اَور ایک سال چار ماہ بعد ٣ جون ١٩٤٧ء کو لارڈ ماؤنٹ بیٹن گورنر جنرل ہند کے غیر متوقع اعلان سے اِس پیشین گوئی کی حرف بحرف تصدیق ہوگئی۔ <br> (مولانا رشید احمد صاحب صدیقی، کلکتہ ، واقعات ص ٤٦) <br> اِس سے صاف واضح ہورہا ہے کہ دیانتًا آپ کی رائے میں مسلمانوں کے لیے فلاحی فارمولا یہی تھا اَور آپ اِس کے لیے کوشش عقلاً و دیانتًا ضروری سمجھتے ہیں ۔ خدا نخواستہ کسی بھی قسم کی سخن پروری یانفسانیت کا اِس میں شائبہ نہ تھا۔ <br> اِسی طرح آپ سے پاکستان کے بارے میں سوال ہوا تو آپ نے فرمایا : <br> ''مسجد جب تک نہ بنے اِختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن جب وہ بن گئی تو مسجد ہے۔'' (الجمعیة کا مذکورہ شیخ الاسلام نمبر ص ٧١ کالم نمبر١) <br> لہٰذا اَب ہمارے لیے مملکت ِ پاکستان ''مسجد'' کا حکم رکھتی ہے اِس کی بقاء اَور استحکام کی کوشش حضرت مولانا السیّد حسین احمد مدنی رحمہ اللہ کے اِس اِرشاد کے بموجب ہم سب کا مذہبی فرض ہے۔ <br> ہمارے بریلوی دوست جنہوں نے ''مکالمة الصدرین '' چھاپا، اُنہوں نے ہمیں اِس واقعہ کی اَور اِس فارمولے کی تفصیل بیان کرنے پر مجبور کردیا۔ ورنہ اَب یہ سب باتیں پرانی ہوچکی ہیں ۔ اَب وہ ذرا اپنے رسائل اُٹھا کر دیکھیں ۔نورانی صاحب احکام ِ نوریہ شرعیہ برمسلم لیگ، میں مسلم لیگ کی بلکہ اپنے سوا سب جماعتوں اَور ساری اُمت ِ محمدیہ کی تکفیر پہلے ملاحظہ فرمالیں ۔ اَور دُوسری کتابوں مثلاً مسلم لیگ کی زریں بخیہ دری ۔ اَلْجَوَابَاتُ السَّنِیَّہْ عَلٰی زُھَائِ السُّوَالَاتِ اللِّیْگِیَّہْ اَور قہر القادر علی الکفار اللیاڈر ملقب بلقب لیڈروں کی سیاہ کاریاں میں مسلم لیگ کی بلکہ اپنے سوا ساری اُمت ِ محمدیہ کی تکفیر پہلے ملاحظہ فرمالیں ۔ اِن میں مسٹر جناح کو جہنم کا کتا ثابت کیا ہے۔ اَلْجَوَابَاتُ السَّنِیَّہْ میں مسلم لیگ کے اَغراض و مقاصد کے بارے میں سرکارِ مارہرہ کے اَولادِ رسول محمد میاں صاحب نے اپنے فتوے میں اِرشاد فرمایا ہے : <br> ''اَور یہ سب اغراض و مقاصد صریح محرمات ِ شرعیہ پر مشتمل اَور حرام ِ قطعی اَور منجر باشد وبال و نکال وکفر و ضلال ہیں ۔ اَور اِن کے ہوتے ہوئے لیگ کی شرکت و رُکنیت سخت ممنوع وحرام ہے۔'' (الجوابات السنیہ ص ٣ سطر٩، نمبر١٠ مطبع سلطانی بمبئی) <br> اِس کے بعد ایک ایک کر کے اِس کے اغراض و مقاصد کی تغلیط کی ہے اَور انہیں ضلالت و گمراہی قرار دیا ہے۔ اِس فتوے کے ہوتے ہوئے بھی آپ بڑی بے شرمی سے ڈٹ کر یہ جھوٹ بولتے ہیں کہ آپ کے اَکابر نے پاکستان بنایا۔ ع <br> شرم تم کو مگر نہیں آتی <br> مسلم لیگ کی زریں بخیہ دری میں اُن ہی بزرگ اَولادِ رسول محمد میاں صاحب نے ایک وجہ یہ بھی لکھی ہے : <br> ''اَور جب لیگی جلسہ میں حضرت مولانا اشرف علی زندہ بادکے نعرے لگائے جاتے ہیں '' <br> (ص٦ سطر٥ مطبوعہ سد ریشن پریس ایٹہ) <br> بلکہ مسلم لیگ کی زریں بخیہ دری کا صفحہ ٦ سارا اِسی ذکر سے بھرا ہوا ہے۔ <br> تو سوال یہ ہے کہ جب مسلم لیگ میں تھانوی زندہ باد ہورہا تھا اَور وہ وہاں آپ سے بہت پہلے سے موجود تھے تو آپ وہاں کیسے پہنچ گئے۔ اَور آپ کی جماعت نے اُس کی تائید کیسے کردی۔ آپ کو ضرور کوئی بھول ہورہی ہے آپ تو اِس فتوے بازی میں لگے دین ِ اِسلام کو بازیچۂ اطفال بنا رہے تھے۔ <br> احکام ِ نوریہ شرعیہ بر مسلم لیگ میں تحریر ہے : <br> اِسی تھانوی کو لیگیوں کی تقریروں تحریروں میں شیخ الاسلام تھا نہ بھون کہا جاتا ہے حکیم الامت لکھا جاتا ہے لیگ کے اجلاس میں تھانوی کا پیغام خاص احترام و اہتمام سے لیا اَور سنا جاتا ہے۔ لیگ کے جلسہ میں حضرت مولانا اشرف علی زندہ باد کے نعرے لگائے جاتے ہیں ۔( ص ٢١، سطر ١٣ تا ١٦ و سطر ٢٠ ) <br> نیز مسلم لیگ کی خرابیوں میں اِسی صفحہ پر تحریر ہے : <br> مسٹر محمد علی جناح قائد اعظم اَور سیاسی پیغمبر (ص ٢١ سطر ٢١۔ ٢٢) <br> اِس میں تاریخی طور پر آپ ہی کی تحریرات سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت تھانوی نوراللہ مرقدہ کا نام نامی اَور اُن کے پیغامات مسلم لیگ میں کب کے پہنچ چکے تھے۔ اَور آپ وہاں غائب تھے پھر بھی پاکستان بنانے والے آپ اَور علماء دیوبند پاکستان مخالف۔ <br> آپ اپنی عادت ِ شریفہ پر نظرڈالیں ۔ کہیں آپ اپنی کسی عادت کی وجہ سے نہ بھول میں پڑ رہے ہوں ۔ آپ کی عادت ہے کہ آپ پکے پکائے کھانے پر ختم پڑھنے کے بہانے آموجود ہوتے ہیں ۔ اِسی طرح جب مسلم لیگ کامیاب ہوگئی اَور پاکستان بننا طے ہوگیا تو آپ بھی تشریف لے آئے۔ یہ آپ کی عادت کے عین مطابق ہے کیونکہ ختم پڑھتے وقت آپ یہ نہیں پوچھتے کہ ختم کا مال دینے ولا نیچری ہے مسلم لیگی ہے، خاکساری ہے، یا نیب کا ہے۔ <br> آپ کا کسی کو کافربنانا بھی ذاتی اَغراض اَور حسد وغیرہ کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اَور جب کفر کا فتوی دینا ہوتا ہے تو کہتے ہیں کہ اِس عبارت کا تواَور کوئی مطلب ہی نہیں ہو سکتا اِس لیے تکفیر ضروری ہے۔ اَور جب کوئی اَور غرض ہوتی ہے تو سب باتیں بالائے طاق رکھ دی جاتی ہیں ۔ اِسی طرح مسلم لیگ اَور پاکستان کے ساتھ آپ نے کیا ہے۔ آپ کی کتابیں سب موجود ہیں ۔بہتر ہو کہ اِن قصوں کو نہ چھیڑا کریں اَور کسی تعمیری کام میں لگیں ۔ واللہ الموفق۔ <br> سازشوں کے بعد بچ جانے والا <br> موجودہ پاکستان <br> خدا اِسے صحیح معنی میں اِسلامی مملکت بنادے <br> قَالَ اللّٰہُ تَعَالٰی: اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ کُنْتُمْ مُؤْمِنِیْنَ۔( پ ٤) <br> یعنی تم ہی سب سے سربلند ہو اگر تم اِیمان والے ہو <br> حامد میاں غفرلہ <br> ٭٭٭ <br> <br> <br> <br> <br> قسط : ١٦ <br> تربیت ِ اَولاد <br> ( اَز افادات : حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی ) <br> ٭٭٭ <br> زیر ِنظر رسالہ '' تربیت ِ اولاد'' حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی کے افادات کا مرتب مجموعہ ہے جس میں عقل ونقل اور تجربہ کی روشنی میں اَولاد کے ہونے ، نہ ہونے، ہوکر مرجانے اور حالت ِ حمل اور پیدائش سے لے کر زمانۂ بلوغ تک رُوحانی وجسمانی تعلیم وتربیت کے اِسلامی طریقے اور شرعی احکام بتلائے گئے ہیں ۔ پیدائش کے بعد پیش آنے والے معاملات ، عقیقہ، ختنہ وغیرہ اُمور تفصیل کے ساتھ ذکر کیے گئے ہیں ، مرد عورت کے لیے ماں باپ بننے سے پہلے اور اُس کے بعد اِس کا مطالعہ اولاد کی صحیح رہنمائی کے لیے انشاء اللہ مفید ہوگا۔اِس کے مطابق عمل کرنے سے اَولاد نہ صرف دُنیا میں آنکھوں کی ٹھنڈک ہوگی بلکہ ذخیرہ ٔ آخرت بھی ثابت ہوگی اِنشاء اللہ۔اللہ پاک زائد سے زا ئد مسلمانوں کو اِس سے استفادہ کی توفیق نصیب فرمائے۔ <br> لڑکیوں کے ناک کان چِھدْوانا : <br> زیور کے شوق میں لڑکیوں کو ساری مصیبتیں آسان ہو جاتی ہیں یعنی کان چھدوانے میں کتنی تکلیف ہوتی ہے مگر لڑکیاں ہنسی خوشی سب کام کرالیتی ہیں بلکہ اگر کوئی اُن سے یہ کہے کہ کان چھدوا کر کیا لوگی خواہ مخواہ تکلیف اپنے سر مول لیتی ہو کان مت چھدواؤ تو اُس سے لڑنے کوتیار ہوجاتی ہیں ۔ <br> میرے ایک دوست ہیں اُن کو اپنی لڑکی سے بہت محبت تھی۔ ایک دِن وہ مجھ سے کہنے لگے کہ اگر میں اِس بچی کے کان نہ چھدواؤں تو کچھ حرج تو نہیں ہے؟ مجھے اِس کی تکلیف سے بہت تکلیف ہوتی ہے۔میں نے کہا کچھ حرج نہیں یہ خبر کہیں سے اُس لڑکی کو پہنچ گئی مجھ پر بڑی خفا ہوئی کہ اپنی بیوی بہن کو تو نہیں دیکھتے یہ مسئلہ میرے ہی واسطے نکالا ہے۔ (الکمال فی الدین النساء ص ٨٣) <br> ایک صاحب نے ناک چھدوانے کے متعلق دریافت کیا۔ فرمایا کہ اِس کے متعلق صاحب دُرِمختار نے یہ لکھا ہے کہ لَمْ اَرٰہُ (میں نے اِس کی کہیں تصریح نہیں دیکھی) اَور شامی نے اِس کو کان پر قیاس کر کے جائز لکھا ہے یعنی چونکہ کان اَور ناک میں بظاہر کوئی فرق نہیں اَور کان کے متعلق نص ہے اِس لیے اِس کو بھی جائز کہا جائے گا لیکن ناک چھدوانا خلاف ِاَولیٰ ہے۔ (دعوات عبدیت مقالات ِحکمت ص ١٩/٢٩) <br> کان ناک چھیدنے کا حکم : <br> کان ناک چھیدنا جیسا کہ ہندوستان میں رائج ہے ثابت ہے یا نہیں ؟ فرمایا : کان کی صرف لَو چھیدنا ثابت ہے اَور ناک چھیدنا ثابت نہیں ۔ بلاق تو بہت ہی بُرا معلوم ہوتا ہے۔ خواجہ صاحب نے پوچھا میں اپنی لڑکی کے ناک کان چھدواؤں یا نہیں ؟ فرمایا جائز تو ہے اَور یہ بات بھی قابل ِ غور اَور قبول لحاظ ہے کہ بڑے ہوکر خود اُس کو یہ حسرت نہ ہو کہ میرے کان ناک کیوں نہ چھیدے گئے۔ (حسن العزیزص ٤/٣٠٥) <br> چھوٹے بچوں کو چھیڑ چھاڑ کر نے کا حکم : <br> لڑکوں کو چھیڑنے کے متعلق میں نے یہ سمجھا ہے کہ کبھی تو اُن کو واقعی (اِس چھیڑ چھاڑ سے قلبی) تکلیف ہوتی ہے تو ایسا چھیڑنا تو جائز نہیں (خواہ ماں باپ ہی کیوں نہ چھیڑیں ) اَور کبھی تکلیف نہیں ہوتی اَور ناز سے تکلیف ظاہر کرتے ہیں اِس میں گنجائش معلوم ہوتی ہے۔ (حسن العزیز ص ١/٧٠٧) <br> اَولادکے واسطے دُعاء : <br> ہم کو حضرت ابراہیم علیہ السلام سے سبق سیکھ لینا چاہیے کہ اُنہوں نے جہاں اپنی اَولاد کے لیے دُنیاوی نفع کی دُعا کی ہے۔ وَارْزُقْ اَھْلَہ مِنَ الثَّمَرَاتِ مَنْ اٰمَنَ مِنْھُمْ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ اَور روزی دے اِس کے رہنے والوں کو پھلوں کی قسم سے، اُن لوگوں میں سے جو ایمان لائے اللہ اَور قیامت کے دِن پر۔ وہاں اِس دِینی نفع کی بھی دُعا ہے رَبَّنَا وَابْعَثْ فِیْھِمْ رَسُوْلًا مِّنْھُمْ الآیة اے پرور دگار ہمارے بھیج اُن میں ایک رسول اُن ہی میں کا۔ <br> حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جیسے دُنیا کے لیے دُعا کی ایسے ہی آخرت کے لیے بھی دُعا کی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی ذُرّیت کے لیے جو دُعا کی اُس سے گویا ہم کو یہ سبق سکھلایا کہ اپنی اَولاد کے لیے دُنیا سے زیادہ اہتمام دین کا کرنا چاہیے ۔اَور اَولاد عام ہے اَولاد حقیقی ہو یا مذہبی بلکہ اَولادِ حقیقی بھی جب ہی اَولاد ہوتی ہے جبکہ اتباع کرے۔اَنبیاء علیہم السلام کی اَولاد بھی وہ مقبول ہے جو اَنبیاء کی پیروی کرتی ہو (انبیاء کے نقش ِ قدم پر چلتی ہو)۔اَب ہم کو سبق لینا چاہیے اَور دَیکھنا چاہیے کہ ہم کہاں تک اپنی اَولاد کے حق میں ابراہیم علیہ السلام کے طریقہ پر چلتے ہیں ۔ <br> میں نہیں کہتا کہ لوگ اپنی اَولاد کے حقوق اَدا نہیں کرتے لیکن ضرور ہے کہ زیادہ توجہ محض دُنیا پر دیتے ہیں ۔ اِس کی زیادہ کوشش ہوتی ہے کہ اَولاد چار پیسے کمانے کے قابل ہوجائے اَور جب اِس قابل بنادیتے ہیں تو سمجھتے ہیں کہ ہم اِن کے واجب حقوق اَدا کر چکے، آگے اپنی اصلاح یہ خود کرلیں گے۔ اَور وجہ اِس کی زیادہ تر یہ ہے کہ لوگوں کے دِلوں سے دین کی وُقعت بالکل نکل گئی ہے۔ اِس لیے ہمہ تن دُنیا پر جھک پڑے ہیں ۔ <br> اَولاد کے نیک ہونے اَور بُری اَولاد سے بچنے کی اہم دعائیں : <br> رَبِّ اجْعَلْنِیْ مُقِیْمَ الصَّلٰوةِ وَمِنْ ذُرِّیََّتِیْ رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَآئِ۔ <br> ''اے میرے رب مجھے اَور میری نسل کو بھی نماز قائم کرنے والا بنادے۔ '' <br> رَبَّنَا ھَبْ لَنَامِنْ اَزْوَاجِنَا وَ ذُرِّیّٰتِنَا قُرَّةَ اَعْیُنٍ وَّاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًا۔ <br> ''اے ہمارے رب ہماری بیویوں اَور اَوالاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرمائیے اَور ہم کو مقتدیوں کا مقتدا کر دیجیے۔ '' <br> اَللّٰہُمَّ اَصْلِحْ لِیْ فِیْ ذُرِّیَّتِیْ اِنِّیْ تُبْتُ اِلَیْکَ وَاِنِّیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ۔ <br> ''اَور صلاحیت دے میری اَولاد میں ، میں نے تیری طرف رجوع کیا اَور میں فرما برداروں میں سے ہوں ۔ '' <br> اَللّٰھُمَّ بَارِکْ لَنَا فِیْ اَزْوَاجِنَا وَ ذُرِّیّٰتِنَا وَتُبْ عَلَیْنَا اِنَّکَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ <br> ''اے اللہ برکت دے ہماری بیویوں میں اَور ہماری اَولاد میں اَور ہماری توبہ قبول کر کیونکہ توہی توبہ قبول کرنے والا ہے۔'' <br> اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ مِنْ صَالِحٍ تُؤْتِی النَّاسَ مِنَ الْمَالِ وَالْاَھْلِ وَالْوَلَدِ غَیْرَ ضَالٍّ وَّلَا مُضِلٍّ ۔ <br> ''اے اللہ میں تجھ سے اچھی چیز کا سوال کرتا ہوں جو تو لوگوں کو دے مال ہو یا بیوی یااَولاد، کہ نہ گمراہوں نہ گمراہ کرنے والے۔'' <br> اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنْ وَّلَدٍ یَّکُوْنُ عَلَیَّ وَبَالًا ۔ <br> ''اے اللہ میں تیری پناہ چاہتاہوں ایسی اَولاد سے جو مجھ پر وبال ہو۔'' <br> (جاری ہے) <br> <br> <br> <br> <br> وفیات <br> ٭٭٭ <br> مورخہ١٥ اپریل کو جامعہ مدنیہ جدید کے اُستاذ الحدیث حضرت مولانا امان اللہ خان صاحب کی والدہ ٔ ماجدہ طویل علالت کے بعد تقریبًا نوے برس کی عمر پاکر اَٹک میں اِنتقال فرماگئیں ،مرحومہ بہت دُعا گو اَور پارسا خاتون تھیں ۔ مرحومہ جامعہ مدنیہ کے قدیم اُستاذ الحدیث حضرت مولانا کریم اللہ خان صاحب رحمة اللہ علیہ کی اہلیہ تھیں ۔ اہل ِ اِدارہ مرحومہ کی وفات پر سوگواروں کے غم میں برابر کے شریک ہیں اَور اُن کی خدمت میں تعزیت ِ مسنونہ پیش کرتے ہیں ۔ <br> ٤ اپریل کو حضرت مولانا سیّد رشید میاں صاحب مدظلہم کے بہنوئی جناب طفیل احمد صاحب صدیقی طویل علالت کے بعد لاہور میں وفات پاگئے، اہل ِ اِدارہ اُن کے بچوں سے تعزیت ِ مسنونہ کرتا ہے۔ <br> تاخیر سے موصولہ اطلاع کے مطابق جمعیت علمائے اِسلام کے خازن اور ہر دل عزیز سیاسی شخصیت الحاج خواجہ محمد زاہد صاحب ٢٢ مارچ کو ڈیرہ اسماعیل خان بم دھماکہ میں شہید ہو گئے۔ <br> ٢٥ اپریل کو لیّہ کے مولوی یاسر امین صاحب کے بھائی وفات پاگئے۔ <br> اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ <br> اللہ تعالیٰ جملہ مرحومین کی مغفرت فرما کر جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام نصیب فرمائے اَور لواحقین کو صبر جمیل کی توفیق عطا فرمائے۔ جامعہ مدنیہ جدید اَور خانقاہِ حامدیہ میں جملہ مرحومین کے لیے ایصالِ ثواب کرایا گیا ۔اللہ تعالیٰ قبول فرمائے،آمین۔ <br> <br> <br> <br> <br> اُمت ِمسلمہ کی مائیں قسط : ١٥ <br> حضرت اُمِ سلمہ رضی اللہ عنہا <br> ( حضرت مولانا محمد عاشق الٰہی صاحب بلند شہری ) <br> ٭٭٭ <br> حضرت زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہاکی وفات کے بعد آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم نے حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا اور اُسی گھر میں اِن کو ٹھہرایا جس میں حضرت زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہا رہا کرتی تھیں ۔ اُم سلمہ ان کی کنیت ہے ،نام ہند تھا ۔اِن کے باپ اَبو اُمیّہ تھے جن کی سخاوت کا عام شہرہ تھا ،سفر میں اپنے ساتھیوں پر بہت خرچ کیا کرتے تھے اِسی لیے اِن کا لقب زَادُالرَّاکِبِ (مسافروں کے سفر کا سامان ) پڑ گیا تھا ۔والدہ کا نام عاتکہ تھا جو قبیلہ بنی فراس سے تھیں ۔( الاصابہ) <br> قبولِ اِسلام اَور نکاحِ اَوّل : <br> حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا بھی اُن مبارک ہستیوں میں ہیں جنہوں نے اِسلام کے ابتدائی دور میں ہی اِسلام قبول کیا اِن کا پہلا نکاح چچا زاد بھائی عبداللہ بن عبدالاسد رضی اللہ عنہ سے ہوا تھا جو آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم کے رضاعی بھائی بھی تھے اَور پھوپی زادے بھی ۔وہ اِسلام قبول کرنے میں سابقین اَوّلین میں سے تھے اُن کے متعلق لکھا ہے کہ دس شخصوں کے بعد مسلمان ہوئے یعنی وہ گیارہویں مسلمان تھے، پہلے اِنہوں نے اپنی بیوی حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ حبشہ کو ہجرت کی وہاں ایک لڑکا پیدا ہوا جس کا نام ''سلمہ ''رکھا اِسی کے نام سے باپ کی کنیت'' ابوسلمہ'' اَورماں کی کنیت ''اُمِ سلمہ'' مشہورہو گئی ۔پھر حبشہ سے واپس آئے اور اِس کے بعد دونوں نے مدینہ منورہ کو ہجر ت کی لیکن یہ ہجرت ایک ساتھ نہیں ہوئی دونوں آگے پیچھے مدینہ منورہ پہنچے جس کا واقعہ بڑا دَرد ناک ہے۔ <br> ہجرت : <br> حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا کی ہجرت کے واقعہ سے اَندازہ ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم کے زمانہ میں عورتوں نے کیسی کیسی مصیبتیں دین کے لیے برداشت کی ہیں اور کیسی کیسی تکلیفیں سہی ہیں ۔اِس واقعہ کو وہ خود اِس طرح ذکر فرماتی تھیں کہ جب ابو سلمہ نے مدینبہ منورہ کو ہجرت کرنے کا اِرادہ کیا تو اُونٹ پر کجاوہ کس کر مجھے اَور سلمہ کو اُونٹ پر بٹھادیا اوراُس کی نکیل پکڑ کر آگے آگے چلتے رہے جب قبیلہ بنو مغیر ہ کو ہمارے روانہ ہو جانے کی خبر ہو گئی جومیرے میکہ و الے تھے تو اُنہوں نے ابوسلمہ سے کہا کہ تم اپنی ذات کے بارے میں خودمختار ہو مگر ہم اپنی لڑکی کو تمہارے ساتھ نہیں جانے دیں گے جسے تم شہر در شہر لیے پھرو ،یہ کہہ کر اُونٹ کی نکیل اُن کے ہاتھ سے چھین لی اَور مجھے زبردستی اپنے ساتھ لے آئے۔ جب اِس واقعہ کی خبر ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کے خاندان بنو عبدالاسد کو لگی جو میرے سسرال والے تھے تو میرے میکے والوں سے جھگڑنے لگے اور کہا تم اپنی لڑکی کے مختار ہو ہمارے بچہ سلمہ کو ہمارے حوالے کرو جب تم نے اپنی لڑکی کو اُس کے خاوند کے ساتھ نہ جانے دیا توہم اپنے بچہ کو تمہارے پاس کیوں چھوڑیں ،یہ کہہ کر وہ سلمہ کو چھین کر لے گئے ۔اَب میں اَور میرا شوہر اور بچہ تینوں علیحدہ علیحدہ ہوگئے ۔ <br> حضرت اَبوسلمہ رضی اللہ عنہ تومدینہ پہنچ گئے اَور قبا میں جا کرقیام کر لیا اَورمیں اپنے میکہ میں رہ گئی اور بچہ دَادھیال میں پہنچ گیا ۔مجھے اِس کا اِس قدر صدمہ ہواکہ روزانہ آبادی سے باہرجاتی اور شام تک رویا کرتی اِسی طرح ایک سال گزر گیا،نہ خاوند کے پاس جا سکی نہ بچہ مل سکا ۔ ایک روز میرے ایک چچا زاد بھائی نے مجھ پر ترس کھا کر خاندان والوں سے کہا کہ تم اِس بیکس پر کیوں رحم نہیں کرتے اِسے کیوں نہیں چھوڑ دیتے اور اِ س کو بچہ اَور خاوند سے کیوں جدا کر رکھا ہے ؟ غرض کہ اُس نے کہہ سن کر مجھے خاندان والوں سے اِجازت دِلادی کہ تو اپنے خاوند کے پاس جا سکتی ہے جب اِس کی خبر بچہ کے دَدھیال والوں کو لگی تو اُنہوں نے بچہ بھی مجھے دے دیا۔ اَب میں نے تنہا ہی سفر کا اِرادہ کیا اَور ایک اُونٹ تیار کرکے بچہ ساتھ لیا اَور تنہا سوار ہو کر مدینہ منورہ کے لیے روانہ ہو گئی، تین چار میل چلی تھی کہ مقام تیغم میں عثمان بن طلحہ سے ملاقات ہو گئی۔ اُنہوں نے پوچھا تنہا کہاں جاتی ہو ؟ میں نے کہا اپنے شوہر کے پاس مدینہ جا رہی ہوں ،دو بارہ سوال کیا کوئی ساتھ بھی ہے ؟ میں نے کہا اللہ تعالیٰ ہے اور یہ بچہ ہے ۔یہ سن کر عثمان بن طلحہ نے میر ے اُونٹ کی نکیل پکڑ لی اور آگے آگے چل دیے ،خدا کی قسم میں نے عثمان سے زیادہ شریف آدمی عرب والوں میں سے کوئی نہیں دیکھا۔ <br> جب منزل پراُترنا ہوتا تو وہ اُونٹ بٹھا کر کسی درخت کی آڑ میں کھڑے ہو جاتے اور پھر اُونٹ کو باندھ کر مجھ سے دُور کسی درخت کے نیچے لیٹ جاتے اَور جب کوچ کرنے کا وقت آتا تو اُونٹ پر کجاوہ کس کر میرے پاس لاکر بٹھا دیتے اور خود وہاں سے ہٹ جاتے جب میں سوار ہو جاتی تو اُس کی نکیل پکڑ کر آگے آگے چل دیتے اِسی طرح وہ مجھے مدینہ منورہ تک لے گئے جب اُن کی نظر بنی عمرو بن عوف کی آبادی پر پڑی جو قبا میں تھی تو اُنہوں نے مجھ سے کہا کہ تمہارا شوہر یہیں ہے (البدایہ،الاصابہ،اُسد الغابہ) اِس کے بعد وہ سلام کرکے واپس ہو گئے ۔ ١ <br> مدینہ منورہ میں سکونت: <br> مدینہ منورہ پہنچ کر اپنے شوہر کے پاس رہنے لگیں اَور وہاں ایک لڑکا اَور دو لڑکیاں پیدا ہوئیں ۔ لڑکے کا نام عمر اور ایک لڑکی کا نام درہ اور دُوسری کا نام زینب رکھا۔ (الاصابہ) <br> حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کی وفات : <br> حضرت اَبو سلمہ رضی اللہ عنہ غزوہ ٔ اُحد اَور غزوۂ بدر میں شریک ہوئے ،غزوۂ اُحد میں اُن کے ایک زخم آیا جو کچھ اَچھا ہوگیا تھا۔ اُن کو حضور اقدس صلی اللہ عليہ وسلم نے ایک دستہ کا اَمیر بنا کر بھیج دیا تھا واپس آئے تو وہ زخم ہرا ہوگیا اَور اُسی کے اَثر سے جمادی الثانی ٤ھ میں وفات پائی۔(الاصابہ) <br> حضرت اَبوسلمہ رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد حضرت اُم ِ سلمہ رضی اللہ عنہا کے بطن سے ایک لڑکی تولد ہوئی جس کا نام زینب رکھا گیا اَور اُس کی وِلادت پر عدت بھی ختم ہو گئی ۔عدت گزرجانے کے بعد حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت اُم ِ سلمہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کرنے کا پیغام بھیجا تو اُنہوں نے عذر کر دیا، اِس کے بعد آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم سے نکاح ہوا۔ ( الاصابہ) <br> حرم ِ نبوت میں آنا : <br> حضرت اُم سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو اپنے پہلے شوہر سے بہت محبت تھی۔ایک مرتبہ حضرت اُم ِسلمہ رضی اللہ عنہا نے اُن سے کہا کہ میں نے سنا ہے کہ اگر مرد اَور عورت دونوں جنتی ہوں اَور عورت مرد کے بعد کسی سے نکاح نہ کرے تو وہ عورت جنت میں اُسی مرد کو ملے گی، اِس لیے آؤ ہم تم دونوں عہد کر لیں کہ ہم میں سے جو <br> ١ عثمان بن طلحہ جنہوں نے حضرت اُم سلمہ کو مدینہ منورہ تک پہنچایا تھااُس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے بعد میں اِسلام لے آئے۔ <br> پہلے اِس دُنیا سے چلا جائے دُوسرا نکاح نہ کرے۔ یہ سن کر حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم میرا کہا مان لو گی؟ حضرت اُم سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ ماننے کے لیے ہی تو مشورہ کر رہی ہوں ۔ حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم میرے بعد نکاح کر لینا۔ اِس کے بعد اللہ تعالیٰ سے یہ دُعا مانگی کہ اے اللہ میرے بعد اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا کو مجھ سے بہتر خاوند عطا فرماجو نہ اِسے رنج پہنچائے نہ تکلیف دے (الاصابہ فی ذکر ہند بنت اُمیہ وھی اُم سلمہ و لم یذکر ھذہ الروایة فی الکُنٰی ) خداکا کرنا ایسا ہوا کہ حضرت ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کی نصیحت حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا کی حق میں بہت ہی زیادہ مفید ہوئی اَور اِن کی دُعا اللہ جل شانہ نے قبول فرما کر آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم کی زوجیت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا کو نصیب فرمائی۔ <br> حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا خود روایت فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا کہ جس کسی مسلمان کو کوئی مصیبت پہنچے اَور وہ اللہ کے فرمان کے مطابق یہ پڑھے : <br> اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ اَللّٰھُمَّ اَجِرْنِیْ فِیْ مُصِیْبَتِیْ وَاخْلُفْ لِیْ خَیْرًا مِّنْھَا ''ہم اللہ ہی کے لیے ہیں اَور ہمیں اللہ ہی کی طرف لوٹ جانا ہے۔ اے اللہ میری مصیبت میں مجھے ثواب دے اَور اِس سے بہتر اِس کا بدلہ عنایت فرما۔ '' <br> تو اللہ تعالیٰ ضرور اُس کو اِس کی (گئی ہوئی چیز) سے بہتر عنایت فرمائیں گے۔ جب ابوسلمہ کی وفات ہوگئی تو (مجھے یہ حدیث یاد آئی اَور) دِل میں کہا (کہ اِس دُعا کو کیا پڑھوں ) اَبو سلمہ سے بہتر کون ہوگا۔ وہ سب سے پہلے شخص تھے جس نے اپنے گھر سے ہجرت کی پھر بلاآخر میں نے یہ دُعا پڑھ لی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ جل شانہ نے ابو سلمہ کے بعد آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم کے نکاح میں آنے کا شرف عنایت فرمایا۔ (مسلم شریف) <br> حضرت اُم ِسلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا یہ بھی روایت فرماتی تھیں کہ جب (پہلے شوہر) حضرت اَبو سلمہ رضی اللہ عنہ کی وفات ہوگئی تو مجھے بہت ہی زیادہ رنج ہوا۔ میں نے اپنے جی میں کہاکہ اَبو سلمہ پردیس میں تھے جہاں اُن کے خاندان کے لوگ نہیں تھے اُن کی موت پر ایسا رونا رؤں گی کہ جس کی شہرت ہوجائے گی۔ میں رونے کے لیے تیار ہوگئی تھی کہ اچانک ایک عورت اَور آگئی جو رونے میں میرا ساتھ دینا چاہتی تھی۔ راستہ میں اُس عورت کو رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم مل گئے اَور آپ صلی اللہ عليہ وسلم کو اُس کے اِرادے کی خبر ہوگئی۔ آپ نے اُس سے فرمایا کہ تیرا یہ اِرادہ ہے کہ اُس گھر میں شیطان کو داخل کردے جس سے اللہ تعالیٰ نے اُسے نکالا ہے۔ جب یہ بات مجھے معلوم ہوئی تو میں نے رونے کا اِرادہ موقوف کردیا اَور نہ روئی۔ (جمع الفوائد اَز مسلم شریف) <br> جب سیّد ِ عالم صلی اللہ عليہ وسلم نے حضرت اُم سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو نکاح کا پیغام بھیجا تو اُنہوں نے عذر کردیا اور عرض کیا میرے بچے بھی ہیں (جن کی پرورش کا خیال کرنا ہے) اَور مجھ سے نکاح کرنے سے کچھ فائدہ بھی نہیں ہے کیونکہ عمر زیادہ ہوگئی ہے مجھ سے اَب اَولاد بھی پیدا نہ ہوگی اَور مزاج میں غیرت بھی بہت ہے (جس کی وجہ سے دُوسری سوکنوں کے ساتھ رہنا مشکل ہے) اَور میرا یہاں کوئی وَلی بھی نہیں ہے۔ اِس کے جواب میں آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا عمر کی بات تو یہ ہے کہ میری عمر تم سے زیادہ ہے اَور بچوں کا اللہ حافظ ہے۔ اُن کی پرورش میں تمہیں کوئی دُشواری نہیں ہوگی میں بھی اُن کا خیال کروں گا اَور اللہ سے دُعا کروں گا۔ تمہاری غیرت والی بات بھی جاتی رہے گی اَور تمہاراکوئی ولی میرے ساتھ رشتہ ہوجانے کو ناپسند نہیں کرے گا۔ چنانچہ حضرت اُم سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا راضی ہوگئیں اَور آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم سے نکاح ہو گیا۔یہ نکاح میں شوال میں ہوا۔ (اُسد الغابہ، الاصابہ وغیرہ) <br> نکاح ہوجانے کے بعد آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا کو اُسی حجرہ میں لے آئے جس میں حضرت زینب بنت ِ خزیمہ رہا کرتی تھیں ۔ اُنہوں نے وہاں دیکھا کہ ایک مٹکے میں جو رکھے ہیں اَور ایک چکی اور ہانڈی بھی موجود ہے لہٰذا خود جو پیسے اَور چکنائی ڈال کر مالیدہ بنایا اَور پہلے ہی دِن آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم کو مالیدہ کھلا یا جسے خود ہی بنایا تھا۔ (حکایات ِ صحابہ) <br> حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی تھیں کہ جب آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم نے اُم سلمہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو مجھے بہت رنج ہوا (کہ کہیں اَیسا نہ ہو کہ آپ صلی اللہ عليہ وسلم کی توجہ اُن کی طرف مجھ سے زیادہ ہو جاوے) جس کی وجہ یہ تھی کہ خوبصورتی میں اُن کی شہرت تھی۔ میں نے ترکیب سے اُن کو دیکھا تو واقعتہً جتنی شہرت تھی اُس سے بھی بہت زیادہ حسین معلوم ہوئیں ۔ میں نے اِس کا حفصہ رضی اللہ عنہا سے ذکر کیا تو اُنہوں نے کہا کہ اِتنی حسین نہیں ہیں جتنی شہرت ہے (اُن کے کہنے سے میری آنکھوں سے بھی اُن کا حسن گرگیا اَور پھر جو دیکھا تو حفصہ رضی اللہ عنہا کی بات ٹھیک معلوم ہوئی (الاصابہ) (یعنی حسین تو بہرحال تھیں ہمارے ماننے سے اُن کے حسن میں کمی نہ آئی اَلبتہ سوکنوں والی پر خاش نے اُن کے حسن کو حفصہ رضی اللہ عنہا کے کہنے سے آنکھوں سے گرادیا) ۔ ایسی باتیں بشریت کے تقاضوں سے دِل میں آجا یا کرتی ہیں ۔ <br> دَانشمندی : <br> حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا بڑی دَانشمند اَور سمجھدار تھیں ۔ الا صابہ میں لکھا ہے : <br> وَکَانَتْ اُمُّ سَلَمَةَ مَوْصُوْفَةً بِا لْجَمَالِ الْبَارِعِ وَالْعَقْلِ الْبَالِغِ۔ <br> ''حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا بہت زیادہ حسین تھیں ، عقلمندی اَور صحیح رائے رکھنے والوں میں شمار تھا۔'' <br> صلح حدیبیہ کے موقع پر آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم کو بڑی اُلجھن پیش آئی تھی جو حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا نے سلجھائی۔ واقعہ یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم ٦ھ میں اپنے صحابہ کرام کے ساتھ عمرہ کرنے کے لیے مدینہ منورہ سے مکہ معظمہ کے لیے روانہ ہوئے، مشرکینِ مکہ کو اِس کی خبر ہوئی تو اُنہوں نے مزاحمت کی اَور آپ کو مقام ِ حدیبیہ میں رُکنا پڑا۔ جانثار صحابہ چونکہ آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم پر جان قربان کرنے کو تیار رہتے تھے اِس لیے اِس موقع پر بھی جنگ کے لیے آمادہ ہوگئے مگر آپ صلی اللہ عليہ وسلم نے لڑائی کے بجائے صلح کرنا پسند کیااَور باوجود یکہ حضرات صحابہ لڑائی کے لیے مستعد تھے آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم نے اِس قدر رعایت کے ساتھ صلح کرنا منظور فرمالیا کہ مشرکینِ مکہ کی ہر شرط قبول فرمائی (جس میں بظاہر مشرکین کا نفع اَور مسلمانوں کا صریح نقصان معلوم ہوتا تھا) <br> جب صلح نامہ مرتب ہوگیا تو سیّد ِ عالم صلی اللہ عليہ وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا کہ (اَب عمرہ کے لیے مکہ معظمہ جانا نہیں ہے اَب تو واپسی ہی ہے کیونکہ صلح کی شرائط میں یہ بھی منظور کر لیا تھا کہ آپ عمرہ اِس سال نہیں کریں گے آئندہ سال عمرہ کے لیے تشریف لائیں گے لہٰذا ) اُٹھو(اپنا اپنا احرام کھول دو) قربانی کے جانور ذبح کردو پھر سر منڈ والو( چونکہ احرام کھولنے کو طبیعتیں گوارانہیں کر رہی تھیں اَور مدینہ سے عمرہ کے لیے آئے تھے اِس لیے عمرہ ہی کو جی چاہ رہا تھا اَور احرام کھولنے سے اپنے سفر کا ضائع ہونانظر آتا تھا لہٰذا آپ صلی اللہ عليہ وسلم کے فرمانے پر کوئی بھی نہ اُٹھا) حتی کہ آپ صلی اللہ عليہ وسلم نے تین مرتبہ حکم دیا۔ جب کسی نے بھی آپ صلی اللہ عليہ وسلم کے اِرشاد پر عمل نہ کیا تو آپ صلی اللہ عليہ وسلم اُم ِ سلمہ کے پاس تشریف لے گئے اَور اُن سے فرمایا کہ لوگ کہا نہیں مان رہے ہیں حضرت اُم سلمہ نے فرمایا کہ اے اللہ کے نبی کیا آپ یہ چاہتے ہیں سب احرام کھول دیں ؟ اگر واقعةً آپ کی ایسی خواہش ہے تو اِس کی ترکیب یہ ہے کہ آپ باہر نکل کر کسی سے نہ بولیں اَور اپنے جانور کو ذبح فرمادیں اَور بال موندنے والے کو بُلا کر اپنے بال منڈ والیں ۔ <br> چنانچہ آپ صلی اللہ عليہ وسلم نے ایسا ہی کیا اَور باہر نکل کر اپنا جانور ذبح کردیا اَور بال منڈ والیے۔ جب صحابہ نے یہ ماجرا دیکھا تو سب احرام کھولنے پر راضی ہوگئے اَور اپنے اپنے جانور ذبح کر ڈالے اَور آپس میں ایک دُوسرے کا سر مونڈنے لگے۔ ( بخاری)اَور سب نے احرام ١ کھول دیا۔ <br> حضرت اُم ِسلمہ رضی اللہ عنہا کی اِس رائے کے متعلق جس سے مشکل حل ہوئی حافظ ابن حجر الاصابہ میں لکھتے ہیں : <br> وَاِشَارَتُھَا عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ الْحُدَیْبِیَّةِ تَدُلُّ عَلٰی وُفُوْرِ عَقْلِھَا وَصَوَابِ رَأْیِھَا۔ <br> ''حدیبیہ کے موقع پر آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم کو حضرت اُم سلمہ کے رائے دینے سے پتہ چلتا ہے کہ وہ بڑی عقلمند اَور ٹھیک رائے رکھنے والی تھیں ۔ درحقیقت یہ بڑی سمجھ کی بات ہے کہ اِنسان موقع کو پہچانے اَور یہ سمجھ لیوے کہ اِس وقت لوگ اپنے مقتدا کے قول پر توجہ نہیں دے رہے ہیں لیکن اِس کا عمل سامنے آئے گا تو اُس کی اقتداء کر لیں گے۔ '' <br> آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم کی مصاحبت سے خوب فائدہ اُٹھایا اَور علوم حاصل کیے : <br> حضرت اُم سلمہ آپ صلی اللہ عليہ وسلم کے نکاح میں آگئیں تو آپ صلی اللہ عليہ وسلم کی مصاحبت کو بہت غنیمت جانا اَور برابر آپ صلی اللہ عليہ وسلم کے اِرشادات محفوظ کرتی رہیں اَور آپ صلی اللہ عليہ وسلم سے سوال کر کے اپنا علم بڑھا تی رہیں پھر اِس علم کو اُنہوں نے پھیلایا۔ حدیث میں اُن کے شاگرد صحابہ بھی تھے اَور تابعین بھی۔ حضرت عائشہ اَور حضرت عبداللہ بن عباس کو بھی اِن کے شاگردوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ (الاصابہ) <br> حدیث شریف کی کتابوں میں جو حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا کی روایات ملتی ہیں اُن کی تعداد ٣٧٨ ہے۔ محمود بن لبید فرماتے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم کی سب ہی اَزواجِ مطہرات آپ کے اِرشادات کو یاد کرتی <br> ١ جب حج یا عمرہ کوجاتے ہیں تو ایک مقررہ جگہ پر غسل کر کے ایک چادر تہمند کی طرح باندھ لیتے ہیں اَور ایک اَوڑھ لیتے ہیں اَور تلبیہ پڑھ لیتے ہیں حج ختم کرنے تک اِسی طرح رہتے ہیں اِس کو احرام کہا جاتا ہے یہ مردوں کے احرام کا طریقہ ہے۔ اَور جب حج یا عمرہ سے فارغ ہوجاتے ہیں تو احرام کھولتے ہیں جس کی صورت یہ ہے کہ سر منڈواتے یا بال کٹواتے ہیں ۔ اِس روایت میں اِسی کو ذکر کیا گیا ہے۔ <br> تھیں لیکن حضرت عائشہ اَور حضرت اُم سلمہ کی ہم پلہ اِس میں اَور کوئی بیوی نہ تھی ۔(ابن سعد) <br> مروان بن الحکم حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا سے مسائل دریافت کرتے تھے اَور کہتے تھے کہ ہم اَور کسی سے کیوں پوچھیں جبکہ ہمارے اَندر آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم کی بیویاں موجود ہیں ۔ (مسند امام احمد بن حنبل) <br> اگر حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا کے فتاوی جمع کیے جائیں تو خاصی تعداد میں جمع ہوسکتے ہیں اَور اُن کے مجموعہ کا ایک رسالہ بن سکتا ہے۔ <br> حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا کو آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم کے اِرشادات سننے کا بہت شوق تھا۔ ایک مرتبہ بال گوندھ رہی تھیں آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم خطبہ کے لیے (مسجد ِ نبوی میں ) کھڑے ہوئے۔ زبان مبارک سے نکلا ہی تھا کہ اَیُّھَا النَّاسُ (اے لوگو!) تو حضرت اُم ِ سلمہ رضی اللہ عنہانے سن لیا (کیونکہ اَزواج ِ مطہرات کے حجرے مسجد ِ نبوی سے ملے ہوئے تھے) آواز سنتے ہی بال باندھ کر کھڑی ہوگئیں اَور پورا خطبہ سنا ۔(مسند ِ امام احمد) <br> ایک مرتبہ آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم سے سوال کیا کہ یارسول اللہ ! میں اپنے سر کی مینڈھیاں بہت سختی سے باندھتی ہوں تو کیا غسل ِجنابت کے لیے اُن کو کھولا کروں ؟ فرمایا نہیں ! بس اِتنا کافی ہے کہ تم اپنے سر میں تین بار لپ بھر کر پانی ڈال لیا کرو (جس سے بالوں کی جڑیں تر ہو جائیں ) اِس کے بعد سارے بدن پر پانی بہا لیا کرو، ایساکرنے سے پاک ہوجاؤگی۔ (مسلم شریف) <br> حضرت اُم سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاروایت فرماتی تھیں کہ آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم نے مجھے سکھایا کہ مغرب کی اَذان کے وقت یہ پڑھا کرو : <br> اَللّٰھُمَّ اِنَّ ھٰذَا اِقْبَالُ لَیْلِکَ وَاِدْبَارُ نَھَارِکَ وَاَصْوَاتُ دُعَاتِکَ فَاغْفِرْلِیْ <br> اے اللہ ! یہ تیری رات کے آنے اَور دِن کے جانے اِور تیرے بُلانے کی آوازوں کا وقت ہے سو مجھے بخش دے۔ <br> ایک مرتبہ آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم دَولت کدہ میں تشریف رکھتے تھے اَور آپ صلی اللہ عليہ وسلم کے پاس حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہااَور حضرت میمونہ رضی اللہ عنہابھی تھیں کہ اچانک حضرت عبداللہ بن اُم ِ مکتوم رضی اللہ عنہ آگئے۔ وہ چونکہ نابینا تھے اِس لیے یہ سمجھ کر اُن سے کیا پردہ کرنا ہے دونوں بیبیاں بیٹھی رہیں اَور پردہ نہ کیا۔ آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا کہ اِن سے پردہ کرو۔ حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا یارسول اللہ ! کیا وہ نابینا نہیں ہیں ؟ ہم کو تو نہیں دیکھ سکتے! (پھر پردہ کی کیا ضرورت ہے) آپ صلی اللہ عليہ وسلم نے جواب میں فرمایا کیا تم دونوں بھی نابینا ہو کیا تم اُن کو نہیں دیکھ رہی ہو؟ (مشکوة شریف) <br> حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی تھیں کہ آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا کہ ایک پناہ لینے والا بیت اللہ میں آکر پناہ لے گا۔ اِس سے لڑنے کے لیے ایک لشکر چلے گا اَور وہ لشکر ایک میدان میں پہنچ کر زمین میں دھنس جائے گا۔ میں نے عرض کیا یارسول اللہ ! جولوگ اِس لشکر میں شریک نہ ہوں گے اَور اِس لشکر کی چڑھا ئی کو برا سمجھ رہے ہوں گے کیا وہ بھی (اِس میدان میں ہونے کی وجہ سے) اُن کے ساتھ دھنسا دیے جائیں گے؟ آپ صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا اِس لشکر کے ساتھ وہ بھی دھنسا ئے جائیں گے لیکن قیامت کے روز ہر ایک کا اپنی اپنی نیت پر حشر ہوگا۔ (مشکوة شریف ) <br> ایک مرتبہ حضرت اُم ِ سلمہ رضی اللہ عنہا نے سوال کیا یارسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم ! کیا مجھے (اپنے شوہر) اَبوسلمہ رضی اللہ عنہ کی اَولاد پر خرچ کرنے سے اَجر ملے گا حالانکہ وہ میری ہی اَولاد ہیں ۔ آپ صلی اللہ عليہ وسلم نے جواب میں فرمایا کہ اُن پر خرچ کرو تم کو اِس خرچ کرنے کا اَجر ملے گا۔ (بخاری شریف) <br> ایک مرتبہ حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم ! مرد جہاد کرتے ہیں اَور عورتیں جہاد نہیں کرتی ہیں اَور عورتوں کو مرد کے مقابلہ میں آدھی میراث ملتی ہے (اِس کا سبب کیاہے) ۔اِس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : <br> وَلَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللّٰہُ بِہ بَعْضَکُمْ عَلٰی بَعْضٍ (الآیة) <br> اَور ہوس مت کرو جس چیز میں بڑائی دی اللہ نے ایک کوایک پر۔ (جمع لفوائد) <br> ایک مرتبہ عرض کیا کہ یارسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم ! قرآن میں عرتوں کا ذکر کیوں نہیں ہے ۔اِس پر اللہ جل شانہ نے آیت اِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَالْمُسْلِمَاتِ وَالْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔الخ نازل فرمائی۔ (جمع الفوائد ) <br> حضرت ابو بکر بن عبدالرحمن رضی اللہ عنہ روایت فرماتے تھے کہ میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی زبانی ایک وعظ کے موقع پر سنا کہ جس پر جنابت کا غسل فرض ہوااَور صبح ہو جانے تک غسل نہ کیاتو اَب روزہ نہ رکھے (کیونکہ اِس کا روزہ نہ ہوگا)۔ میں نے اپنے والد صاحب سے اِس کا تذکرہ کیا تو اُنہوں نے فرمایا یہ تو عجیب مسئلہ بتایا۔ اِس کے بعد میں اَوروالد صاحب حضرت عائشہ اَور حضرت اُم ِ سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس پہنچے اَور اُن سے تحقیق کی تو دونوں نے جواب دیا (یہ مسئلہ غلط ہے کیونکہ) رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کو جنابت کی حالت میں صبح ہوجاتی تھی اَور آپ روزہ رکھ لیتے تھے اَور یہ جنابت احتلام کی وجہ سے نہیں بلکہ مباشرت کی وجہ سے ہوتی تھی۔ <br> یہ جواب سن کر ہم دونوں باپ بیٹے مروان بن الحکم کے پاس پہنچے۔ اُس وقت وہ مدینہ کے گورنر تھے۔ اُن سے والد صاحب نے اِس کا تذکرہ کیا تو اُنہوں نے فرمایا میں تم کو قسم دِلاتا ہوں کہ ضرور حضرت ابوہریرہ رضی ا للہ عنہ کے پاس جاؤ اَور اُن کے قول کی تردید کرو۔ لہٰذا ہم حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اَور اُن سے والد صاحب نے حضرت عائشہ اَور حضرت ام سلمہ کا جواب نقل کردیا۔ <br> حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ اِن دونوں نے یہ مسئلہ اِس طرح بتایا ہے؟والد صاحب نے فرمایا جی ہاں ! اُنہوں نے یہی جواب دیا ہے۔ یہ سن کر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ وہی زیادہ جانتی ہیں مجھے تو فضل بن عباس رضی اللہ عنہ نے یہ بتایا تھااَور میں نے خود آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم سے نہیں سنا ہے۔ یہ فرما کر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اپنے فتوے سے رجوع فرمالیا ۔ (جمع الفوائد) <br> ایک مرتبہ حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا نے آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم کے طرز پر قرا ء ت کر کے بتائی کہ آپ ایک ایک آیت پرٹھہرتے تھے بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ پڑھ کر ٹھہرتے پھر اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ پڑھ کر ٹھہرتے اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ پڑھ کر ٹھہرتے پھر مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ پڑھ کر توقف فرماتے (غرض کہ آپ اِسی طرح علیحدہ علیحدہ آیات کر کے پڑھتے تھے ) (جمع الفوائد) ۔حضرت اُم سلمہ فرماتی تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم مجھے حکم فرماتے تھے کہ ہر مہینے میں تین روزے رکھ لیا کروجن میں پہلا پیر یا جمعرات ہو۔ (ابوداود) <br> ایک مرتبہ حضور ِاکرم صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا کہ لُنگی اَور تہمدکا لٹکانا جس میں تفاخر اَور تکبر ہو منع ہے آدھی پنڈلی تک ہونا چاہیے۔ حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا نے سوال کیا یارسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم ! عورت کا کیا حکم ہے؟ فرمایا وہ آدھی پنڈلی سے ایک بالشت نیچے کر لیوے۔ عرض کیا کہ اِس سے تو کام نہیں چلے گا کیونکہ کپڑا اُوپر ہی رہ جائے اَور جگہ دکھائی دیتی رہے گی۔ فرمایا اچھا! آدھی پنڈلی سے ایک ہاتھ نیچے کرلیں ،اِس سے زیادہ نہیں ۔ (مشکوة شریف) <br> ایک مرتبہ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ تشریف لائے تو حضرت اُم ِسلمہ رضی اللہ عنہا نے حدیث سنائی کہ آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا کہ بعض لوگ جو مسلمان سمجھے جاتے ہیں (اَور دِل سے مسلمان نہیں ہیں ) اَیسے لوگوں کو اپنی وفات کے بعد میں نہ دیکھوں گا اَور نہ وہ مجھے دیکھ سکیں گے۔ حضرت عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے اَور اُن سے یہ حدیث سے نقل کی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ خود حضرت اُم ِ سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے اَور پوچھا کہ خدا کی قسم سچ سچ کہنا میں اُن میں تو نہیں ہوں (جن کا ذکر اِس حدیث میں ہے) حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا نہیں (تم اُن میں سے نہیں ہو)لیکن تمہارے علاوہ اَور کسی کو واضح کر کے یہ بات نہ بتاؤں گی۔ (مسند امام احمد بن حنبل) (کیونکہ ایسی باتیں ظاہر کرنا مصلحت کے خلاف ہے)۔ <br> حضرت اُم ِ سلمہ کے بچوں کی پرورِش : <br> حضور اَقدس صلی اللہ عليہ وسلم نے حضرت اُم ِ سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بچوں کی بہ نفس ِنفیس پرورش فرمائی اَور اُن کی تعلیم و تربیت کا خاص لحاظ رکھا۔ حضرت اُم ِ سلمہ رضی اللہ عنہا کے صاحبزادے حضرت عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں بچہ تھا رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کی گود میں پرورِش پاتا تھا۔ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ عليہ وسلم کے ساتھ کھانے کو جو بیٹھا تو پیالہ میں ہرطرف ہاتھ ڈالنے لگا۔ آپ صلی اللہ عليہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ بسم اللہ پڑھ کر کھا اَور داہنے ہاتھ سے کھا اَور اپنی طرف سے کھا۔ (بخاری شریف) <br> صدقہ کرنے کی ہدایت : <br> ایک مرتبہ چند مساکین آگئے اَور بہت ضد کر کے سوال کرنے لگے اُن میں چند عورتیں بھی تھیں ۔ اُس وقت حضرت اُم ِ سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گھر میں ایک اَور خاتون موجود تھیں جن کو اُمُّ الْحُسَینْ کہا جاتا تھا، اُنہوں نے اُن مسکینوں کو کہا کہ چلو نکلو۔ یہ سن کر حضرت اُمِ سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ہمیں اِس کا حکم نہیں دیا گیا (کہ سوال کرنے والوں کو جھڑکیں اَور بغیر کچھ دِیے واپس کردیں ) پھر ایک لڑکی سے فرمایا کہ اِن سب کو کچھ نہ کچھ دیدے اگر چہ ایک ہی کھجور ہو۔ (الاستیعاب) <br> اَمر بالمعروف : <br> حضرت اُم ِ سلمہ رضی اللہ عنہا اَمر بالمعروف اَور نہی عن المنکر کی بھی پابند تھیں ۔ ایک روز اُن کے بھتیجے نے دو رکعت نماز پڑھی چونکہ سجدہ کی جگہ غبار تھا اِس لیے وہ صاحبزادے سجدہ کرتے وقت مٹی جھاڑ دیتے تھے۔ یہ دیکھ کر حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا نے اُن کو روکا اَور یہ فرمایا کہ یہ فعل آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم کے طریقہ کے خلاف ہے۔ ایک مرتبہ آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم کے سامنے ایک غلام (اَفلح) ایسا کیا تھا تو آپ صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اے اَفلح اپنا چہرہ مٹی میں ملا(مسند امام احمد)۔ نماز کے اَوقات بعض اُمراء نے تبدیل کر دیے تھے یعنی مستحب اَوقات چھوڑ دیے تھے۔ حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا نے اُن سے فرما یا کہ آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم ظہر جلدی پڑھا کرتے تھے اَور تم عصر جلدی پڑھتے ہو۔ (مسند امام احمد بن حنبل) <br> وفات : <br> حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا نے ٥٩ھ میں وفات پائی اَور حضرت ابو ہریرہ نے نماز ِ جنازہ پڑھائی۔ اُس وقت اِن کی عمر شریف ٨٤ سال تھی ،یہ وَاقدی کا قول ہے لیکن دیگر حضرات نے اِن کی وفات ٦١ھ یا ٦٢ھ میں بتائی ہے۔ اَزواج میں سب سے آخر میں اِن ہی کی وفات ہوئی رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا وَ اَرْضَاہَا ۔ <br> <br> <br> <br> <br> دُعائے صحت کی اپیل <br> ٭٭٭ <br> حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب کے خلیفہ مجاز و فاضل جامعہ مولانا محمد عکاشہ صاحب گذشتہ دِنوں ٹریفک حادثہ میں دماغی چوٹ کی وجہ سے سخت علیل ہیں ۔٭ متعلمِ جامعہ پشاور کے جاوید اللہ خان صاحب کینسر کے مرض میں مبتلاء ہیں ۔٭ جناب نوید و فیصل برادران کی والدہ صاحبہ بھی شدید علیل ہیں ۔قارئین کرام سے دُعائے صحت کی درخواست ہے۔ <br> <br> <br> <br> <br> اِسلام کی اِنسانیت نوازی <br> ( حضرت مولانا مفتی محمد سلمان صاحب منصورپوری،اِنڈیا ) <br> ٭٭٭ <br> ماں باپ کا احترام : <br> اِسلام نے اِنسانیت کے احترام کا مظاہرہ کرتے ہوئے خالق و مالک رب العا لمین کے حق کے بعد سب سے بڑا اَور اُونچا مرتبہ والدین کا متعین کیا ہے۔ اِسلام کی نظر میں یہ رشتہ اِنتہائی اہم اَور قابلِ عظمت ہے۔ قرآن میں جابجا والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کی تعلیم دی گئی ہے۔ ایک جگہ اِرشاد ہے : <br> وَقَضٰی رَبُّکَ اَلَّا تَعْبُدُوْآ اِلَّا اِیَّاہُ وَبِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا ط اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَکَ الْکِبَرَ اَحَدُھُمَآ اَوْکِلٰھُمَا فَلَا تَقُلْ لَّھُمَآ اُفٍّ وَّلَا تَنْھَرْھُمَا وَقُلْ لَّھُمَا قَوْلًا کَرِیْمًاo وَاخْفِضْ لَھُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُلْ رَّبِّ ارْحَمْھُمَا کَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًاo( سُورہ بنی اسرائیل ٢٣ـ٢٤) <br> اَورحکم کرچکا تیرا رب کہ نہ عبادت کرو اُس کے سوائے اَور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرو، اور اگر پہنچ جائیں بڑھاپے کو ایک اُن میں سے یا دونوں تو نہ کہہ اُن کو ''ہوں '' اور نہ جھڑک اُن کو، اور کہہ بات اُن سے اَدب کی، اَور جُھکا دے اُن کے آگے کندھے عاجزی کرکے نیاز مندی سے، اور کہہ اَے رب ! اِن پررحم کر جیسا پالا اِنہوں نے مجھ کو چھوٹا سا۔ <br> والدین کے حقوق کے بارے میں جناب رسولِ اکرم ا نے بھی اہم ہدایات اِرشاد فرمائی ہیں ، چند اَحادیث ِطیبہ ذیل میں درج ہیں : <br> (١) حضرت ابواُمامہ ص فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے آنحضرت ا کے پاس آکر عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ا ! والدین کا اَولاد پر کیا حق ہے ؟ تو آنحضرت ا نے فرمایا کہ وہ تمہاری جنت یا جہنم ہیں (یعنی اگر اِن کو خوش رکھوگے توجنت کے مستحق ہوگے اَور اگر ناراض کروگے تو جہنم کے مستحق ہوگے) ۔ (ابن ماجہ ٢/٢٦٠ الترغیب والترہیب٣/٢١٦) <br> (٢) حضرت اَنس ابن مالک ص سے روایت ہے کہ آنحضرت ا نے فرمایا کہ جس شخص کو یہ بات اچھی لگے کہ اُس کی عمر میں اضافہ ہو اور اُس کی روزی میں زیادتی ہو تو اُسے چاہیے کہ اپنے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرے اور رشتہ داری کا خیال رکھے۔ (مسنداحمدحدیث نمبر١٣٧٤٥، الترغیب و الترہیب ٣/٢١٧) <br> (٣) حضرت عبداللہ ابن عمرص فرما تے ہیں کہ آنحضرت انے اِرشاد فرمایا کہ تم اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو تمہاری اَولاد تمہارے ساتھ حسن سلوک کرے گی ۔(التر غیب ٣/٢١٨) <br> (٤) حضرت اَسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ پیغمبر علیہ السلام کے دَور میں میری والدہ مشرکہ اَور کافرہ ہونے کی حالت میں میرے پاس آئیں ۔ چنانچہ میں نے آنحضرت ا سے مسئلہ پوچھا کہ میری والدہ آئی ہیں اَور وہ مجھ سے احسان کی طالب ہیں کیا میں اُن کے ساتھ حسن سلوک کروں ؟ (یعنی کیا مشرکہ ہونے کے باوجود اُن کا تعاون کرنا چاہیے؟) تو آنحضرت انے فرمایا کہ ہاں ! اپنی ماں کے ساتھ حسنِ سلوک بجالاؤ۔ (بخاری شریف ٢/٨٨٤، حدیث ٥٧٤٥) <br> (٥) حضرت عبداللہ بن عمرص فرماتے ہیں کہ آنحضرت انے اِرشاد فرمایا کہ ''اللہ کی رضامندی والد کی خوشنودی میں ہے اَور اللہ کی ناراضگی والد کی ناراضگی میں ہے''۔ (ترمذی شریف ٢/ ١٢) <br> (٦) حضرت ابوہریرہ صفرماتے ہیں کہ آنحضرت انے فرمایا کہ ''اُس کی ناک رگڑی جائے، اُس کی ناک رگڑی جائے، پھر اُس کی ناک رگڑی جائے! صحابہ ث نے فرمایا کہ ''یا رسول اللہا ! کس کی''؟ تو آپ نے فرمایا کہ ''اُس شخص کی جو بڑھاپے میں اپنے والدین یا اُن میں سے کسی ایک کو پائے اور پھر (اُن کی خدمت کرکے اَور اُن کو خوش کرکے) اپنے کو جنت کا مستحق نہ بنالے''۔ (مسلم شریف ٢/٣١٤) <br> (٧) حضرت ابوبکر ص فرماتے ہیں کہ آنحضرت انے فرمایا کہ: ''ہر گناہ کی سزا اللہ تعالی اپنی مشیت سے قیامت تک مؤخر فرما دیتا ہے مگر و الدین کی نافرمانی اور اُن کو ستانا ایسا گناہ ہے جس کی سزا اللہ تعالیٰ اُس شخص کے مرنے سے پہلے دُنیا میں ہی دے دیتا ہے''۔ (التر غیب و الترہیب) <br> دیکھئے ! کس حد تک والدین کے احترام کی تلقین کی گئی ہے اِس کے بر عکس آج کے مغربی معاشرہ میں بڑھاپے کی حالت میں والدین کی جو دَرگت بنائی جاتی ہے وہ نہایت قابلِ رحم اور اِنسانیت سوز ہے ۔آج مغربی ممالک میں جابجا ''بوڑھوں کے گھر'' بنا دیے گئے ہیں (باقی صفحہ ٦٠ ) <br> <br> <br> <br> <br> گلد ستۂ اَحادیث <br> ( حضرت مولانا نعیم الدین صاحب، اُستاذ الحدیث جامعہ مدنیہ لاہور) <br> ٭٭٭ <br> جو شخص شراب کا نشہ کرتا ہے چالیس دِن تک اُس کی کوئی نماز قبول نہیں ہوتی : <br> عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ عليہ وسلم مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ وَسَکَرَ لَمْ تُقْبَلْ لَّہ صَلٰوة اَرْبَعِیْنَ صَبَاحًا وَاِنْ مَّاتَ دَخَلَ النَّارَ، فَاِنْ تَابَ تَابَ اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاِنْ عَادَ فَشَرِبَ فَسَکَرَ لَمْ تُقْبَلْ لَّہ صَلٰوة اَرْبَعِیْنَ صَبَاحًا فَاِنْ مَاتَ دَخَلَ النَّارَ، فَاِنْ تَابَ تَابَ اللّٰہُ عَلَیْہِ، وَاِنْ عَادَ فَشَرِبَ فَسَکَرَ لَمْ تُقْبَلْ لَّہ صَلٰوة اَرْبَعِیْنَ صَبَاحًا، فَاِنْ مَاتَ دَخَلَ النَّارَ فَاِنْ تَابَ تَابَ اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاِنْ عَادَ کَانَ حَقًّا عَلَی اللّٰہِ اَنْ یَّسْقِیَہ مِنْ رَدْغَةِ الْخَبَالِ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ قَالُوْا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ وَمَارَدْغَةُ الْخَبَالِ قَالَ عُصَارَةُ اَہْلِ النَّارِ ۔ <br> (ابن ماجہ ص ٢٥٠ ابوداودج ٢ص ١٦٢، مسندِ امام احمد ج ٢ ص ٢٥، مسند دارمی ج ٢ ص ١٥٢) <br> حضرت عبداللہ بن عمر و رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا : جو شخص شراب کا نشہ کرتا ہے چالیس دِن تک اُس کی کوئی نماز قبول نہیں کی جاتی، اَو ر اَگر (اِسی حالت میں ) مرجائے تو (سیدھا) جہنم میں جاتا ہے، اگر وہ توبہ کر لے تو اللہ تعالیٰ اُس کی توبہ قبول فرمالیتے ہیں ۔ <br> پھر اَگر وہ دوبارہ شراب کا نشہ کرتا ہے تو اُس کی چالیس دِن تک کوئی نماز قبول نہیں کی جاتی اَور اَگر (اِسی حالت میں ) مرجائے تو (سیدھا) جہنم میں جاتا ہے اَور اگر توبہ کر لے تو اللہ تعالیٰ اُس کی توبہ قبول فرمالیتے ہیں ۔ <br> پھر اگر وہ تیسری مرتبہ شراب کا نشہ کرتا ہے تو چالیس دِن تک اُس کوئی نماز قبول نہیں کی جاتی اَور اگر( اِسی حالت میں )مرجائے تو (سیدھا) جہنم میں جاتا ہے، اَور اگر توبہ کر لے تو اللہ تعالیٰ اُس کی توبہ قبول فرمالیتے ہیں ۔ <br> اَور اگر وہ چوتھی مرتبہ پھرشراب کا نشہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہوجاتا ہے کہ وہ اُسے قیامت کے دِن رَدْ غَةُ الْخَبَالْ پلائیں ، صحابۂ کرام نے عرض کیا کہ وہ کیا ہوتا ہے؟ حضور صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایاجہنمیوں کے جسموں سے بہنے والا خون اَور پیپ۔ <br> پیٹ میں لقمۂ حرام جانے سے چالیس دِن تک کوئی دُعاء قبول نہیں ہوتی : <br> عَنْ عَبَّاسٍ قَالَ تُلِیَتْ ھٰذِہِ الْاٰیَةُ عِنْدَ النَّبِیِّ صلی اللہ عليہ وسلم یٰاَ یُّھَاالنَّاسُ کُلُوْا مِمَّا فِی الْاَرْضِ حَلَالًا طَیِّبًا فَقَامَ سَعْدُ بْنُ اَبِیْ وَقَّاصٍ فَقَالَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ اُدْعُ اللّٰہَ اَنْ یَّجْعَلَنِیْ مُسْتَجَابَ الدَّعْوَةِ فَقَالَ یَاسَعْدُ اَطِبْ مَطْعَمَکَ تَکُنْ مُسْتَجَابَ الدَّعْوَةِ ، وَالَّذِیْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہ اِنَّ الرَّجُلَ لَیَقْذِفُ اللُّقْمَةَ الْحَرَامَ فِیْ جَوْفِہ مَا یُتَقَبَّلُ مِنْہُ اَرْبَعِیْنَ یَوْمًا وَاَیُّمَا عَبْدٍ نَبَتَ لَحْمُہ مِنَ السُّحْتِ وَالرِّبَا فَالنَّارُاَوْلٰی بِہ ۔(رواہ ابن مردویہ، تفسیر القرآن العظیم لابن کثیر تحت قولہ تعالٰی یٰاَ یُّھَاالنَّاسُ کُلُوْا مِمَّا فِی الْاَرْضِ حَلَالًا طَیِّبًا ) <br> حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ عليہ وسلم کی موجود گی میں یہ آیت تلاوت کی گئی یٰاَ یُّھَاالنَّاسُ کُلُوْا مِمَّا فِی الْاَرْضِ حَلَالًا طَیِّبًا (اے لوگوں زمین میں جو حلال و طیب چیزیں ہیں وہ کھایا کرو ) اِس پر حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اَور عرض کرنے لگے، یارسول اللہ ( صلی اللہ عليہ وسلم ) اللہ سے دُعاء کیجیے کہ وہ مجھے مستجاب الدعوات بنادے، حضور علیہ السلام نے فرمایا :سعد اپنا کھانا پاکیزہ (حلال کا) کر لو تم مستجاب الدعوات بن جاؤ گے، اُس ذات کی قسم جس کے قبضہ ٔ قدرت میں میری جان ہے جب آدمی اپنے پیٹ میں لقمۂ حرام ڈالتا ہے تو چالیس دِن تک اُس کی کوئی دُعا و عبادت قبول نہیں ہوتی اَور جس شخص کا گوشت (جسم) حرام اَور سود کھاکر بڑھا ہو اُس کے تو آگ ہی زیادہ لائق ہے۔ <br> <br> <br> <br> <br> دینی مسائل <br> ( قسم کھانے کا بیان ) <br> ٭٭٭ <br> ( ١) قسم کھانے والا عاقل، بالغ، مسلمان ہو لہٰذا دیوانے کی اَوربچے کی اگرچہ سمجھدار ہو اَور کافر کی قسم صحیح نہیں ہوتی۔ <br> (٢) قسم کھاکر اِس کے ساتھ ہی اِستثناء نہ کیا ہو مثلًا قسم کھاکر اِس کے ساتھ ہی اِنشاء اللہ کا لفظ کہہ دیا جیسے کوئی اِس طرح کہے خدا کی قسم فلاں کام اِنشاء اللہ نہ کروں گا تو قسم نہ ہوئی۔اِنشاء اللہ کی جگہ اگر مثلًا اِن الفاظ میں سے کوئی لفظ کہے تو اُس کا بھی یہی حکم ہے۔ ماشاء اللہ ،اگر اللہ چاہے، جو اللہ چاہے، اگر اللہ نے میری مدد کی، اِلّا یہ کہ میرا اِرادہ بدل جائے، الا یہ کہ میں دُوسرے کام کو زیادہ پسند کروں ،وغیرہ۔ <br> مسئلہ : اِستثناء کا لفظ قسم کھانے کے کچھ وقفہ اَور فصل کے بعد کہا ہو تو قسم ہوجائے گی۔ <br> (٣) قسم کے اِنعقاد اَور بقاء کے لیے یہ شرط ہے کہ قسم کا زمانہ مستقبل میں پورا ہونا عقلاً ممکن بھی ہو خواہ عادتًا ممکن ہو یا نہ ہو۔ اگر اِس کام کا پورا ہونا نہ عقلًا ممکن ہو نہ عادتًا ممکن ہو تو قسم منعقد اَور صحیح نہیں ہوتی مثلاً کہاخدا کی قسم میں آج اِس گلاس کا پانی ضرور پیوں گا جبکہ اِس گلاس میں پانی ہی نہ تھا یا پانی تو تھا لیکن وہ دِن ہی دِن میں خود بخودگرگیا یا جان بوجھ کر کسی نے گرادیا بلکہ خود قسم کھانے والے نے ہی گرادیا ہو تو دِن گزرنے پر قسم نہیں ٹوٹے گی کیونکہ پانی نہ ہونے یا پانی گرجانے کے بعد گلاس کا پانی پینا عقلاً اَور عادتًا دونوں طرح محال ہے اَور ممکن نہیں ہے۔ <br> اَور اگر وہ کام عقلاً ممکن ہو عادتًا ممکن نہ ہو تو قسم صحیح ہے مثلاً کہا خدا کی قسم میں آسمان پر چڑھ جاؤں گا یا میں اِس پتھر کو سونے کا بنادُوں گا کیونکہ یہ عقلاً ممکن ہے۔ حضرت عیسٰی علیہ السلام آسمان پر اُٹھائے گئے اَور حضرت محمد صلی اللہ عليہ وسلم معراج کے موقع پر آسمانوں پر چڑھے تھے اَلبتہ چونکہ عادتًا اِس کام کو کرنا ممکن نہیں اِس لیے قسم فی الفور ٹوٹ جائے گی اَور کفارہ دینا ہوگا۔ <br> مسئلہ : قسم کھائی کہ میں آج تمہارا قرض ضرور اَدا کروں گاحالانکہ نہ اپنے پاس رقم ہے اَور نہ ہی کوئی قرض دینے والا ملتا ہے تو چونکہ ایسی حالت میں بھی اَدائیگی عقلاً ممکن ہے اَور عادتًا بھی محال نہیں ہے کیونکہ ہوسکتا ہے کہ کسی سے صدقہ زکوة ہی مل جائے یا خلاف ِ توقع کوئی قرض دینے پر آمادہ ہوجائے تو قسم صحیح بھی ہوگئی اَور فورًا نہیں ٹوٹے گی بلکہ دِن گزرنے کے بعد ٹوٹے گی۔ <br> قسم کس طرح ہوتی ہے : <br> (١) اللہ تعالیٰ کے ذاتی اَور صفاتی ناموں کے ساتھ مثلاً یوں کہا اللہ کی قسم، خدا کی قسم، رحمن کی قسم، رحیم کی قسم ،وغیرہ۔ <br> (٢) اللہ تعالیٰ کی صفات کے ساتھ جبکہ اُن کا عرف و رواج ہو مثلاً خدا کی عزت و جلال کی قسم، خدا کی بزرگی اَور بڑائی کی قسم،وغیرہ ۔ <br> مسئلہ : اگر یوں کہا کہ خدا گواہ ہے یا خدا کو گواہ کر کے کہتا ہوں یا خدا کو حاضر وناظر جان کر کہتا ہوں تو قسم ہوگئی۔ <br> مسئلہ : اگر خدا کا نام نہیں لیا فقط اِتنا کہہ دیا میں قسم کھا تا ہوں کہ فلاں کام نہ کروں گا تو قسم ہوگئی۔ <br> مسئلہ : قرآن کی قسم، کلام اللہ کی قسم، کلام ِ مجید کی قسم کھا کر کوئی بات کہی تو قسم ہوگئی۔ اَور اگر کلام ِ مجید کو ہاتھ میں لے کر یا اِس پر ہاتھ رکھ کر کوئی بات کہی لیکن قسم نہیں کھائی تو قسم نہیں ہوئی۔ <br> مسئلہ : کہا مجھ پر اللہ کی قسم ہے تو قسم ہوگئی۔ <br> مسئلہ : کہا لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہْ میں فلاں کام ضرور کروں گا اگر قسم کی نیت سے کہا ہوتو قسم ہوگئی۔ <br> (٣) ہر وہ شے جس کی حرمت اَبدی ہے اَور کسی حال میں ساقط نہیں ہوتی جیسے کفر تو اِس کے حلال کرنے کو کسی شرط پر معلق کرنے سے قسم ہوجاتی ہے۔ <br> مسئلہ : اگر فلاں کام کروں توبے اِیمان ہو کر مروں ، مرتے وقت اِیمان نصیب نہ ہو، بے اِیمان ہوجاؤں یا اِس طرح کہا اگر فلاں کام کروں تو میں مسلمان نہیں تو قسم ہوگئی۔اِس کے خلاف کرنے سے کفارہ دینا پڑے گا اَور اِیمان نہ جائے گا لیکن اَیسی قسم ہرگز نہ کھانی چاہیے۔ <br> مسئلہ : یوں کہا اگر میں فلاں کام کروں تو میں یہودی ہوں گا یا نصرانی ہوں گا یا اِسلام سے دُور ہوں گا تو قسم ہوگئی۔ <br> مسئلہ : کہا اگر فلاں کام کروں تو میں قرآن سے نماز یا روزے سے یا قبلہ سے یا کتب ِسماویہ سے بری ہوں گا تو قسم ہوگئی کیونکہ اِن چیزوں سے براء ت کفر ہوتی ہے۔ <br> (٤) کسی حلال چیز کو اپنے اُوپر حرام کرنا بھی قسم ہے۔ <br> مسئلہ : کسی نے کہا کہ تیرا گھر کا کھانامجھ پر حرام ہے ۔یا یوں کہا کہ فلاں چیز میں نے اپنے اُوپر حرام کرلی تو اِس کہنے سے وہ چیز حرام نہیں ہوئی لیکن یہ قسم ہوگئی، اَب اگر کھائے گا تو کفارہ دینا ہوگا۔ <br> (٥) کسی حرام چیز کو اپنے اُوپر حرام کرنا بھی قسم ہے، مثلاً آئندہ مجھ پر فلم دیکھنا حرام ہے تو قسم ہوگئی اگر آئندہ شامت ِاعمال سے دیکھ لی تو کفارہ دینا ہوگا۔ <br> مسئلہ : کہا یہ شراب مجھ پر حرام ہے یا فلاں کا مال مجھ پر حرام ہے، اگر قسم کی غرض سے کہا تو قسم ہوگئی۔ <br> کن اِلفاظ سے قسم نہیں ہوتی : <br> (١) ہر وہ شے جس کی حرمت مجبوری و لاچاری کے وقت ساقط ہوجاتی ہے مثلاً شراب اَور مُردار اِس کے حلال کرنے کو کسی شرط پر معلق کرنے سے قسم نہیں ہوتی مثلاً یوں کہا اگر میں فلاں کام کروں تو میں چور یا شرابی یا زانی یا سود خور ہوں تو قسم نہیں ہوتی۔ <br> (٢) اللہ کی سزا اَور عذاب کو کسی شرط پر معلّق کرنے سے قسم نہیں ہوتی۔ <br> مسئلہ : یوں کہا اگر فلاں کام کروں تو ہاتھ ٹوٹیں ، دِیدے پھوٹیں ، کوڑھی ہوجائے، بدن پھوٹ نکلے، خدا کا غضب ٹوٹے، آسمان پھٹ پڑے، دانے دانے کا محتاج ہوجائے، خدا کی مار پڑے، خدا کی پھٹکار پڑے، مرتے وقت کلمہ نہ نصیب ہو، قیامت کے دِن خدا اَور رسول کے سامنے زَرد رُو ہوں ۔ اِن باتوں سے قسم نہیں ہوتی۔ اِس کے خلاف کرنے سے کفارہ نہ دینا پڑے گا۔ <br> (٣) خدا کے سوا کسی اَور کی قسم کھانے سے قسم نہیں ہوتی جیسے رسول اللہ کی قسم، کعبہ کی قسم، اپنی آنکھوں کی قسم، اپنی جوانی کی قسم، اپنے ماں باپ کی قسم، اپنے بچے کی قسم، اپنے پیاروں کی قسم، تمہارے سر کی قسم، تمہاری جان کی قسم، تمہاری قسم، اپنی قسم۔اِس طرح قسم کھا کے پھر اِس کے خلاف کرے تو کفارہ نہ دینا پڑے گا۔ <br> مسئلہ : اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اَور کی قسم کھانا بڑا گناہ ہے اَور شرک کی بات ہے۔ (جاری ہے) <br> ٭٭٭ <br> <br> <br> <br> <br> تبصرہ کتب <br> ٭٭٭ <br> نام کتاب : دقائق السنن شرح اُردو جامع السنن (جلد اوّل) <br> تالیف : شیخ الحدیث حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالستار مروت <br> صفحات : ٥٢٠ <br> سائز : ٨/٣٠x٢٠ <br> ناشر : حافظ تسکین اللہ مکتبہ صفدریہ حسن گڑھ پشاور <br> صحاحِ ستّہ میں امام ترمذی رحمہ اللہ کی ''الجامع الصحیح'' کا جو دَرجہ ہے وہ کسی سے مخفی نہیں بِلااِختلاف ِ مسلک و مشرب تمام مدارس میں یہ کتاب پڑھی پڑھائی جاتی ہے اِسی لیے علماء ِ کرام قدیمًا وحدیثًا اِس کی طرف اعتناء فرماتے رہے ہیں اَور اِس کی عربی فارسی اَور اُردو میں بہت سی شروحات لکھی گئی ہیں ۔ زیرتبصرہ کتاب ''دقائق السنن'' بھی اِسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے اِس وقت ہمارے سامنے اِس کی پہلی جلد ہے۔ مصنف کا طرز یہ ہے کہ وہ اُوپر جلی قلم متن دیتے ہیں اَور اِس پر اعراب بھی لگاتے ہیں اِس کے تحت مطلب خیز ترجمہ دیتے ہیں پھر اِس حدیث ِپاک کی تشریح کرتے ہیں ، تشریح کے ضمن میں حل ِلُغات، اختلافِ نسخ، رفعِ تعارض، احوالِ رُواة، بیانِ مسالک، وجوہِ ترجیح وغیرہ پر تفصیل سے کلام کرتے ہیں ۔ زبان و بیان سے ہٹ کر دیکھا جائے تو کتاب اپنے موضوع پر ایک اچھی کاوِش ہے اِس جلد میں ترمذی کے اَٹھارہ اَبواب جو مسواک تک پہنچتے ہیں اُن کی شرح لکھی گئی ہے خدا کرے کہ آگے بھی کام جاری ہو اَور تمام اَبواب کی شرح لکھی جائے۔ <br> ٭٭٭ <br> نام کتاب : المصنفات فی الحدیث <br> تصنیف : حضرت مولانا محمد زمان کلاچوی <br> صفحات : ٤٩٥ <br> سائز : ٨/٢٦ x ٢٠ <br> ناشر : اَلقاسم اکیڈمی جامعہ ابوہریرہ خالق آباد نوشہرہ <br> ''المصنفات فی الحدیث'' حضرت مولانا محمد زمان کلاچوی دامت برکاتہم کا وہ قیمتی مقالہ ہے جو آپ نے ١٩٦٥ء میں جامعة العلوم الاسلامیہ بنوری ٹائون کراچی کے شعبہ تخصص فی علوم الحدیث کے مشرف کی نگرانی میں عربی زبان میں ''الکتب المدونة فی الحدیث وخصائصھا واصنافھا'' کے عنوان سے تحریر فرمایا تھا جس کے نتیجے میں مصنف موصوف کو درجۂ اُولی کی سند عطا کی گئی تھی۔ اِس مقالہ میں تقریبًا ایک ہزار برس کے اَندر لکھی جانے والی اکثر کتب ِ حدیث کا یکجا تذکرہ کیا گیا ہے جو تقریبًا ڈیڑھ سو کتابوں سے ماخوذ ہے، یہ مقالہ عربی میں تھا اَب القاسم اکیڈمی کی طرف سے اِس کا ترجمہ و تلخیص کرکے طباعت کے جدید اَنداز کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔ علم ِ حدیث سے تعلق رکھنے والے علماء و طلباء کے لیے یہ ایک قیمتی تحفہ ہے اِنہیں اِس سے ضرور اِستفادہ کرنا چاہیے۔ <br> ٭٭٭ <br> نام کتاب : مکاتیب الکریم <br> مرتب : حضرت مولانا عبد القیوم حقانی <br> صفحات : ٣١١ <br> سائز : ١٦/٣٦x ٢٣ <br> ناشر : اَلقاسم اکیڈمی جامعہ ابوہریرہ خالق آباد نوشرہ <br> پیش ِ نظر کتاب ''مکاتیب الکریم'' حضرت مولانا قاضی عبد الکریم کلاچوی فاضلِ دیوبند دامت برکاتہم کے اُن خطوط کا مجموعہ ہے جو آپ نے اپنے عزیز شاگرد حضرت مولانا عبد القیوم حقانی کے نام تحریر فرمائے تھے۔ یہ خطوط جن میں سے بعض مختصر اَور بعض مطول ہیں بہت سی قیمتی معلومات پر مشتمل ہیں ۔ مولانا عبدالقیوم صاحب حقانی زید مجدہم شکریہ کے مستحق ہیں کہ اُنہوں نے اِن خطوط کو کتابی شکل میں شائع کرکے اِن سے استفادہ عام کردیا ہے فَجَزَاہُ اللّٰہُ اَحْسَنَ الْجَزَائِ ۔ <br> ٭٭٭ <br> نام کتاب : یادگار تحریریں <br> مرتب : مولانا محمد اسحٰق صاحب <br> صفحات : ٥٦٠ <br> سائز : ١٦/٣٦x٢٣ <br> ناشر : اِدارہ تالیفات ِ اشرفیہ ملتان <br> گزشتہ شمارے میں ''یادگار ملاقاتیں '' نامی کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے راقم الحروف نے تحریر کیا تھا کہ ''مولانا محمداسحٰق صاحب زید مجدہم مدیر اِدارہ تالیفاتِ اشرفیہ نے اپنے اِدارہ میں اشاعت کا ایک یادگار سلسلہ قائم فرمایا ہے جس کی چار کڑیاں ہیں ''۔ زیرِ تبصرہ کتاب اِسی سلسلہ کی چوتھی کڑی ہے یہ کتاب کافی عرصہ پہلے ٨/٢٦x٢٠ سائز کی دو جلدوں میں شائع ہوئی تھی اَب اِسی کتاب کو جدید اَنداز میں ایک ہی جلد میں شائع کیا گیا ہے۔ اِس کتاب میں اکابر علمائے دیوبند کی تقریبًا پون صدی قبل لکھی جانے والی علمی اَدبی اَور تاریخی تحریریں جمع کی گئی ہیں ، جدید اَیڈیشن کے دو حصّے ہیں حصۂ اوّل کا مأخذ ١٣٣٢ھ تا ١٣٣٦ ھ کے القاسم و اَلرشید اَور دیگر جرائد ہیں جبکہ حصّہ دوم میں حضرت مولانا اَنظر شاہ صاحب کشمیری کے وہ اَدبی اَور اصلاحی مضامین دیے گئے ہیں جو اِسلام کے اہم موضوعات کے علاوہ تقریبًا ساٹھ مشاہیر دیوبند کے مختصر تذکرے اَور جامع سوانح پر مشتمل ہیں ، شروع کتاب میں اَکابر دیوبند کی تحریرات کے عکس بھی تبرکًا دیے گئے ہیں ، اکابر سے تعلق رکھنے والے حضرات کے لیے خصوصًا اَور تاریخ و تذکرہ کے طلباء کے لیے عمومًا اِس کتاب کا مطالعہ مفیدرہے گا۔ <br> ٭٭٭ <br> نام کتاب : خطبات حضرت جی <br> افادات : حضرت مولانا محمد یوسف کاندھلوی <br> صفحات : ٤٨٠ <br> سائز : ١٦/٣٦x٢٣ <br> ناشر : اِدارہ تالیفات ِ اشرفیہ ملتان <br> حضرت جی مولانا محمد یوسف صاحب کاندھلوی کی شخصیت محتاجِ تعارف نہیں آپ اُس عظیم ہستی کے فرزند ہیں جن کا لگایا ہوا پودا دعوت و تبلیغ کے نام سے دُنیا بھر میں برگ و بار لارہا ہے جس کے اَثرات ایک عالَم پر نمایاں ہیں ۔ حضرت جی مولانا محمد یوسف صاحب جہاں ایک بڑے عالِم، مدرّس اَور مصنف تھے وہیں آپ ایک کامیاب مبلغ مقرر اَور خطیب بھی تھے۔ <br> پیش ِ نظر کتاب ''خطبا ت حضرت جی '' میں آپ کے اُن خطبات کو جو دعوت و تبلیغ کی محنت پر آج سے تقریبًا پینتالیس برس قبل مسجد ِ نبوی شریف میں اِرشاد فرمائے گئے تھے جمع کرکے شائع کیا گیا ہے۔ شروع کتاب میں صاحب ِ خطبات کی مختصر سوانح بھی درج کی گئی ہے جس سے کتاب کی اِفادیت دوچند ہوگئی ہے۔ <br> <br> <br> <br> <br> بقیہ : اِسلام کی اِنسانیت نوازی <br> ٭٭٭ <br> جہاں حقوق ِاِنسانی کے تحفظ کے نام نہاد دعویدار، روشن خیال لوگ اپنے بوڑھے ماں باپ کو(جب وہ اَولاد کی خدمت اَور نگرانی کے زیادہ محتاج ہوتے ہیں ) بوڑھوں کو گھر کے اَجنبی ملازمین کے حوالے کرکے بے فکر ہوجاتے ہیں یہ مہذب دُنیا کی اِنسانیت کشی کی مکروہ تصویریں اَور مناظر ہیں جو آج مغرب میں جگہ جگہ بے کس اَور لاچار بوڑھے مردوں اور عورتوں کی شکل میں دیکھے جاسکتے ہیں ۔آج یہی اِنسانیت کش معاشرہ اِسلام کی مقدس سراپا اِنسانیت نواز تعلیمات سے صرفِ نظر کرکے اُلٹا اُسے بدنام کرنے پر تلا ہوا ہے۔ حالانکہ اگر یہ معاشرہ اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھے تو یہ نئی تہذیب جابجا اِنسانی اقدار کو پیروں تلے روندتی ہوئی نظر آئے گی۔ العیاذ باللہ منہ۔ (جاری ہے) <br> <br> <br> <br> <br> اَخبار الجامعہ <br> ( جامعہ مدنیہ جدید محمد آباد رائیونڈ روڈ لاہور ) <br> ٭٭٭ <br> حضرت مہتمم صاحب کے اَسفار : (بقلم اِنعام اللہ ،متعلم جامعہ مدنیہ جدید ) <br> ١٦ اپریل کو بعد نمازِ جمعہ شیخ الحدیث حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب جامعہ مدنیہ جدید کے اُستاذ الحدیث مولانا امان اللہ صاحب کی والدۂ مرحومہ کی تعزیت کے لیے دامان اَٹک کے لیے روانہ ہوئے رات گیارہ بجے کے قریب دامان پہنچے رات کا قیام یہیں ہوا،اَگلے روز حضرت صاحب نے اُستاذ الحدیث مولانا امان اللہ صاحب اَور اُن کے بڑے بھائی اَنوارا للہ صاحب اَور دیگر سوگواروں سے تعزیت کی۔ دو پہر بارہ بجے مولانا امان اللہ صاحب سے اِجازت لے کر سخا کوٹ کے لیے روانہ ہوئے، شام چار بجے سخا کوٹ پہنچے۔ <br> ١٩ اپریل کو سخا کوٹ سے واپسی پر دِن کے گیارہ بجے دارلعلوم شیر گڑھ تشریف لے گئے جہاں دارالعلوم کے نائب مہتمم مولانا طیب صاحب مدظلہ سے ملاقات کی مختصر قیام کے بعد اُن سے اجازت چاہی اَور براستہ عمر زئی پشاور کے لیے روانہ ہوئے۔ عمر زئی میں حضرت مولانا سیّد حسین احمد صاحب مدنی کے شاگرد فاضل ِ دیوبندحضرت مولانا قاضی فضل ِمنان صاحب کی عیادت کی۔عمر زئی میں حضرت مولانا عبدالجلیل صاحب رحمة اللہ علیہ کے صاحبزادے ڈاکٹر طیب صاحب کی طرف سے دوپہر کے کھانے کا انتظام تھا، حضرت کی اِن کے گھر تشریف آوری پر ڈاکٹر صاحب کے بڑے بھائی ڈاکٹر فیض الرحمن صاحب بھی پشاور سے حضرت کی زیارت کے لیے روانہ ہوچکے تھے تھوڑے ہی وقت میں ڈاکٹر فیض الرحمن صاحب بھی پہنچ گئے دونوں بھائیوں نے حضرت کی اُن کے یہاں تشریف آوری پر دِل سے شکریہ اَدا کیا ،حضرت دونوں بھائیوں اَور ہمارے جامعہ کے طالب علم بھائی محمد مشتاق اَور بھائی محمد ابراہیم سے اجازت لے کر پشاور کے لیے روانہ ہوئے، رات ساڑھے آٹھ بجے پشاور میں بھائی خالدخان صاحب کے گھر تشریف لے گئے بعد اَزاں محترم ڈاکٹر اَرشد تقویم صاحب کاکا خیل اَور ڈاکٹر عبدالماجد صاحب اَور حضرت مولانا مفتی ذاکر حسین صاحب نعمانی حضرت سے ملاقات کے لیے خالد صاحب کی رہائشگاہ پر تشریف لائے کافی دیر تک مختلف اُمور پر گفتگو ہوتی رہی۔اگلے دِن صبح دس بجے پروفیسر ڈاکٹر عبدالدیان صاحب کی تعزیت کے لیے اُن کے بیٹے انیس الرحمن صاحب کی رہائشگاہ پر تشریف لے گئے۔ <br> جامعہ مدنیہ جدید کے طالب علم بھائی محمد بلال کئی دِن پہلے حضرت سے وقت لے چکے تھے دو بجے پشاور سے پنڈی کے لیے روانہ ہوئے رات سات بجے پنڈی میں بھائی محمدبلال کے بڑے بھائی نسیم صاحب حضرت کو اپنے گھر لے گئے چند منٹ قیام کے بعد حضرت نے اجازت چاہی اَور لاہور کے لیے روانہ ہوئے رات ساڑھے تین بجے بخیریت گھر پہنچ گئے، والحمدللہ ۔ <br> ٭٭٭ <br> ٣٠ مارچ کو برما سے مفتی اسماعیل صاحب شیخ الحدیث حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب سے ملاقات کے لیے جامعہ مدنیہ جدیدتشریف لائے۔ <br> ٢ اپریل کوحضرت مولانا سید محمود میاں صاحب قاری اسماعیل صاحب مرحوم کے صاحبزادے مولانا زبیر صاحب کی دیرینہ خواہش پر جامع مسجد مدنی میں نماز ِ جمعہ پڑھانے کے لیے بصیر پور اَوکاڑہ تشریف لے گئے جہاں آپ نے لوگوں کوتوبہ اَور استغفار کے موضوع پر بیان فرمایا۔ حضرت کی بصیر پور میں تشریف آوری پر مولانا اَمیر حسین شاہ صاحب گیلانی کے بیٹے محترم شمس الحق صاحب گیلانی بھی تشریف لاچکے تھے۔ بعد اَزاں مولانا زبیر صاحب نے حضرت سے بیعت کی، مولانا زبیر صاحب کی خواہش پر لبِ سڑک نئی تعمیر ہونے والی مسجد اَور مدرسہ کے لیے خیرو برکت کی دُعا کی، رات گیارہ بجے بخیریت گھر پہنچے۔ <br> ٤ اپریل کو حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب حافظ عقیل صاحب کی دعوت ِولیمہ میں شرکت کے لیے پاجیاں گائوں تشریف لے گئے۔ <br> ٨ اپریل کوبعد نمازِ عشاء حضرت مہتمم صاحب دَورہ ٔ حدیث کے طالب علم گل نواز صاحب کی دعوت پر رائیونڈکے مضافات میں تشریف لے گئے۔ <br> ١٠ اپریل کو بعد نمازِ عشاء حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب ''شبانِ ختم ِ نبوت ''والوں کی دعوت پر تحفظ ِ ختم ِ نبوت کانفرنس میں شرکت کے لیے مرغزار کالونی تشریف لے گئے جہاں آپ نے مختصر بیان میں لوگوں کو قادیانی فرقہ اَور دُوسرے فتنوں سے بچنے کے لیے اہم ہدایات اِرشاد فرمائیں اور اختتامی دُعا فرمائی۔ <br> ١١ اپریل کو بعد نمازِ عشاء حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب دَورہ ٔ حدیث کے طالب علم سیف الدین کے اِصرار پر کوٹ رادہ کشن کے مضافات میں تشریف لے گئے جہاں آپ نے قرآن مجید کی روشنی میں مسلمانوں کی اجتماعیت کے بارے میں بیان فرمایا کہ اِس وقت مسلمانوں کے لیے سب سے زیادہ ضروری بات یہ ہے کہ آپس کے اختلافات کو ختم کردیں ۔ بعد اَزاں نزدیک گاؤں اَٹاری اَ جیت سنگھ میں جامعہ کے پڑھے ہوئے مولانا ندیم صاحب کے اصرار پر چند منٹ کے لیے اُن کی یہاں تشریف لے گئے۔ <br> ١٣ اپریل کو آزاد کشمیر کے حضرت مولانا مفتی محمود الحسن صاحب مدظلہم جامعہ مدنیہ جدید تشریف لائے اَورطلباء سے بیان فرمایا بعد اَزاں حضرت مہتمم صاحب سے اُن کی رہائشگاہ پر ملاقات کی۔ <br> ٢١ اپریل کو گوجرانوالہ کے حضرت مولانا حمید اللہ صاحب جامعہ مدنیہ جدید تشریف لائے اَور حضرت مہتمم صاحب سے اُن کی رہائشگاہ پر ملاقات کی، چائے نوش فرمانے کے بعد واپس تشریف لے گئے۔ <br> ٢٣ اپریل کو شیخ الحدیث حضرت مولاناسید محمود میاں صاحب اِنڈسٹریل اَیریا سُندر اسٹیٹ کی انتظامیہ اَور وہاں کے امام جامعہ کے طالب علم بھائی اِنعام الحسن صاحب کی خواہش پر افتتاحِ جمعہ کی تقریب کے لیے تشریف لے گئے۔ <br> ٢٤ اپریل کو شیخ الحدیث حضرت مولاناسید محمود میاں صاحب دَورہ ٔ حدیث کے طالب علم بھائی محمد شاہد کا نکاح پڑھانے کے لیے جیٹھ پور ضلع اَوکاڑہ تشریف لے گئے بعد اَزاں مولانا زبیر صاحب کے اِصرار پر جیٹھ پور میں دارالعلوم مدنیہ تشریف لے گئے جہاں آپ نے مدرسہ کی تعمیر و ترقی کے لیے دُعا کی ،واپسی پر مولانا موسیٰ صاحب کی دیرینہ خواہش پر حجرہ شاہ مقیم میں مدرسہ فاطمة الزہراء تشریف لے گئے جہاں آپ نے مدرسہ کے لیے خیرو برکت کی دُعاکی،بعد اَزاں دورۂ حدیث کے طالب علم بھائی نثار احمد کے اصرار پر ٹھینگ موڑ میں اُن کے چچازاد بھائی کا نکاح پڑھا یا، رات دس بجے بخیریت واپسی ہوئی۔ <br> ٢٥ اپریل کو جامعہ مدنیہ جدید کے طلباء نے دوستانہ فٹ بال کا میچ کھیلا ، دونوں ٹیموں میں جامعہ کے اساتذہ ٔ کرام نے اِنعامات تقسیم کیے ، دُعائے خیر پر مجلس برخاست ہوئی۔ <br> <br> <br> <br> <br> جامعہ مدنیہ جدید و مسجد حامد <br> کی تعمیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیجیے <br> ٭٭٭ <br> بانی ٔجامعہ حضرت اقدس مولانا سیّد حامد میاں صاحب رحمہ اللہ نے جامعہ مدنیہ کی وسیع پیمانے پر ترقی کے لیے محمد آباد موضع پاجیاں (رائیونڈ روڈلاہور نزد چوک تبلیغی جلسہ گاہ) پر برلب ِسڑک جامعہ اور خانقاہ کے لیے تقریباً چوبیس ایکڑ رقبہ ١٩٨١ء میں خرید کیا تھا۔جہاں الحمد للہ تعلیم اور تعمیر دونوں کام بڑے پیمانہ پر جاری ہیں ۔ جامعہ اور مسجد کی تکمیل محض اللہ تعالیٰ کے فضل اور اُس کی طرف سے توفیق عطاء کیے گئے اہلِ خیر حضرات کی دُعائوں اور تعاون سے ہوگی ۔ اِس مبارک کام میں آپ خود بھی خرچ کیجیے اور اپنے عزیزو اقارب کو بھی ترغیب دیجیے۔ ایک اَندازے کے مطابق مسجد میں ایک نمازی کی جگہ پر دس ہزار روپے لاگت آئے گی، حسب ِاستطاعت زیادہ سے زیادہ نمازیوں کی جگہ بنوا کر صدقہ ٔ جاریہ کا سامان فرمائیں ۔ <br> منجانب <br> سیّد محمود میاں مہتمم جامعہ مدنیہ جدید و اَراکین اَورخدام خانقاہِ حامدیہ <br> خطوط ،عطیات اور چیک بھیجنے کے پتے <br> 1۔ سیّد محمود میاں '' جامعہ مدنیہ جدید'' محمد آباد19 کلو میٹر رائیونڈ روڈ لاہور <br> فون نمبر : 924235330310+ فیکس نمبر : 924235330311+ <br> 2۔ سیّد محمود میاں ''بیت الحمد'' نزد جامعہ مدنیہ کریم پارک راوی روڈ لاہور <br> فون نمبر : 924237726702+ فیکس نمبر : 924237703662+ <br> موبائل نمبر : 923334249301+ V فون نمبر : 924236152120+ <br> جامعہ مدنیہ جدید کا اکاؤنٹ نمبر (0095402010079150) MCB کریم پارک برانچ لاہور <br> مسجد حامد کا اکاؤنٹ نمبر (0095404010010461) MCB کریم پارک برانچ لاہور <br>
Email us your queries on jamiamadniajadeed@gmail.com you will be answered in less than 24 hours or Give us a call directly at +92 333 4249302, +92 333 4249 301.