Anwar-e-Madina

ماہنامہ انوار مدینہ

جنوری 2023

jamiamadnijadeed

ماہنامہ انوا ر مدینہ

جلد : ٣١ جمادی الاخرٰی ١٤٤٤ھ / جنوری ٢٠٢٣ء
شمارہ : ١
سیّد محمود میاں
مُدیر اعلٰی
سیّد مسعود میاں
نائب مُدیر بدلِ اشتراک

پاکستان فی پرچہ 40 روپے ....... سالانہ 500 روپے
سعودی عرب،متحدہ عرب امارات..... سالانہ 90 ریال
بھارت ،بنگلہ دیش ........... سالانہ 25 امریکی ڈالر
برطانیہ،افریقہ ........................ سالانہ 20 ڈالر
امریکہ .................................. سالانہ 30 ڈالر
جامعہ مدنیہ جدید کی ویب سائٹ اور اِی میل ایڈ ریس
www.jamiamadniajadeed.org
E-mail: jmj786_56@hotmail.com
darulifta@jamiamadniajadeed.org
ترسیل ِزر و رابطہ کے لیے
' جامعہ مدنیہ جدید' محمد آباد19 کلو میٹر رائیونڈ روڈ لاہور
اکائونٹ نمبر ا نوارِ مدینہ 00954-020-100- 7914 2
مسلم کمرشل بنک کریم پارک برانچ راوی روڈ لاہور(آن لائن)
جازکیش نمبر : 0304 - 4587751
رابطہ نمبر : 0333 - 4249302
جامعہ مدنیہ جدید : 042 - 35399051
خانقاہ حامدیہ : 042 - 35399052 موبائل : 0333 - 4249301
دارُالافتاء : 0321 - 4790560
مولاناسیّد رشید میاں صاحب طابع وناشر نے شرکت پرنٹنگ پریس لاہور سے چھپواکر دفتر ماہنامہ 'انوارِ مدینہ ' نزد جامعہ مدنیہ کریم پارک راوی روڈ لاہور سے شائع کیا
اس شمارے میں

حرفِ آغاز

٤
درسِ حدیث
حضرت اقدس مولانا سیّد حامد میاں صاحب
٧
داعی اِلی اللہ کے اوصاف اور اُن کی تربیت و تکمیل
حضرت مولانا سید محمد میاں صاحب
١٢
رحمن کے خاص بندے
حضرت مولانا مفتی محمد سلمان صاحب منصورپوری
٢٢
عذابِ قبر اَحادیث کی روشنی میں
حضرت مولانا نعیم الدین صاحب
٢٥
دنیا کی حرص و طمع
حضرت مولانا ابوبکر صاحب غازی پوری
٣٣
استفادہ کی چند بنیادیں
مولانا محمدبن محمدسرور صاحب
٤٣
دارُالافتاء .... موزوں پر مسح کا حکم
حضرت مولانا مفتی محمد زبیر حسن صاحب
٥٥
معصیت اور اُ س کے اثرات
حضرت مولانا ظفیر الدین صاحب
٥٧
ٹیپو سلطان کی ریاست میں

٦٤





شیخ المشائخ محدثِ کبیر حضرت اقدس مولانا سیّد حامد میاں صاحب رحمة اللہ علیہ کے سلسلہ وار مطبوعہ مضامین جامعہ مدنیہ جدید کی ویب سائٹ پر پڑھے جا سکتے ہیں
www.jamiamadniajadeed.org/maqalat


حرف آغاز
سید محمود میاں






نَحْمَدُہ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ اَمَّا بَعْدُ !
باری تعالیٰ کا ارشاد ہے :
( وَ لَنْ تَرْضٰی عَنْکَ الْیَھُوْدُ وَ لَا النَّصٰرٰی حَتّٰی تَتَّبِعَ مِلَّتَھُمْ قُلْ اِنَّ ھُدَی اللّٰہِ ھُوَ الْھُدٰی وَ لَئِنِ اتَّبَعْتَ اَھْوَآئَ ھُمْ بَعْدَ الَّذِیْ جَآئَ کَ مِنَ الْعِلْمِ مَالَکَ مِنَ اللّٰہِ مِنْ وَّلِیِّ وَّ لاَ نَصِیْرٍ) (سُورة البقرة : ١٢٠ )
'ہر گز آپ سے خوش نہ ہوں گے یہود اور نہ نصاریٰ حتیٰ کہ آپ ان کے دین کی پیروی اختیار نہ کرلیں (اور ان ہی کی طرح ہوجائیں)'
چالیس سال کے مسلح جہاد کے نتیجہ میں تشکیل پانے والی اَمارتِ اسلامیہ افغانستان کی ریاست عالمِ اسلام کے مظلوموں کے لیے اُمید کی ایک کرن ہے ! جس کو طلوع ہوئے ابھی صرف ڈیڑھ برس ہوا ہے مگر عالمِ کفر جس کے خمیر کا خبث ِ اعظم امن اور اسلام دشمنی ہے کب چین سے بیٹھ سکتا ہے ! ؟
مگر اِن کا چین سے نہ بیٹھنا عالمِ اسلام کے لیے اس اعتبار سے خیر کا حامل ہے کہ مسلمان بیدار رہیں اور غافل نہ ہونے پائیں کیونکہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے !
مگر اس کا کیا کیاجائے کہ عالمِ اسلام ہی کے اکثر حکمران منافقانہ روِش اختیار کرکے عالمِ کفر کا ساتھ دینے لگیں !
اس پر پہلے بھی بہت کچھ لکھا جاچکا ہے اور ہر دردِ دل رکھنے والے نے لکھا ہے اور ہم سے بہتر لکھا ہے لہٰذا اِس پر اپنی طرف سے مزید کچھ لکھنے کے بجائے قرآنِ کریم میں ان بدنصیبوں کے برے انجام کو بطورِ ترہیب نقل کرتا ہوں ملاحظہ فرمائیں :
'اور تم ہرگز مت خیال کرو کہ اللہ بے خبر ہے اُن کاموں سے جو کرتے ہیںظالم
ان کو تو ڈھیل دے رکھی ہے اُس دن کے لیے کہ پتھرا جائیں گی آنکھیں ! دوڑتے ہوں گے اُوپر اُٹھائے اپنے سر ، ذرا پلک بھی نہ جھپکے گی اور دل اُن کے (دہشت و خوف سے) اُڑے جا رہے ہوں گے !
اور آپ ڈرا دیں لوگوں کو اُس دن سے کہ آئے گا ان پر عذاب تب کہیں گے ظالم اے رب ہمارے، مہلت دے ہم کو تھوڑی مدت تک کہ ہم قبول کرلیں تیری دعوت اور پیروی کرلیں رسولوں کی !
کیا تم پہلے قسم نہ کھاتے تھے کہ تم کو زوال نہیں ہے اور آباد تھے تم بستیوں میں ان ہی لوگوں کی جنہوں نے (تم سے پہلے دور میں)ظلم کیا اپنی جان پر ! اور کھل چکا تھا تم پر کہ کیسا (عبرت ناک) سلوک کیا ہم نے ان سے (بطورِ سزا ) ! اور بتلائے ہم نے تم کو(ماضی کے ) سب قصے ! ! !
اور یہ (انبیاء علیہم السلام اور ان کے پیروکاروں کے خلاف) اپنا دائو کھیل چکے ہیں اور اللہ کے سامنے ہے ان کا(بودا) دائو اگرچہ (بظاہر )ان کا (سازشی)دائو ایسا (خطرناک )ہے کہ پہاڑوں کو اپنی جگہ سے ہلا دے ! ! !
سو خیال مت کر کہ اللہ اپنے رسولوں سے (نصرت کے معاملہ میں) وعدہ خلافی کرے گا ! بے شک اللہ زبردست ہے بدلہ لینے والا ! ! !
جس دن بدل دی جائے گی اس زمین(کی موجودہ حالت) مختلف (نوعیت کی ) زمین سے اور بدلے جائیں آسمان(مختلف اَنواع کے) اور لوگ (اپنی قبروں سے) نکل کھڑے ہوں گے پیش ہونے سامنے اللہ کے جو اَکیلا زبردست ہے ! ! !
اور دیکھے تو گنہگاروں کو اُس دن اکٹھے جکڑے ہوئے زنجیروں میں ! قمیص اُن کے ہیں( بدبو دار آتش گیر مادے) گندھک ١ کے اور ڈھانکے لیتی ہے ان کے منہ کو آگ ! تاکہ بدلہ دے اللہ ہر ایک جی کو اُس کی کمائی کا ، بے شک اللہ جلد کرنے والا ہے حساب ! ! !
یہ خبر پہنچا دینی ہے لوگوں کو تاکہ چونک جائیں اس سے اور تاکہ جان لیں کہ معبود وہی ہے ایک ہے اور تاکہ سوچیں عقل والے ' (سورۂ ابراہیم ٤٢ تا ٥٢ )
عالمِ اسلام بالخصوص امارتِ اسلامی افغانستان کے بارے میں عالمِ کفر کا موجودہ روّیہ کوئی اچھنبے کی بات نہیں ہے ! ان کا روّیہ صدیوں پہلے سے ماضی میں بھی ایسا ہی رہا ہے اور تاقیامت آنے والی صدیوں میں بھی ایسا ہی رہے گا ! ان کے خبث کو لگام تب لگے گی جب یہ مغلوب کردیے جائیں گے !
اور مغلوب کرنے کا واحد طریقہ یہی ہے کہ عالمِ اسلام متحد ہوکر علم ِ جہاد بلند کرے ! باری تعالیٰ کا ارشاد ہے
( اِذْ یُوْحِیْ رَبُّکَ اِلَی الْمَلٰئِکَةِ اَنِّیْ مَعَکُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا سَاُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا الرُّعْبَ فَاضْرِبُوْا فَوْقَ الْاَعْنَاقِ وَاضْرِبُوْا مِنْھُمْ کُلَّ بَنَانٍ) ٢
' جب حکم بھیجا (غزوۂ بدر میں) تیرے رب نے فرشتوں کو (اور بالواسطہ انسانوں کو) کہ میں تمہارے ساتھ ہوں سو تم دل مضبوط کرو مسلمانوں کے، میں ڈال دوں گا کافروں کے دلوں میں دہشت، سو چوٹ مارو (تاک تاک کے) گردنوں پر اور کاٹ ڈالو اُن کی پورپور (چھوٹا بڑا ہر جوڑ ایک ایک کر کے ) '
اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو توفیق عطاء فرمائیں کہ وہ اپنے اندر منافقین کی شکل میں موجود کفار کے خلاف صف آرا ہوکر اپنے اندر کی غلاظت کو نکال باہر کریں تاکہ ننگا کفر گھٹنوں کے بل آرہے وَمَا عَلَیْنَا اِلاَّ الْبَلَاغُ الْمُبِیْن
١ SULPHUR ٢ سُورةالانفال : ١٢
درس حدیث
حضرت اقدس پیر و مرشد مولانا سیّد حامد میاں صاحب کا مجلسِ ذکر کے بعد درسِ حدیث 'خانقاہِ حامدیہ چشتیہ' رائیونڈ روڈ لاہور کے زیرِانتظام ماہنامہ ' انوارِ مدینہ' کے ذریعہ ہر ماہ حضرت اقدس کے مریدین اور عام مسلمانوں تک باقاعدہ پہنچایا جاتا ہے اللہ تعالیٰ حضرت اقدس کے اِس فیض کو تا قیا مت جاری و مقبول فرمائے،آمین۔
اعمال شکل اختیار کر کے محفوظ رہتے ہیں ! روزہ اور قرآن سفارش کریں گے !
انسان بھی ہر لمحہ فناء کے عمل سے گزرتا ہے !
درسِ حدیث نمبر٧٧ (١٢ مضان المبارک١٤٠٣ھ/٢٤ جون١٩٨٣ئ)
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَیْرِ خَلْقِہ سَیِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہ وَاَصْحَابِہ اَجْمَعِیْنَ اَمَّابَعْدُ !
حدیث شریف میں حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ جناب رسول اللہ ۖ نے ارشاد فرمایا اَلصِّیَامُ وَالْقُرْاٰنُ یَشْفَعَانِ لِلْعَبْدِ روزہ اور قرآنِ کریم دونوں ہی بندہ کی شفاعت کریں گے یا کرتے ہیں ! جو صحابہ کرام دُنیا سے رُخصت ہوچکے تھے اُن کے بارے میں کی بھی ہوگی اور جو جاتے ہیں اُن کے لیے وہ شفاعت کرتے ہیں !
یَقُوْلُ الصِّیَامُ اَیْ رَبِّ اِنِّیْ مَنَعْتُہُ الطَّعَامَ وَالشَّھَوَاتِ بِالنَّھَارِ روزہ یہ کہتا ہے کہ اے اللہ میں نے اس بندہ کو کھانے سے روک دیا تھا اور اُس کی پسندیدہ چیزیں شہوتیں جن کی طرف اس کی رغبت ہوتی تھی میں نے دن میں ان چیزوں سے اس کو روک دیا ! فَشَفِّعْنِیْ فِیْہِ میں اس کی سفارش کرتا ہوں تو میری شفاعت اس کے بارے میں قبول فرما ! !
یہ جتنی بھی عبادتیں ہیں ان کے بارے میں حدیث شریف میں آتا ہے کہ یہ سب کی سب شکل اختیار کرلیتی ہیں ! خداوند ِ کریم کی قدرت ہے یہ کہ جیسے آپ کسی کا فوٹو لیتے ہیں پھر ان فوٹوئوں کی اتنی بڑی تعداد ہوجاتی ہے کہ اُن سے فلم بنالیتے ہیں اور وہ حرکت کرتی ہوئی چیز معلوم ہوتی ہے !
اور دُوسرے طریقے پر آواز پیدا کرتے ہیں اور محفوظ کرتے ہیں اور وہ بولتی ہوئی چیز محسوس ہوتی ہے ! یہ ساری چیزیں اللہ تعالیٰ کے یہاں خود بخود ہوتی ہیں ! ! کوئی عمل جو انسان کرتا ہے رائیگاں نہیں جاتا، بیکار نہیں جاتا، غائب نہیں ہوجاتا، فنا نہیں ہوجاتا ! بلکہ وہ قائم رہتا ہے، موجود رہتا ہے محفوظ طرح موجود رہتا ہے ! جب انسان کا انتقال ہوجاتا ہے اور وہ دُوسرے عالَم میں جاتا ہے تو وہ چیزیں ملتی ہیں، نظر آتی ہیں، اُن سے اُس کا واسطہ پڑتا ہے اور یہ اعمال ایک شکل اختیار کرلیتے ہیں ! ! !
اچھی شکل اور خوفناک شکل :
وہ شکل جو یہ اعمال اختیار کرتے ہیں کبھی تو مثال کے طور پر حدیث شریف میں یہ ذکر کی جاتی ہے کہ جب انسان کو دفن کردیا جاتا ہے تو اُس کے پاس ایک چیز آتی ہے ! اُس کو وہ دیکھ کر یا خوش ہوتا ہے یا ڈرتا ہے ! ایسی ایک چیز اُس کے قریب آجاتی ہے !
تو اگر وہ خوش ہوتا ہے اُس سے تو یہ کہتا ہے کہ مجھے تیرے پاس آنے سے تیری شکل دیکھنے سے تیرے قرب سے ایک راحت میسر آگئی ہے، سکون ہورہا ہے ! تو کون ہے ؟
تو وہ جواب دیتا ہے کہ میں تیرا عمل ہوں ! ؟ مجھے اللہ نے یہ شکل دے دی ہے ! اور میں تیرے ساتھ ہی رہوں گا الگ کبھی ہوں گا ہی نہیں ! گویا یہ فکر کہ میں چلاجائوں گا تو تنہا رہ جائے گا یہ نہیں ہے بلکہ میں تیرے ساتھ رہوں گا ! !
حدیث شریف میں یہ بھی آتا ہے کہ بعض لوگوں کے (خدا پناہ میں رکھے) ایسی ہیبت ناک شکل سامنے آتی ہے کہ جسے انسان دیکھ کر ڈرجاتا ہے ! وحشت کھاتا ہے ! وہ اُس سے پوچھتا ہے کہ تو کون ہے ؟ میں تجھے دیکھتا ہوں تو ڈرتا ہوں وحشت ہوتی ہے ! !
تو وہ جواب دیتا ہے کہ میں تیرا عمل ہوں جو تو کرتا رہا ! اور چاہے تو گھبرا اور چاہے جوکر میں تیرے سے الگ نہیں ہوں گا ! تیرے سامنے ہی رہوں گا ! ! اب وہ ڈر کی شکلیں کیا ہوسکتی ہیں ! کیا نہیں ہوسکتیں ؟ اللہ تعالیٰ پناہ میں رکھے بہت ساری شکلیں ہیں ! بجائے انسان کے جانوروں کی شکلیں ہوسکتی ہیں ! !
چنانچہ حدیث میں بھی آتا ہے اور قرآنِ پاک میں بھی آیا ہے حدیث میں تو آتا ہے کہ جو آدمی زکوٰة نہیں دیتا مال کی، اُس کا مال ایک اژدھے کی شکل میں ہوگا ! جسے اُس کی گردن میں ڈال دیا جائے گا ! اور وہ اُس کو ڈستا رہے گا ! جس سے اُسے تکلیف ہوتی رہے گی جیسے ڈسنے کی تکلیف ہوتی ہے ! وہ تکلیف جاری رہے گی ! گویا جو عمل انسان کررہا ہے اُس کی کوئی شکل بنتی جاتی ہے ! اور وہ عمل محفوظ رہتا ہے ! اور وہ مستقل شکل اختیار کرتا ہے ! اور عالمِ آخرت میں کس شکل میں سامنے آتا ہے ؟ ایک شکل میں سامنے آتا ہے یا کئی شکلوں میں سامنے آتا ہے ؟ یہ مختلف چیزیں ضرور ہیں ! مگر یہ کہ محفوظ رہنا عمل کا یہ ثابت ہے ! ! !
کلمہ ٔ طیبہ کی شکل :
حدیث میں آتا ہے کہ جو بندہ لَآاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ ایک دفعہ کہتا ہے تو اُس سے ایک شکل پیدا ہوتی ہے اُڑنے والی چیز کی ! جو عرشِ الٰہی کے گرد چکر کاٹتی ہے ! اور یہ کہتی ہے کہ میرے ادا کرنے والے کو بخش دے ! جس نے مجھے ادا کیا ہے، پڑھا ہے بخش دے ! معلوم ہوا وہ بھی محفوظ ہے وہ فنا نہیں ہوتا ! تو فنا کا معاملہ تو ایسا ہے کہ ہر چیز فنا بھی ہورہی ہے اور ہر چیز باقی بھی ہے ! دونوں ہی طرح ٹھیک ہے !
انسان بھی ہر لمحہ فناء کے عمل سے گزرتا ہے :
انسان بھی فنا ہورہا ہے ! جس دن سے آیا ہے روز فنا ہی ہورہا ہے ! فناہی کی طرف بڑھ رہا ہے جتنے دن گزرگئے وہ فنا کی طرف اتنے دن اور بڑھ چکا ہے ! کھانا کھاتا ہے وہ فنا ہوجاتا ہے ! پانی پیتا ہے وہ فنا ہوجاتا ہے ! دوبارہ ضرورت پڑتی ہے پانی پینے کی ! ہر چیز فنا ہورہی ہے اور دُوسری طرف دیکھا جائے تو وہ چیز باقی بھی ہے ! ؟ ہر چیز کو بقا بھی حاصل ہے ! ! ؟
جنت اور جہنم میں باقی ہی رہے گا ،وہاں فناء نہیں ہے :
قیامت کے دن جنت میں جہنم میں دوام کی شکل میں معلوم ہوتا ہے کہ باقی ہی باقی ہے ! فنا ہوتی ہی نہیں کوئی چیز ! تصویر کھینچ لیتے ہیں وہ باقی ہوتی ہے وہ رہتی ہے برس ہا برس ! فلم محفوظ رہ جاتی ہے ! اور ٹیپ کرلیتے ہیں تو مدتوں آواز محفوظ رہ جاتی ہے ! معلوم ہوتا ہے کہ فنا ہے ہی نہیں کسی چیز کو ! ایک طرف دیکھیں تو ہر چیز کو فنا معلوم ہوتی ہے ! نئی گاڑی تیار ہوکر آئی ہے تیار ہوگئی تو اب اس کے بعد زوال شروع ہوگیا اُس کا ! حالانکہ اُس کے سب پُرزے لوہے کے ہیں ! مگر کسی بھی طرح کی بنی ہوئی کوئی بھی چیز ہو، زوال پھر آنا شروع ہو ہی جاتا ہے ! فنا کی طرف وہ بڑھنی شروع ہو ہی جاتی ہے ! ایک لحاظ سے دیکھیں تو ہر چیز فنا ہورہی ہے اور دُوسرے لحاظ سے دیکھیں تو ہر چیز کو بقا بھی ہے دوام بھی ہے جیسے وہ فنا ہی نہیں ہورہی ! !
تو ایک بندہ زبان سے جب لَآاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہتا ہے تو وہ بھی فنا نہیں ہوتا وہ بھی قائم ہے ! اور حدیث شریف میں بھی آیا ہے سُبْحَانَ اللّٰہِ یَمْلَأُ الْمِیْزَانَ وَیَمْلَأُ مَا بَیْنَ السَّمَآئِ وَالْاَرْضِ ایسے کلمات آتے ہیں کلماتِ حمد و ثنا جو خدا کی تعریف اور پاکیزگی کے کلمات ہیں سُبْحَانَ اللّٰہِ اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وغیرہ ان کلمات کے بارے میں یَمْلَأُ الْمِیْزَانَ کا لفظ بھی ہے اور یَمْلَأُ مَا بَیْنَ السَّمَآئِ وَالْاَرْضِ بھی ہے آسمان و زمین کے درمیان بھرلیتا ہے ! ! !
آواز کی پہنچ اور آپ کا اِرشاد :
یہ آواز جو ہماری زبان سے نکلتی ہے کہاں کہاں پہنچتی ہے اور کہاں تک اُس کا مُنتہٰی ہوتا ہے اس کے اثرات کہاں تک جاتے ہیں ؟ اس حدیث سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایک چیز کے اثرات ہر جگہ پہنچ کر رہتے ہیں ! بڑی بڑی دُور پہنچتے ہیں جیسے کہ ایک ڈَلا ماریں ساکن پانی میں اور اُس سے لہریں پیدا ہوتی ہے اور وہ لہریں دُور تک جاتی ہیں ! اسی طرح سے جو آدمی زبان سے کلمات ادا کررہا ہے وہ بھی فضا میں دُور تک چلے جاتے ہیں ! کہاں تک گئے کہاں تک نہیں گئے یہ اللہ تعالیٰ جان سکتے ہیں ! مگر بتایا گیا ایسے کہ جیسے زمین و آسمان کو بھردیتے ہیں یعنی ان کا گُزر ہرجگہ ہوتا ہے ! اور کتنی دیر میں ہوتا ہے، کتنا وقت لگتا ہے یا نہیں لگتا وقت یا بالکل فوری ہوجاتا ہے، کون سی چیز مراد ہے حدیث میں ؟ اس کی تشریح و تعیین ہم نہیں کرسکتے ! بس حدیث میں جو آیا ہے وہ صحیح ہے اور اُس کی تشبیہ دی جاسکتی ہے اور اُسے عقلاً غور کیا جائے تو صحیح ہی قرار دیا جائے گا کیونکہ سمجھ میں آتی ہے وہ بات ! !
تو یہاں حدیث شریف میں یہ آتا ہے کہ روزہ سفارش کرے گا خداوند ِ کریم سے کہ اللہ تعالیٰ میں نے اس کو کھانا پینا اور شہوتیں جس میں پینا بھی داخل ہے، وہ سب چیزیں میں نے روک دی تھیں فَشَفِّعْنِیْ فِیْہِ خداوند ِ کریم اس کے بارے میں میں تیرے سے شفاعت کرتا ہوں !
قرآن کی سفارش :
وَ یَقُوْلُ الْقُرْاٰنُ مَنَعْتُہُ النَّوْمَ بِاللَّیْلِ فَشَفِّعْنِیْ فِیْہِ فَیُشَفَّعَانِ ١ اورقرآن کہے گا یہ رات کو مجھے پڑھا کرتا تھا بالاجمال(یہاں حدیث میں اتنی ہی ) بات ہے ! اور کون سی سورت پڑھتا تھا اور کس سے زیادہ محبت تھی ؟ کون سی آیت سے محبت تھی ؟ کون سے مضمون سے محبت تھی ؟ وہ الگ چیز ہے ! یہ تو بالکل سادہ پڑھنا ہے جو (مرادہے ) تو قرآن کہے گا یہ مجھے پڑھا کرتا تھا ! اور رات کو نیند کی قربانی دیتا تھا ! تو گویا میں نے اسے سونے سے روکا ! خداوند ِ کریم میں بھی اس کے بارے میں شفاعت کرتا ہوں کہ تو اسے بخش دے ! !
فَیُشَفَّعَانِ حدیث میں آتا ہے کہ ان دونوں کی شفاعت قبول کرلی جائے گی اور اس کی بخشش ہوجائے گی ! حقیقت یہ ہے کہ خداوند ِ کریم کی ہی مرضی ہے اور ماننا ہے ! اللہ تعالیٰ ہی نے اپنے لیے یہ فرمایا کہ
میں مان لوں گا ! یہ طے فرمایا تو پھر یہ شکل بن گئی روزہ(اور قرآن) کی اور شفاعت قبول فرمالی جائے گی !
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی رضا اور رحمتوں سے دُنیا اور آخرت میں نوازے،آمین۔اختتامی دُعا.............
(مطبوعہ ماہنامہ انوارِ مدینہ جون ١٩٩٨ ئ)

١ مشکٰوة المصابیح کتاب الصوم رقم الحدیث ١٩٦٣
داعی اِلی اللہ کے اوصاف اور اُن کی تربیت و تکمیل
مؤرخِ ملت حضرت مولانا سید محمد میاں صاحب رحمہ اللہ کی تصنیف ِ لطیف
سیرتِ مبارکہ محمد رسول اللہ ۖ کے چند اَوراق
جس ذات کو اِس لیے اُٹھایا جا رہا ہو کہ وہ لوگوں کو اللہ کی طرف بلائے، بھٹکی ہوئی مخلوق کو حق و صداقت کے صراطِ مستقیم اور نیکی اور سچائی کی شاہراہِ اعظم پر چلائے اُس کے کچھ اوصاف ہونے چاہئیں قرآنِ حکیم میں جابجا اُن اوصاف کی طرف اشارے اور کہیں تصریح پائی جاتی ہے۔
محمد رسول اللہ ۖ کی شخصیت ایک بہترین مثال ہے اور ان اشاروں اور تصریحات کی شہادت یہ ہے کہ محمد رسول اللہ ۖ کی ذاتِ اقدس بہترین مثال اور نمونہ اس لیے تھی کہ مقاصدِ دعوت و ہدایت کے لیے آپ کی تربیت خاص طور پر کی گئی تھی ! داعی حق کے تمام اوصاف اس مختصر کتابچہ میں بیان نہیں کیے جاسکتے یہاں صرف چند اوصاف بیان کیے جارہے ہیں۔
(١) ہمدردی :
کامیاب داعی اور ہادی کو شمع اور چراغ ہونا چاہیے، شمع پوری محفل کو فیض پہنچاتی ہے، تاریک مجلس کو روشنی سے بھردیتی ہے مگر اس طرح کہ اہلِ محفل کے لیے خود فنا ہوتی رہتی ہے ایک سوز ہوتا ہے جو اُس کے تن من کو تحلیل کرتا رہتا ہے ! داعی حق بھی اسی طرح سوز و گداز کا پیکر ہوتا ہے ! وہ اپنی بقاء اسی میں سمجھتا ہے کہ راہِ حق میں خود کو فنا کردے ! قرآنِ حکیم کی شہادت یہ ہے کہ محمد رسول اللہ ۖ سراجِ منیر تھے ١ اور دردِ دل کا عالم یہ تھا کہ جان عزیز اسی میں گھلا رہے تھے کہ بھٹکے ہوئے انسان سیدھے راستہ پر آجائیں ! ٢
١ شمع سوزاں ( یٰاَیُّھَا النَّبِیُّ اِنَّآ اَرْسَلْنٰکَ شَاھِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًا وَّ دَاعِیًا اِلَی اللّٰہِ بِاِذْنِہ وَ سِرَاجًا مُّنِیْرًا) ( الاحزاب : ٤٦ )
٢ ( فَلَعَلَّکَ بَاخِع نَّفْسَکَ عَلٰی اٰثَارِھِمْ اِنْ لَّمْ یُؤْمِنُوْا بِھٰذَا الْحَدِیْثِ اَسَفًا ) ( سُورة الکہف : ٦ )
( لَعَلَّکَ بَاخِع نَّفْسَکَ اَلَّا یَکُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ )( سُورة الشعراء : ٣ )
(٢) اذعان اور یقین :
(الف) ایک شخص اُونچے پہاڑ پر کھڑا ہوا دشمن کے لشکر کو دیکھ رہا ہے جو تیزی سے حملہ کرنے کے لیے آرہا ہے اُس کی بستی کے آدمی پہاڑ کے پیچھے ہیں وہ نہیں دیکھ رہے، یہ دیکھنے والا شخص جس خطرہ سے اپنی قوم کو آگاہ کر رہا ہے وہ اس کا مشاہدہ کر رہا ہے اس لیے وہ اپنی پوری طاقت صرف کر رہا ہے کہ جس طرح بھی ہوسکے وہ بستی کے غافل لوگوں کو جگا دے اور اپنے مشاہدہ کا یقین ان کو دلادے ! داعی حق کو اپنی دعوت پر ایسا ہی یقین ہونا چاہیے گویا قبولِ حق اور کفر واِنکار کے نتائج کو وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے ! ! ١
(ب) ایک نہایت شاداب باغیچہ میں ایک گہری خندق ہے جس میں آگ کے بڑے بڑے اَنگارے دہک رہے ہیں، خندق کے کنارے پھسلواں ہیں سیر کرنے والوں کو اِس کی خبر نہیں ہے جس کو خبر ہے وہ سیر کرنے والوں کو پورے یقین کے ساتھ خطرہ سے آگاہ کرتا ہے ! اور اگر باغ کی سیر کرنے والے اس کے دوست اور عزیز قریب ہوتے ہیں تو وہ اپنی پوری طاقت صرف کردیتا ہے کہ اِن کو اس خندق کی طرف نہ جانے دے ! !
داعی حق باخبر باغبان ہوتا ہے جس کو مخلوقِ خدا سے ایسی ہی محبت ہوتی ہے جیسی اپنے اہل و عیال سے ! وہ خندق کی طرف جانے والوں کو منع کرتا ہے کوئی آگے بڑھ جاتا ہے تو اُس کو پکڑ کر کھینچتا ہے اُس وقت اس کی ہمدردی سراسر اضطراب بن جاتی ہے ٢
شمع جلتی ہے پر اِس طرح کہاں جلتی ہے
ہڈی ہڈی مری اے سوزِ نہاں جلتی ہے
(٣) داعی حق کی کامیابی یہ نہیں ہے کہ اُس کی شوکت و حشمت کے سامنے لوگوں کی گردنیں جھک جائیں بلکہ اُس کی کامیابی یہ ہے کہ اُس کی دعوت کی معقولیت، دلائل کی مضبوطی، اس کے اخلاص، قول اور فعل کی صداقت اور اُس کی سچی خیر خواہی اور ہمدردی، بے لوث زندگی اور بلندی ٔاخلاق کے سامنے لوگوں
١ صحیح البخاری ص ٩٦٠ عن ابی موسٰی فیہ انا النذیر العریان ٢ صحیح البخاری ص ٩٦٠ عن ابی ہریرة
کے دل جھک جائیں ان میں گرویدگی اور عقیدت پیدا ہوجائے ! لہٰذا سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ
(الف) کوئی جَور اور جبر نہ ہونا چاہیے ! ہر صاحب ِ فکر کی رائے کو آزادی حاصل ہو وہ خود
اچھے برے اور اندھیرے اور اُجالے کو پہچانے اور اپنے ضمیر کی شہادت پر عمل کرے !
( لَآ اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ قَدْ تَّبَیَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَیِّ ) ١
(ب) بیشک داعی حق اصلاحی مسائل پیش کرے گا لوگوں سے مطالبہ کرے گا کہ وہ اس کے اصول تسلیم کریں اور ان پر عمل کریں ! لیکن ضروری ہے کہ انداز نہایت سنجیدہ، دانشمندانہ، نصیحت آمیز اور خیراخواہانہ ہو ! تبادلہ خیالات اور بحث و مباحثہ کی نوبت آئے تو اس کا انداز اور طرز بھی ایسا حسین ہو کہ اس سے زیادہ نرم، دلکش اور پیار بھرا اَنداز نہ ہوسکے ! ( اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ ) ٢
(ج) گمراہ، سرکش، شورہ پُشت ٣ شرارت پسند، بد کردار جن کو سیدھے راستہ پر لانا مقصود ہے اُن سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی ہے کہ وہ داعی حق کی بات سنجیدگی سے سنیں گے اور شرافت کا جواب شرافت سے دیں گے بالخصوص ایسی صورت میں کہ ان کی عزت وعظمت، شہرت یا اُن کے کسی مفاد کو نقصان پہنچ رہا ہو تو وہ لامحالہ حق کے مقابلہ میں اپنی ہر ایک شرارت کو کام میں لائیں گے اور پوری قوت سے سرکشی اور بغاوت کا مظاہرہ کریں گے ! اس صورت میں داعی حق کا فرض کیا ہوگا ؟ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے :
'معافی اور درگزر کو اپنا اصول بنالو، نیکی کی ہدایت کرتے رہو اور جاہلوں (نادانوں) سے کنارہ کرتے رہو' ٤

١ سُورة البقرة : ٢٥٦ ٢ سُورة النحل : ١٢٥ پوری آیت کا ترجمہ یہ ہے : '(اے نبی) اپنے پروردگار کی راہ کی طرف لوگوں کو بلاؤ اس طرح کہ حکمت (دانشمندی ) کی باتیں بیان کرو اور اچھے طریقہ پر پندونصیحت کرو اور مخالفوں سے بحث و نزاع کرو تو (وہ بھی) ایسے طریقہ پر کہ حسن و خوبی کا طریقہ وہی ہو (اس سے اچھا نہ ہوسکے) تمہارا پرودگار ہی بہتر جانتا ہے کہ کون اُس کی راہ سے بھٹک گیا اور کون راہِ راست پر ہے '
٣ سرکش نافرمان لڑاکا ٤ سورۂ اعراف ١٩٨ ، سورۂ نحل١٢٧ ، سورۂ مزمل و سورۂ مدثر و سورۂ دہر وغیرہ
(٤) اگرچہ قانون یہ ہے کہ برائی کا بدلہ اُسی جیسی برائی ہوتی ہے ( جَزٰؤُا سَیِّئَةٍ سَیِّئَة مِّثْلُھَا ) ١ مگر داعی حق اس قانون پر عمل نہیں کرتابلکہ اس کا اصول یہ ہوتا ہے بدی کا جواب نیکی سے دے ! بھلائی کر کے برائی کو دفع کرے ( یَدْرَئُ وْنَ بِالْحَسَنَةِ السَّیِّئَةَ ) ٢
(٥) عدل کے معنی برابری پیدا کرنے کے ہیں اسی کو انصاف کہا جاتا ہے ! اس سے مساوات تو قائم ہوجاتی ہے مگر بدی ختم نہیں ہوتی ! بلکہ بسا اوقات جواب اور جواب الجواب کا سلسلہ بدی کو بڑھاتا اور اُس کے دائرہ کو وسیع کردیتا ہے ! داعی حق کا نصب العین یہ ہوتا ہے کہ بدی اور برائی دُنیا سے ختم ہو لہٰذا اس کا اصول یہ ہوگا کہ جب کوئی بدی پیش آئے گی تو اس کے اسباب تلاش کر کے ایسا راستہ اختیار کرے گا کہ بدی اور برائی کی جڑ کٹے، دشمن دوست بن جائیں، جو برے ہیں وہ اچھے ہوجائیں ! !
( وَلَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَلَا السَّیِئَةُ اِدْفَعْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَکَ وَبَیْنَہ عَدَاوَة کَاَنَّہ وَلِیّ حَمِیْم ) ٣
مگر یہ آسان بات نہیں ہے اس کو وہی کر سکتے ہیں جو ضبط و تحمل کے عادی ہوں جو مکارم ِاخلاق کے خوگر ہوں لیکن عالمِ اسباب میں کسی چیز کی عادت جب ہی ہوتی ہے جب پہلے اُس کی تربیت ہوچکی ہو، مختصر یہ کہ اُس دور میں تربیت کا ایک مکمل باب یہ بھی تھا کہ ان کمالات واَوصاف کا عادی بنایا گیا
جو سب سے افضل اور آخری پیغمبر اور سب سے زیادہ جلیل القدر داعی کے لیے ضروری تھے ! !
ثمرہ ٔ تربیت :
جس کی فطرت ِسلیم نے بِلا دعوت اور بِلا فرمائش خود بخود محمد رسول اللہ ۖ کی پیروی کو پوری زندگی کا نصب العین بنایا تھا اس زمانۂ تربیت میں جو رنگ محمد نبی اللہ ۖ پر غالب آتا رہا اُسی رنگ میں یہ بھی رنگے جاتے رہے ! ثمرہ یہ ہواکہ ایک جماعت ایسی تیار ہوگئی :
(١) جو خدا شناس اور سچی خدا پرست تھی !
(٢) جو سب کو چھوڑ کر اپنا رشتہ خدا سے جوڑ چکی تھی !
(٣) جس کا پورا بھروسہ اپنے خالق اور مالک پر تھا !
١ سُورة الشوریٰ : ٤٠ ٢ سُورة الزمر : ٢٢ ٣ سورة حٰم سجدہ : ٣٤
(٤) جس کا دل ہر ایک طمع سے پاک اور صرف اپنے خالق کی محبت سے لبریز تھا !
(٥) جس کے دل پر صرف خالق ِ کائنات کی عظمت کا سکہ تھا اُسی کا خوف اس کے قلب و جگر کا داغ تھا جس نے خوفِ خدا کے سوا ہر ایک خوف و خطر کے دھبے کو مٹادیا تھا !
(٦) جس کو خالق کی ہر ایک مخلوق سے محبت تھی ! کیونکہ وہ اس کے رب کی پالی ہوئی مخلوق ہے ! ہر ایک انسان کا درد اُس کے دل میں تھا ! کیونکہ یہ انسان اس خدا کی قدرت کا شاہکار تھا جس سے اس کو عشق ہوگیا تھا اور جس کے لیے یہ سب کچھ قربان کردینے کو زندگی کا نصب العین اور دل کی آخری آرزو بناچکا تھا ! اس(مقدس) جماعت کو اِن (درجِ ذیل اوصاف کے حامل افراد )سے نفرت ہوگئی !
(الف) جن کے دل اپنے خالق اور رب کی عظمت اور اُس کی مخلوق کے درد سے نا آشنا تھے !
(ب) جو خدا کو چھوڑ کر اپنی اغراض کی پوجا میں لگے ہوئے تھے !
(ج) جن کو مال اور اولاد پر ناز تھا اور ان ہی کی ترقی ان کی زندگی کا محبوب نصب العین تھا !
(د) جن کو غریبوں سے نفرت تھی کیونکہ وہ دولت سے محروم ہوتے تھے !
(ہ) جو یتیموں اور بیواؤں کو اپنے پاس نہیں آنے دیتے تھے کہ اِن کی امداد کرنے سے انہیں کوئی دلچسپی نہیں تھی ان سے کہیں زیادہ انہیں اپنی تجوریوں سے محبت تھی !
(و) کمزوروں کی کمزوری سے فائدہ اُٹھانا، مخلوقِ خدا کو غلام اور غلاموں کی زندگی کو اپنی خواہشات کا کھلونا بنانا ان کی عظمت وبرتری کا نشان تھا جس کو وہ کسی وقت بھی مٹانا یا نیچا کرنا نہیں چاہتے تھے خواہ ان (کمزوروں)کی جان جاتی رہے ! !
مقامی اور سماجی حالات اور ردِ عمل :
(١) عرب میں بادشاہت نہیں تھی ہر ایک قبیلہ آزاد ہوتا تھا ! شیخِ قبیلہ اندرونی نظام کا نگران ہوتا تھا ! مکہ میں اس نظام نے چھوٹی سی جمہوریہ کی صورت اختیار کر لی تھی ! صدر جمہوریہ تو پھر بھی کوئی نہیں تھا ! البتہ قبائل کی ایک مشترک جماعت تھی ١ اس نے شہری، سماجی اور انتظامی ضرورتوں کو سامنے رکھ کر
١ کونسل (چCOUNCIL)
تقریبًا ایک درجن شعبے (پورٹ فولیو) بنائے تھے ١ اور ہر شعبہ کا سربراہ منتخب کردیا تھا !
مثلاً مقدمات قتل کا ایک خاص شعبہ تھا اس کے سربراہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے !
شعبہ سفارت کے ذمہ دار حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ تھے !
اسی طرح باقی شعبوں کے ذمہ دار علیحدہ علیحدہ تھے، ان میں سے صرف ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ وہ تھے جو سب سے پہلے اسلام لاچکے تھے ! عمر ِ فاروق رضی اللہ عنہ کئی سال بعد مسلمان ہوئے ! باقی شعبوں کے ذمہ دار یا مسلمان ہی نہیں ہوئے یا اگر مسلمان ہوئے تو بہت آخر میں !
اس مشترک جماعت کے اجلاس ہوا کرتے تھے اس مقام کا نام 'دارُ النَّدوةتھا جہاں یہ اجلاس ہوا کرتے تھے ! کوئی غیر معمولی معاملہ ہوتا تو اَراکین کے علاوہ بھی نمایاں افراد کو خاص طور پر مدعو کر لیا جاتا تھا
(٢) حرب بن اُمیة ، ولید بن مغیرة ، عاص بن وائل ، عُتبة بن ربیعة ، ابولہب ، ابوجہل، اُمیة بن خلف ، اُبی بن خلف ، عقبة بن ابی معیط ، نضر بن حارث ، اسود بن عبدِ یغوث
بڑے بڑے دولتمند تھے یہ تاجر بھی تھے، صاحب ِ جائیداد بھی، سودی کار وبار بھی بڑے پیمانہ پر کرتے تھے اور اُن تمام خصوصیتوں کے مالک تھے جو سرمایہ داروں میں ہواکرتی ہیں ! !
مثلاً ابو لہب جو آنحضرت ۖ کا چچا بھی تھا اور ہمیشہ مخالفت میں پیش پیش رہا اس کا سودی لین دین وسیع پیمانے پر تھا اور اس کے حرص وطمع کی یہ حالت تھی کہ اس نے خانہ کعبہ کے خزانہ سے سونے کا ہرن چوری کر کے بیچ ڈالا تھا، یہ ہرن بہت عرصہ سے محفوظ چلا آتا تھا ! ٢
عاص بن وائل بہت بڑا دولتمند، قبیلہ کا مشہور سردار تھا مگر حضرت خباب سے اس پر جھگڑا ہوا کہ انہوں نے لوہے کی کوئی چیز بناکر اس کو دی تھی وہ اس کی اُجرت مانگتے تھے اور یہ جان چراتا تھا ! ٣
اور یاد ہوگا یہی عاص بن وائل تھا جس نے یمن کے ایک تاجر کو مار پیٹ کر بھگا دیا تھا جب اُس نے اپنے دام مانگے ! جس سے تمام مکہ والوں کی بدنامی ہوئی ! اور جس کی بناپر وہ انجمن بنائی گئی تھی جس کا تذکرہ پہلے گزر چکا ہے !
١ PORTFOLIO ٢ معارف ابن قتیبة ٣ صحیح البخاری ص٣٠٤
قرآن شریف نے کسی کا نام نہیں لیا مگر اس کے اشارات سے معلوم ہوتا ہے کہ سماج اور معاشرہ کا اُونچا طبقہ جو مکہ پر چھایا ہوا تھا جو اِس لحاظ سے خوش نصیب مانا جاتا تھا کہ ان کے یہاں دولت کے انبار بھی ہوتے تھے اور فرمانبردار اولاد کی بھی کمی نہیں ہوتی تھی ! اس کے اخلاق اور اوصاف یہ تھے
(الف) اپنی اس خوش نصیبی پرکہ وہ صاحب ِمال اور صاحب ِ اولاد ہیں ان کو گھمنڈ اور غرور ہوتا تھا !
(ب) جو اِن سے کم ہوتے تھے ان کو حقیر سمجھتے اور طرح طرح کے طعنے دیتے تھے !
(ج) اپنے اثرورسوخ اور اقتدار کو قائم رکھنے کے لیے جھوٹی قسم کھانے سے ان کو عارنہ آتی تھی ! بلکہ بڑھ بڑھ کر قسمیں کھاتے، دوسروں کو لڑانے اور اپنے مخالفوں کو زک پہنچانے کے لیے بے دھڑک چغلیاں اور طرح طرح کا شرارت آمیز پرو پیگنڈہ کرتے تھے ! ١
(د) کمزوروں پر ظلم کرناان کی عادت تھی !
(ہ) نرم مزاجی اور اخلاق سے نا آشنا تھے ! نیک کام نہ کرتے نہ دوسروں کو کرنے دیتے !
(و) غریبوں کی اِمداد کا کوئی موقع ہوتا تو اس میں روڑے اَٹکاتے ! نہ خود خرچ کرتے نہ دوسروں کو خرچ کرنے دیتے !
(ز) اخلاق سے نا آشنا،سخت دل، خشک مزاج طبیعت کے روکھے ! ٢
(ح) رات دن تجوری بھرنے کی کوشش میں مصروف رہتے ! اس تصور سے نا آشنا تھے کہ یہ دولت ختم ہونے والی بھی ہے ! ٣
(ط) خدا سے بے تعلق، خدا پرستی سے بیگانہ، کج بحث، زبان زوری سے اپنے عیبوں کو چھپانے والے ! ٤
یہی لوگ تھے جو پورے مکہ پر چھائے ہوئے تھے اور چونکہ مکہ ہر لحاظ سے پورے عرب کا مرکز تھا تو اِن کے اثرات پورے عرب پر غالب تھے !

١ سُورة القلم : ٨ تا ١٥ ٢ ایضًا ٣ سُورة الہمزة : ٢ ٤ سُورة المدثر : ١٦ تا ٢٥ و ٤٥ و ٤٦ و سُورة المطففین : ٢ ، ٣ و ١٢ ، ١٣ و سُورة العلق : ٦ ، ٧
ایک شخص جس نے بچپن، جوانی اور ادھیڑ عمر کا ایک حصہ شہر کی گھلی ملی زندگی میں اس طرح گزار ہو کہ وہ لوگوں کی آنکھ کا تارا بنا رہا ہو ! اس کی زندگی میں خاص طرح کی تبدیلی آئے ! اس کے کچھ ساتھی ہوجائیں ! ان میں وہ بھی ہوں جو شہری زندگی میں اُونچا درجہ رکھتے ہوں ١ کچھ مالدار گھرانوں کے نو جوان ہوں ٢ اور یہ سب ایک خاص قسم کی انقلاب انگیز زندگی بنانے لگیں ! !
مان لیجیے یہ کسی کو اپنی طرف نہیں بلاتے مگرکیا خود ان کا عمل اور غیر معمولی انداز لوگوں کو متوجہ نہیں کرے گا ! ؟ خصوصًا وہ بڑے لوگ جو اپنے اقتدار کو سنبھالنے کے لیے ہر خطرہ کے موقع پر خوردبین سے کام لیتے ہیں کیا وہ ان کے طرزِ زندگی سے ہرا ساں اور چوکنے نہیں ہوں گے ؟ !
اور کیا یہ بات ان کو سرا سیمہ اور پریشان نہ کردے گی کہ یہ جماعت جس طرح شرک اور بت پرستی کے خلاف توحید کی قائل اور خدا پرستی کی عاشق ہے وہ سر مایہ دارانہ نظامِ حیا ت سے بھی اتنی ہی متنفر ہے اور جذبات ِ نفرت کی پرورش کر رہی ہے ! ! ؟
(٥) ردِ عمل :
یہ قدرتی بات تھی کہ سردارانِ قریش نے جیسے ہی اس چھوٹی سی جماعت کے انداز سے خطرات کو بھانپا، مخالفت شروع کردی ! مگر جس طرح دعوت عام نہیں تھی مخالفت بھی عام نہیں تھی ! نجی مجلسوں میں تبصرے ہوتے بیشک پھیلنے والے اثرات کو زائل کیا جاتا اور مخالفانہ رائے پختہ کی جاتی تھی مگر گفتگو اور تبادلۂ خیالات کے ذریعہ مثلاً
سب سے پہلے قرآنِ پاک کی معجزانہ فصاحت و بلاغت تھی جو ہر ایک صاحب ِ ذوق کو متاثر کردیتی تھی ! اور جب کوئی صاحب ِفکر معنی اور مقصد پر غور کرتا تو حیران رہ جاتااور بسا اوقات وارفتہ ہوجاتا تھا ! یہ وارفتگی گرویدگی کی حدتک پہنچتی تھی جو اس کو سب سے چھوڑا کر حضرت محمد ۖ سے وابستہ کردیتی تھی ! جو حضرات اب تک مسلمان ہوچکے تھے اگرچہ اُن کی تعداد تھوڑی تھی مگر وہ قرآنِ پاک کی اس تاثیر کی
بہترین مثال اور نمونہ تھے ! قرآنِ پاک کی اس تاثیر کو معاذ اللہ جادُو کہا جاتا تھا کہ یہ منتر ہے جوکسی طرح
١ جیسے صدیق ِاکبر رضی اللہ عنہ ٢ جیسے حضرت عثمان بن عفان، عبدالرحمن بن عوف ،مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہم
محمد ( ۖ ) کو ہاتھ لگ گیا ہے وہ اِس منتر سے متاثر کرتا رہتا ہے ! ! ١
ان آیتوں اور سورتوں میں جن عقائد اور نظریات کی تلقین ہے جب ان پر بحث ہوتی تو بڑے لوگوں کا چلتا ہوا جواب یہ ہوتا تھا
'پرانے زمانہ کی دقیانوسی باتیں ہیں اب زمانہ بدل گیا ہے ، اب یہ باتیں نہیں چل سکتیں ' ٢
جب خدا پرستی اور توحید کا ذکر ہوتا تو جواب دیا جاتا :
' اپنے باپ دادوں کے مذہب سے ہٹ کر گمراہ ہو رہے ہیں' ٣
جب ان کی شب وروز کی عبادت اور غیر معمولی شب بیداری کا تذکرہ ہوتا تو رؤسائِ قریش کی مجلسوں میں تبصرہ یہ کیا جاتا : دیوانے ہوگئے ہیں ! ! !
لیکن ظاہر ہے اس طرح کے جوابات وقتی طور پر کام کرسکتے ہیں واقعی اور حقیقی اثرات کو زائل اور سوال کرنے والوں کو مطمئن نہیں کرسکتے ! تو اَب ان لوگوں نے یہ چاہا کہ اس سے پہلے کہ محمد ( ۖ) کے اثرات متعدی ہوں، ان سے کوئی سمجھوتہ ہوجائے چنانچہ سردارانِ قریش کا ایک وفد آنحضرت ۖ کی خدمت میں حاضرا ہوا ارکانِ وفد پر ایک نظر ڈال لیجیے :
(١) ولید بن مغیرة : مکہ کا رئیس ِاعظم جو دولتمندی اور خوشحالی کی تمام عظمتیں اپنے اندر رکھتا تھا ! اسی وجہ سے اس کو 'وحید' کہا جاتا تھا ! ٤
(٢) ابوجہل : سب سے زیادہ ہوشیار اور چالاک سردار !
(٣) اسود بِن عبدِ یغوث : مکہ کا بہت بڑا تاجر اور رئیس !
(٤) اَخنس بن شریق : طائف کا سب سے بڑا سردار اور رئیس !
١ سُورة المدثر : ٢٤ تنبیہ : سورۂ مدثر اور سورۂ قلم کی تمام آیتیںاگرچہ ایک ہی دفعہ میں نازل نہیں ہوئیں کچھ پہلے نازل ہوئیں کچھ تھوڑے وقفہ کے بعد مگر بہرحال تمام آیتیں نبوت کے ابتدائی دور میں ہی نازل ہوئیں !
٢ سُورة القلم : ١٥ ٣ ایضًا : ٧ ٤ ایضًا ٦ ، سورۂ مدثر کی آیت ١١ ( وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِیْدًا ) کے تحت حضرات مفسرین نے اس کی تصریح فرمائی ہے۔
وفد نے آپ کے سامنے تین صورتیں پیش کیں :
(١) اگر دماغی خلش ہے تو اجازت دیجیے ہم بہترین علاج کا انتظام کریں ! ! ؟
(٢) اگر عیش و عشرت مقصود ہے تو ہم دولت اور حسن دونوں فراہم کر سکتے ہیں ! ! ؟
(٣) اگر اقتدار مطلوب ہے تو مکہ کے اقتدار کی باگ ڈور آپ کے حوالے کرتے ہیں مگر آپ اپنے انداز کو ہلکا کیجئے ! آپ کے نظریات جو سننے میں آرہے ہیں نہایت سخت ہیں، وہ ہیجان برپا کردیں گے ! مگر وحی الٰہی نے اسی طرح کی پیشکشوں کی شدت سے تردید کر دی ! ! ! ١
(ماخوذ اَز سیرت ِ مبارکہ ص ٢٣٦ تا ٢٤٦)




جامعہ مدنیہ جدید کے فوری توجہ طلب ترجیحی اُمور
(١) مسجد حامد کی تکمیل
(٢) طلباء کے لیے دارُالاقامہ (ہوسٹل) اور دَرسگاہیں
(٣) کتب خانہ اور کتابیں
(٤) پانی کی ٹنکی
ثواب جاریہ کے لیے سبقت لینے والوں کے لیے زیادہ اجر ہے ۔ (اِدارہ)
١ تفسیر عزیزی ، متعلق سورہ قلم آیت ٩
قسط : ٧
رحمن کے خاص بندے
( حضرت مولانا مفتی سید محمد سلمان صاحب منصور پوری، اُستاذ الحدیث دارالعلوم دیوبند )
ض ض ض
قرآن و حدیث میں جہنم کی منظر کشی :
قرآنِ کریم میں جگہ جگہ جہنم کے ہولناک عذاب کو ذکر کر کے اس سے ڈریا گیا ہے جس کے تصور ہی سے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اس سلسلہ کی بعض آیات ذیل میں درج کی جاتی ہیں :
٭ جہنم کی آگ کو دہکانے کے لیے ایندھن کے طور پر انسان اور پتھر استعمال ہوں گے !
( وَقُوْدُھَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ ) ١
٭ اہلِ جہنم کی کھال جب آگ سے جل جائے گی تو فورًا دوسری نئی کھال ان پر چڑھادی جائے گی (تاکہ برابر شدید تکلیف کا احساس ہوتا رہے) !
(کُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُوْدُھُمْ بَدَّلْنٰھُمْ جُلُوْدًا غَیْرَھَا لِیَذُوْقُوا الْعَذَابَ) ٢
٭ آگ ہی جہنمیوں کا اوڑھنا بچھونا ہوگی! ( لَھُمْ مِّنْ جَھَنَّمَ مِھَاد وَّمِنْ فَوْقِھِمْ غَوَاشٍ ) ٣
٭ جہنمیوں کو (پانی کے بجائے سڑا ہوا) پیپ پلایا جائے گا جسے انہیں نہ چاہتے ہوئے بھی زبردستی پینا پڑے گا ! ( یُسْقٰی مِنْ مَّائٍ صَدِیْدٍ یَّتَجَرَّعُہ وَلَا یَکَادُ یُسِیْغُہ ) ٤
٭ جہنمیوں کا لباس گندھک کا ہوگا (جس میں آگ جلدی لگتی ہے) اور آگ ان کے چہروں کو جھلسار ہی ہوگی ! ( سَرَابِیْلُھُمْ مِّنْ قَطِرَانٍ وَّتَغْشٰی وَجُوْھَھُمُ النَّارُ) ٥
١ سُورة البقرة : ٢٤ ٢ سُورة النساء : ٥٦ ٣ سُورة الاعراف : ٤١ ٤ سُورة ابراہیم : ١٦ ، ١٧
٥ سُورة ابراھیم : ٥٠
٭ جہنم میں جہنمیوں کی (شدتِ عذات سے) ایسی دھاڑاورچیخ و پکار ہوگی کہ کان پڑی آواز سنائی نہ دے گی ! ( فَاَمَّا الَّذِیْ شَقُوْا فَفِی النَّارِ لَھُمْ فِیْھَا زَفِیْر وَّشَھِیْق ) ١
٭ جہنمیوں کے سروں پر نہایت کھولتا ہوا پانی ڈالا جائے گا وہ پانی جب بدن کے اندر پہنچے گا تو پیٹ کی انتڑی اور اَو جھڑی سب گلاکر نکال دے گا ! اور کھال بھی گل پڑے گی ! اور اوپر سے لوہے کے ہتھوڑوں سے پٹائی ہوتی رہے گی ! بہت کوشش کریں گے کہ کسی طرح جہنم سے نکل بھاگیں، مگر پھر انہیں جہنم میں دھکیلا جاتا رہے گا اور کہا جائے گا کہ جلنے کا عذاب چکھتے رہو !
( یُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُئُ وْسِھِمُ الْحَمِیْمُ یُصْھَرُ بِہ مَافِیْ بُطُوْنِھِمْ وَاْلجُلُوْدُ وَلَھُمْ مَقَامِعُ مِنْ حَدِیْدٍ کُلَّمَا اَرَدُوْا اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنْھَا مِنْ غَمِّ اُعِیْدُوْا فِیْھَا وَذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ ) ٢
ہر طرف سے آگ میں جلنے کی وجہ سے جہنمیوں کی صورتیں بگڑ جائیں گی ! ( تَلْْفَحُ وُجُوْھَھُمُ النَّارُ وَھُمْ فِیْھَاکٰلِحُوْنَ) ٣
جہنمیوں کو سینڈھے (زقوم) کا درخت کھلایا جائے گا جو جہنم کی پیداوار ہوگا ! جو شیطان نما نہایت بدصورت ہوگا، اسی کو کھاکر جہنمی پیٹ بھریں گے اور اُوپر سے جب پیاس لگے گی تو سخت ترین کھولتاہوا پانی پلایا جائے گا !
(اَذٰلِکَ خَیْر نُّزُلًا اَمْ شَجَرَةُ الزَّقُّوْمِ اِنَّا جَعَلْنٰھَا فِتْنَةً لِّلظَّالِمِیْنَ اِنَّھَا شَجَرَة تَخْرُجُ فِیْ اَصْلِ الْجَحِیْمِ طَلْعُھَا کَاَنَّہ رُئُ وْ سُ الشَّیٰطِیْنِ فَاِ نَّھُمْ لَاٰکِلُونَ مِنْھَا فَمَالِئُوْنَ مِنْھَا الْبُطُوْنَ ثُمَّ اِنَّ لَھُمْ عَلَیْھَا لَشَوْبًا مِّنْ حَمِیْمٍ) ٤
جہنمیوں کی گردن میں طوق پڑے ہوں گے اور پیروں میں بیڑیاں پڑی ہوں گی اور (مجرموں کی طرح) انہیں گھسیٹ کر کھولتے پانی میں ڈال دیا جائے گا، پھر آگ میں دھو نکایا جائے گا !
( اِذِ الْاَغْلَالُ فِیْ اَعْنَاقِھِمْ وَالسَّلَاسِلُ یُسْحَبُوْنَ فِی الْحَمِیْمِ ثُمَّ فِی النَّارِ یُسْجَرُوْنَ) ٥
١ سُورة ھُود : ١٠٦ و سُورة الانبیاء : ١٠٠ ٢ سُورة الحج : ١٩ تا ٢٢ ٣ سُورة المؤمنون : ١٠٤
٤ سُورة الصّٰفٰت : ٦٢ تا ٦٧ و سُورة الدخان : ٤٣ تا ٤٨ ٥ سُورة الغافر : ٧١ ، ٧٢
کافروں کو ستر گز لمبی زنجیروں جکڑ کر جہنم میں لایا جائے گا !
( خُذُوْہُ فَغُلُّوْہُ ثُمَّ الْجَحِیْمَ صَلُّوْہُ ثُمَّ فِیْ سِلْسِلَةٍ ذَرْعُھَا سَبْعُوْنَ ذِرَاعًا فَاسْلُکُوْہُ ) ١
جہنم کے پہرے پر نہایت زبردست قوت والے اور سخت گیر فرشتے مقرر ہیں جو اللہ کے حکم کی تعمیل میں ذرّہ برابر کوتاہی نہیں کرتے (یعنی نہ وہ جہنمی پر رحم کھائیں گے اور نہ انہیں چکمہ دے کر کوئی جہنم سے نکل سکے گا) ! ( عَلَیْھَا مَلٰئِکَة غِلَاظ شِدَاد لَّا یَعْصُوْنَ اللّٰہَ مَآ اَمَرَھُمْ وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ ) ٢
اس کے علاوہ بھی قرآنِ کریم کی بہت سی آیات میں عذاب کی تفصیلات مذکورہ ہیں جن سے جہنم کی وحشت ناکی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ! اَللّٰھُمَّ احْفَظْنَا مِنْہُ



جامعہ مدنیہ جدید کی ڈاکومنٹری
DOCUMENTARY OF JAMIA MADNIA JADEED
جامعہ مدنیہ جدید کی صرف آٹھ منٹ پر مشتمل مختصر مگر جامع ڈاکومنٹری تیار کی جاچکی ہے جس میں جامعہ کا مختصر تعارف اور ترقیاتی و تعمیراتی منصوبہ جات دکھائے گئے ہیں جس کا لنک درج ذیل ہے قارئین کرام ملاحظہ فرمائیں :


١ سُورة الحاقة : ٣٠ ، ٣١ ٢ سُورة التحریم : ٦
عذاب ِقبر اَحادیث کی روشنی میں
( حضرت مولانا نعیم الدین صاحب ،اُستاذ الحدیث جامعہ مدنیہ لاہور )

تمام اہلِ سنت والجماعت کا مُسَلَّمہ اور اجماعی عقیدہ ہے کہ انسان کے مرنے کے بعد قبر میں اُس کی روح کا اُس کے جسم سے تعلق قائم کیا جاتا ہے جس کی وجہسے اُسے ایک قسم کی حیات حاصل ہوتی ہے اور وہ احساس و ادراک کرنے لگتا ہے پھر اُس سے سوال وجواب ہوتا ہے اور اگر وہ مسلمان اور نیک ہو تو اُسے ثواب ملتا ہے اور اگر کافر یا گنہگار ہو تو اُسے عذاب سے دو چار ہونا پڑتا ہے ! !
عذاب وثواب کے لیے ضروری نہیں کہ مرنے والے کا جسم صحیح وسالم ہو اور وہ قبر ہی میں ہو بلکہ اگر کوئی جل کر راکھ ہو جائے یا اُسے درندے وغیرہ کھالیں اور اُسے ظاہری قبرنہ ملے تب بھی اُسے ثواب یا عذاب ہوتا ہے ! اﷲ تعالیٰ اُس کے ذرّات سے اُس کی روح کا تعلق قائم فرما دیتے ہیں جس سے اُنہیں ثواب یا عذاب کا اِدراک واحساس ہوتا ہے ! ! !
عذاب وثواب ِقبر قرآنِ کریم کی متعدد آیات ، احادیثِ متواترہ اور اجماعِ اُمت سے ثابت ہے، اس کا انکار کرنے سے کفر لازم آتا ہے ! ذیل میں چند احادیث ِمبارکہ پیش کی جارہی ہیں جن میں بڑی صراحت کے ساتھ عذاب وثواب ِقبر کا تذکرہ آیا ہے۔
عَنْ عَائِشَةَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا اَنَّ یَھُوْدِیَّةً دَخَلَتْ عَلَیْھَا فَذَکَرَتْ عَذَابَ الْقَبْرِ فَقَالَتْ لَھَا اَعَاذَکِ اللّٰہُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ فَسَأَلَتْ عَائِشَةُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ۖ عَنْ عَذَابِ الْقَبْرِ فَقَالَ نَعَمْ عَذَابُ الْقَبْرِ حَقّ قَالَتْ عَائِشَةُ فَمَا رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ۖ بَعْدُ صَلّٰی صَلٰوةً اِلاَّ تَعَوَّذَ بِاللّٰہِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ۔ ١
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک یہودی عورت اُن کے پاس آئی اور عذاب ِ قبر کا تذکرہ کرکے انہیں یہ دُعا دینے لگی کہ اللہ تمہیں عذابِ قبر سے بچائے
١ مشکٰوة المصابیح کتاب الایمان باب اثبات عذاب القبر رقم الحدیث ١٢٨
حضرت عائشہ نے رسولِ اکرم ۖ سے عذاب ِ قبر کے بارے میں پوچھا، آپ نے فرمایا ہاں عذاب ِ قبر حق ہے۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ اس کے بعد میں نے رسول اللہ ۖ کو نہیں دیکھا کہ آپ نے کوئی نماز پڑھی ہو اور اللہ تعالیٰ سے عذاب ِقبر سے پناہ طلب نہ کی ہو'
عَنْ اَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ۖ اِنَّ الْعَبْدَ اِذَا وُضِعَ فِیْ قَبْرِہ وَتَوَلّٰی عَنْہُ اَصْحَابُہ اِنَّہ لَیَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِھِمْ اَتَاہ مَلَکَانِ فَیُقْعِدَانِہ فَیَقُوْلَانِ مَاکُنْتَ تَقُوْلُ فِیْ ھٰذَا الرَّجُلِ لِمُحَمَّدٍ ؟ فَاَمَّا الْمُؤْمِنُ فَیَقُوْلُ اَشْھَدُ اَنَّہ عَبْدُ اللّٰہِ وَرَسُوْلُہ فَیُقَالُ لَہُ اُنْظُرْ اِلٰی مَقْعَدِکَ مِنَ النَّاِر قَدْ اَبَدَلَکَ اللّٰہُ بِہ مَقْعَدًا مِّنَ الْجَنَّةِ فَیَرَاھُمَا جَمِیْعًا وَاَمَّا الْمُنَافِقُ وَالْکَافِرُ فَیُقَالُ لَہ مَاکُنْتَ تَقُوْلُ فِیْ ھٰذَا الرَّجُلِ فَیَقُوْلُ لَا اَدْرِیْ کُنْتُ اَقُوْلُ مَایَقُوْلُ النَّاسُ فَیُقَالُ لَہ لَا دَرَیْتَ لَا تَلَیْتَ وَیُضْرَبُ بِمَطَارِقَ مِنْ حَدِیْدٍ ضَرْبَةً فَیَصِیْحُ صَیْحَةً یَّسْمَعُھَا مَنْ یَّلِیْہِ غَیْرُ الثَّقَلَیْنِ۔ ١
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسولِ اکرم ۖ نے فرمایا : (مرنے کے بعد) بندہ جب اپنی قبر میں رکھ دیا جاتا ہے اور اُس کے ساتھی (یعنی اُس کے جنازہ کے ساتھ آنے والے) چل دیتے ہیں (اور اَبھی وہ اتنے قریب ہوتے ہیں کہ) اُن کی جوتیوں کی چاپ وہ سن رہا ہوتا ہے تو اُسی وقت اُس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں وہ اِس کو بٹھاتے ہیں پھر اِس سے پوچھتے ہیں کہ تم اِن صاحب کے بارے میں کیا کہتے تھے ؟ اُن کا یہ سوال حضرت محمد ۖ کے متعلق ہوتا ہے پس جو سچا مومن ہوتا ہے وہ کہتا ہے میں( گواہی دیتا رہا ہوں اور اب بھی) گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے بندے اور اُس کے رسولِ برحق ہیں ! (یہ جواب سن کر) فرشتے اُس سے کہتے ہیں کہ (ایمان نہ لانے کی صورت میں) دوزخ میں جو تمہاری
١ مشکٰوة المصابیح کتاب الایمان باب اثبات عذاب القبر رقم الحدیث ١٢٦
جگہ ہونے والی تھی ذرا اُس کو دیکھ لو ! اب اللہ نے بجائے اُس کے تمہارے لیے جنت میں ایک جگہ عطا فرمائی ہے اور (وہ یہ ہے) اِس کو بھی دیکھ لو (یعنی دوزخ اور جنت دونوں مقام اُس کے سامنے کردیے جاتے ہیں) چنانچہ وہ دونوں کو ایک ساتھ دیکھتا ہے ! اور جو منافق اور کافر ہوتا ہے تو اِسی طرح (مرنے کے بعد) اُس سے بھی (رسول اکرمۖ کے متعلق ) پوچھا جاتا ہے کہ اِن صاحب کے بارے میں تم کیا کہتے تھے ؟ پس و ہ منافق اور کافر کہتا ہے کہ میں اِن کے بارے میں خود تو کچھ نہیں جانتا، دوسرے لوگ جو کہا کرتے تھے وہی میں بھی کہتا تھا (اُس کے اِس جواب پر) اُس کو کہا جاتا ہے کہ تونے نہ تو خود جانا اور نہ (جان کر ایمان لانے والوں کی) تونے پیروی کی ،اور لوہے کے گرزوں سے اُس کو مارا جاتاہے جس سے وہ اِس طرح چیختاہے کہ جن و اِنس کے علاوہ اُس کے آس پاس کی ہر چیز اُس کا چیخنا سنتی ہے'
عَنْ اَبِیْ ھُرِیْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَا اُقْبِرَ الْمَیِّتُ اَتَاہُ مَلَکَانِ اَسْوَدَانِ اَزْرَقَانِ یُقَالُ لِاَحَدِھِمَا الْمُنْکَرُ وَلِلْآخِرِ النَّکِیْرُ فَیَقُوْلَانِ مَاکُنْتَ تَقُوْلُ فِیْ ھٰذَا الرَّجُلِ فَیَقُوْلُ ھُوَ عَبْدُ اللّٰہِ وَرَسُوْلُہ اَشْھَدُ اَنْ لاَّ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہ وَرَسُوْلُہ فَاِنْ کَانَ مُؤْمِنًا فَیَقُوْلَانِ قَدْ کُنَّا نَعْلَمُ اَنَّکَ تَقُوْلُ ھٰذَا ثُمَّ یُفْسَحُ لَہ فِیْ قَبْرِہ سَبْعُوْنَ زِرَاعًا فِیْ سَبْعِیْنَ ثُمَّ یُنَوَّرُ لَہ فِیْہِِ ثُمَّ یُقَالُ لَہ نَمْ فَیَقُوْلُ اَرْجِعُ اِلٰی اَھْلِیْ فَاُخْبِرُھُمْ فَیَقُوْ لاَنِ نَمْ کَنَوْ مَةِ الْعَرُوْسِ الَّذِیْ لاَیُوْ قِظُہ اِلَّا اَحَبُّ اَھْلِہ اِلَیْہِ حَتّٰی یَبْعَثَہُ اللّٰہُ مِنْ مَّضْجَعِہ ذَالِکَ، وَاِنْ کَانَ مُنَافِقًا قَالَ سَمِعْتُ النَّاسَ یَقُوْ لُوْنَ قَوْلاً فَقُلْتُ مِثْلَہ لَا اَدْرِیْ فَیَقُوْلانِ قَدْ کُنَّا نَعْلَمُ اَنَّکَ تَقُوْلُ ذَالِکَ فَیُقَالُ لِلْاَرْضِ اِلْتَئِمِیْ عَلَیْہِ فَتَلْتَئِمُ عَلَیْہِ فَتَخْتَلِفُ اَضْلَاعُہ فَلاَ یَزَالُ فِیْھَا مُعَذَّ بًا حَتّٰی یَبْعَثَہُ اﷲُ مِن مَّضْجَعِہ ذَالِکَ ۔ ١
١ مشکٰوة المصابیح کتاب الایمان باب اثبات عذاب القبر رقم الحدیث ١٣٠
'حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسولِ اکرم ۖ نے فرمایا : جب میت کو قبر میں لٹا دیا جاتا ہے تو اُس کے پاس دو کالے کیری آنکھوں والے فرشتے آجاتے ہیں جن میں سے ایک کو' مُنْکَر' اور دوسرے کو' نکیر' کہا جاتا ہے وہ دونوں اُس سے پوچھتے ہیں کہ تو اِن صاحب (حضرت محمدۖ) کی نسبت کیا کہتا تھا ؟ اگر وہ مؤمن ہوتا ہے تو کہتا ہے کہ وہ اﷲ کے بندے اور اُس کے رسول ہیں،میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اورمحمد ۖ اللہ کے بندے اور اُس کے رسول ہیں (یہ سن کر) وہ دونوں فرشتے کہتے ہیں ہم جانتے تھے کہ تو یقیناً یہی کہے گا، اِس کے بعد اُس کی قبر لمبائی اور چوڑائی میں ستر ستر گز کشادہ کردی جاتی ہے ! اوراُس کے لیے قبر میں روشنی کردی جاتی ہے پھر اُس سے کہا جاتا ہے کہ سوجا، وہ کہتا ہے (میں چاہتا ہوں) کہ اپنے اہل وعیال میں واپس چلا جائوں تاکہ اُن کو اپنے اِس حال سے باخبر کردوں ! فرشتے اُس سے کہتے ہیں تو اُس دلہن کی طرح سو جا جس کو صرف وہی شخص جگاتا ہے جو اُسے سب سے زیادہ محبوب ہو یہاںتک کہ اﷲ تعالیٰ اُسے اُس جگہ سے اُٹھائیں ۔
اور اگر مرنے والا منافق ہوتاہے تو فرشتے کے جواب میں کہتا ہے کہ میں نے لوگوں کوجو کچھ کہتے سنا تھا وہی میں کہتا تھا لیکن میں (اس کی حقیقت کو) نہیں جانتا ! (منافق کا یہ جواب سن کر) فرشتے کہتے ہیں ہم جانتے تھے کہ یقینا تو یہی کہے گا، اس کے بعد زمین سے کہا جاتا ہے کہ اِس پر مل جا، چنانچہ زمین اُس پر مل جاتی ہے اور اُس مردہ کو اِس طرح دباتی ہے کہ اُس کی دائیں پسلیاں بائیں اور بائیں پسلیاں دائیں نکل آتی ہیں وہ اِسی طرح عذاب میں مبتلا رہتا ہے یہاںتک کہ اﷲ تعالیٰ اُسے اُس جگہ سے اُٹھائیں'
عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ یَأْتِیْہِ مَلَکَانِ فِیُجْلِسَانِہ فَیَقُوْلَانِ لَہ مَنْ رَبُّکَ؟ فَیَقُوْلُ رَبِّیَ اللّٰہُ فَیَقُوْلَانِ لَہ مَادِیْنُکَ؟ فَیَقُوْلُ دِیْنِیَ الْاِسْلَامُ فَیَقُوْلَانِ مَا ھٰذَا الرَّجُلُ الَّذِیْ بُعِثَ فِیْکُمْ فَیَقُوْلُ ھُوَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَیَقُوْلانِ لَہ وَمَا یُدْ رِیْکَ فَیَقُوْلُ قَرَأْتُ کِتَابَ اللّٰہِ فَآمَنْتُ بِہ وَصَدَّقْتُ فَذَالِکَ قَوْلُہ یُثَبِّتُ اللّٰہُ الَّذِیْنَ آمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ اَلْآیة، قَالَ فَیُنَادِیْ مُنَادٍ مِّنَ السَّمَائِ اَنْ صَدَقَ عَبْدِیْ فَاَفْرِشُوْہُ مِنَ الْجَنَّةِ وَاَلْبِسُوْہُ مِنَ الْجَنَّةِ وَا فْتَحُوْا لَہ بَابًا اِلَی الْجَنَّةِ فَیُفْتَحُ وقَالَ فَیَأْتِیْہِ مِنْ رَوْحِھَا وَطِیْبِھَا وَیُفْسَحُ لَہ فِیْھَا مُدَّ بَصَرِہ وَاَمَّا الْکَا فِرُ فَذَکَرَ مَوْتَہ قَالَ وَیُعَادُ رُوْحُہ فِیْ جَسَدہ وَیَاْتِیْہِ مَلَکَانِ فَیُجْلِسَانِہ فَیَقُوْلَانِ مَنْ رَّبُّکَ فَیَقُوْلُ ھَاہْ ھَاہْ لَا اَدْرِیْ فَیَقُوْلَانِ لَہ مَادِیْنُکَ فَیَقُوْلُ ھَاہْ ھَاہْ لَا اَدْرِیْ فَیَقُوْلَانِ مَا ھٰذَا الرَّجُلُ الَّذِیْ بُعِثَ فِیْکُمْ فَیَقُوْلُ ھَاہْ ھَاہْ لَا اَدْرِیْ فَیُنَادِ یْ مُنَادٍ مِّنَ السَّمَائِ اَنْ کَذَبَ فَاَفْرِشُوْہُ مِنَ النَّارِ وَالْبِسُوْہُ مِنَ النَّارِ وَافْتَحُوْا لَہ بَابًا اِلَی النَّارِ قَالَ فَیَاْتِیْہ مِنْ حَرِّھَا وَسَمُوْمِھَا قَالَ وَیُضَیَّقُ عَلَیْہِ قَبْرُہ حَتّٰی تَخْتَلِفَ فِیْہِ اَضْلَا عُہ ثُمَّ یُقَیَّضُ لَہ اَعْمٰی اَصَمُّ مَعَہ مِرْزَ بَة مِّنْ حَدِیْدٍ لَوْ ضُرِبَ بِھَا جَبَل لَصَارَ تُرَابًا فَیَضْرِبُہ بِھَا ضَرْبَةً یَسْمَعُھَا مَا بَیْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ اِلاَّ الثَّقَلَیْنِ فَیَصِیْرُ تُرَابًا ثُمَّ یُعَادُ فِیْہِ الرُّوْحُ ۔ ١
'حضرت براء بن عازب رضی اﷲ عنہما رسول اکرم ۖ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: قبر میں مردہ کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اور اُسے بٹھا کر اُس سے پوچھتے ہیںکہ تیرا رب کون ہے ؟ وہ جواب دیتا ہے کہ میرا رب اﷲ ہے پھر فرشتے پوچھتے ہیں کہ تیرا دین کیا ہے ؟ وہ جواب میں کہتا ہے کہ میرا دین اسلام ہے ! پھر فرشتے اُس سے پوچھتے ہیںکہ جو صاحب (خدا کی طرف سے) تمہاری طرف پیغمبر بنا کر بھیجے گئے تھے وہ کون ہیں ؟ وہ کہتا ہے کہ وہ اﷲ کے رسول ہیں ۖ پھر فرشتے اس سے پوچھتے ہیں کہ یہ باتیں تجھے کیسے معلوم ہوئیں ؟ وہ کہتاہے
١ مشکٰوة المصابیح کتاب الایمان باب اثبات عذاب القبر رقم الحدیث ١٣١
میں نے اﷲ کی کتاب (قرآنِ پاک) کو پڑھا اور اُس پر ایمان لایا اور اُس کی تصدیق کی، آنحضرت ۖ فرماتے ہیںکہ یہی مطلب ہے اﷲ تعالیٰ کے اِس فرمان یُثَبِّتَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ آمَنُوْا باِلْقَوْلِ الثَّابِتِ کا یعنی اﷲ تعالیٰ ثابت قدم رکھتے ہیں اُن لوگوں کو جو قولِ ثابت پر ایمان لائے، حضور علیہ الصلٰوةو السلام فرماتے ہیں کہ آسمان سے ایک پکارنے والا پکار کر کہتا ہے کہ میرے بندے نے سچ کہا لہٰذا اِس کے لیے جنت کا فرش بچھائو اور اِسے جنت کی پوشاک پہنائو اور اس کے لیے جنت کی طرف ایک دروازہ کھول دو ! چنانچہ جنت کی طرف ایک دروازہ کھول دیا جاتا ہے رسول اللہ ۖ نے فرمایا (اس جنت کے دروازہ سے) اُس کے پاس جنت کی ہوائیں اور خوشبوئیں آتی ہیں اور تا حَدِّ نظر اُس کی قبر کو کشادہ کردیا جاتاہے ! ! !
اب رہا کافر تو آپۖ نے اُس کی موت کابھی تذکرہ کیا اور فرمایااُس کی روح اُس کے جسم میں ڈالی جاتی ہے اور اُس کے پاس بھی دو فرشتے آتے ہیں جو اُسے بٹھا کر اُس سے پوچھتے ہیں تیرا رب کون ہے ؟ وہ کہتاہے ھَاہْ ھَاہْ میں کچھ نہیں جانتا، پھر وہ پوچھتے ہیں تیرا دین کیا ہے ؟ وہ کہتاہے ھَاہْ ھَاہْ میں کچھ نہیں جانتا، پھر وہ پوچھتے ہیں یہ صاحب کون ہیں جوتمہاری طرف خدا کی طرف سے پیغمبر بنا کر بھیجے گئے تھے ؟ وہ کہتا ہے ھَاہْ ھَاہْ مجھے کچھ نہیں پتا، پھر آسمان سے ایک پکارنے والا پکار کر کہتا ہے، اِس نے جھوٹ کہا، اِس کے لیے آگ کا فرش بچھائو، آگ کا لباس اِسے پہنائو اور اِس کے لیے ایک دروزاہ دوزخ کی طرف کھول دو ! حضور علیہ السلام فرماتے ہیں دوزخ سے اِس کے پاس گرم ہوائیں اور لُوئیں آتی ہیں، فرمایا : اِس کی قبر اِس کے لیے تنگ کردی جاتی ہے یہاں تک کہ اِدھر کی پسلیاں اُدھر اور اُدھر کی پسلیاں اِدھر نکل آتی ہیں پھر اِس پر ایک اندھا بہرہ فرشتہ مسلط کردیا جاتا ہے جس کے پاس لوہے کا ایک ایسا گرز ہوتا ہے کہ اگر اِس کو پہاڑ پر مارا جائے تو وہ پہاڑ مٹی ہوجائے، وہ فرشتہ اُس کو اُس گرز سے اِس طرح مارتا ہے کہ (اُس کے چیخنے چلانے کی آواز) مشرق سے مغرب تک تمام مخلوق سنتی ہے سوائے جن واِنس کے، اِس مارنے سے وہ مردہ مٹی ہوجاتا ہے، اِس کے بعد پھر اُس کے اندر رُوح ڈالی جاتی ہے'
عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ بَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہ وَسَلَّمَ فِیْ حَائِطٍ لِبَنِی النَّجَّارِ عَلیٰ بَغْلَةٍ لَہ وَنَحْنُ مَعَہ اِذْ حَادَتْ بِہ فَکَادَتْ تُلْقِیْہِ وَاِذَا اَقْبُر سِتَّة اَوْ خَمْسَة فَقَالَ مَنْ یَّعْرِفُ اَصْحَابَ ھٰذِہِ الْاَقْبُرِ قَالَ رَجُلُ اَنَا۔ قَالَ فَمَتٰی مَاتُوْا قَالَ فِی الشِّرْکِ فَقَالَ اِنَّ ھٰذِہِ الْاُمَّةَ تُبْتَلیٰ فِیْ قُبُوْرِھَا فَلَوْلَا اَنْ لَا تَدَا فَنُوْا لَدَعَوْتُ اللّٰہَ اَنْ یُّسْمِعَکُمْ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ الَّذِیْ اَسْمَعُ مِنْہُ ثُمَّ اَقْبَلَ عَلَیْنَا بِوَجْھِہ فَقَالَ تَعَوَّذُوْا بِاللّٰہِ مِنْ عَذَابِ النَّارِ قَالُوْا نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ عَذَابِ النَّارِ قَالَ تَعَوَّذُوْا بِاللّٰہِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ قَالُوْا نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ قَالَ تَعَوَّذُوْا بِاللّٰہ مِنَ الْفِتَنِ مَا ظَھَرَ مِنْھَا وَمَا بَطَنَ قَالُوْا نَعُوْذُ بِا للّٰہِ مِنَ الْفِتَنِ ما ظَھَرَ مِنْھَا وَمَا بَطَنَ قَالَ تَعَوَّذُوْا بِاللّٰہِ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ قَالُوْانَعُوْذُ بِا للّٰہِ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ۔ ١
'حضرت زید بن ثابت رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں ایک روز جبکہ آنحضرت ۖ بنونجار کے باغ میں اپنے خچر پر سوار تھے اور ہم بھی آپ کے ساتھ تھے کہ اچانک خچر بدک گیا قریب تھا کہ آپ کو گرادے، ناگہاں پانچ چھ قبریں نظر آئیں آپ نے فرمایا اِن قبر والوں کو کوئی جانتا ہے ؟ ایک صاحب بولے میں جانتا ہوں، آپ نے پوچھا یہ کب مرے تھے ؟ اُن صاحب نے عرض کیا کہ یہ شرک کی حالت میں مرے تھے، آپ نے فرمایا: یہ اُمت اپنی قبروں میں آزمائی جاتی ہے (یعنی اِن لوگوں پر اِن کی قبروں میں عذاب ہورہا ہے) اگر مجھے یہ خوف نہ ہوتا کہ تم مردوں کو دفن کرنا چھوڑ دو گے تو میں ضرور اﷲ سے دعا کرتا کہ وہ تم کو بھی عذابِ قبر
١ مشکٰوة المصابیح کتاب الایمان باب اثبات عذاب القبر رقم الحدیث ١٢٩
کی آواز سنا دے جس کو میں سُن رہا ہوں، اس کے بعد آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا آگ کے عذاب سے پناہ مانگو ! صحابہ نے عرض کیا کہ ہم آگ کے عذاب سے خدا کی پناہ مانگتے ہیں ! پھر فرمایا قبر کے عذاب سے پناہ مانگو ! صحابہ نے عرض کیا ہم قبر کے عذاب سے خدا کی پناہ مانگتے ہیں ! پھر فرمایا ظاہری اور باطنی فتنوں سے پناہ مانگو ! صحابہ نے عرض کیاہم ظاہری اور باطنی فتنوں سے خدا کی پناہ مانگتے ہیں ! پھر فرمایا: دجال کے فتنہ سے پناہ مانگو ! صحابہ نے عرض کیا ہم دجال کے فتنہ سے خدا کی پناہ مانگتے ہیں ' !
عَنِ ابْنِِ عَبَّاسٍ قَالَ مَرَّ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِقَبْرَیْنِ فَقَالَ اِنَّھُمَا لَیُعَذَّبَانِ وَمَا یُعَذَّبَانِ فِیْ کَبِیْرٍ اَمَّا اَحَدُ ھُمَا فَکَانَ لَا یَسْتَتِرُ مِنَ الْبَوْلِ وَاَمَّا الْآخَرُ فَکَانَ یَمْشِیْ بِالنَّمِیْمَةِ، ثُمَّ اَخَذَ جَرِیْدَةً رَطْبَةً فَشَقَّھَا نِصْفَیْنِ فَغَرَزَ فِیْ کُلِّ قَبْرٍ وَاحِدَةً قَالُوْا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ لِمَ فَعَلْتَ ھٰذَا قَالَ لَعَلَّہ یُخَفَّفُ عَنْھُمَا مَا لَمْ یَیْبِسَا ۔ ١
'حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما فرماتے ہیں کہ (ایک مرتبہ) نبی کریم علیہ الصلٰوة السلام دو قبروں کے پاس سے گزرے تو آپ نے (اُنہیں دیکھ کر) فرمایا اِن دونوں قبر والوں کو عذاب ہورہا ہے ! اور عذاب بھی کسی بڑی چیز میں (اِبتلاء کی وجہ سے) نہیں ہورہا (کہ جس سے بچنا مشکل ہو) اِن میں ایک تو پیشاب سے نہیں بچتا تھا ،دوسرا چغلی کھایا کرتا تھا ! پھر آپ نے (کھجور کی) ایک تر شاخ لی اور اس کو بیچ سے آدھوں آدھ چیرا اور اُنہیں ایک ایک کرکے دونوں قبروں پر گاڑھ دیا ! صحابہ کرام نے (یہ دیکھ کر) پوچھا یا رسول اﷲ (ۖ) آپ نے ایسے کیوں کیا ؟ آپ نے فرمایا (اِس عمل سے) شاید اِن کے عذاب میں (اُس وقت تک کے لیے) کچھ تخفیف ہوجائے جب تک کہ یہ شاخیں خشک نہ ہوں'
ض ض ض
١ مشکٰوة المصابیح کتاب الطھارة باب اٰداب الخلاء رقم الحدیث ٣٣٤
دُنیا کی حرص و طمع
( حضرت مولانا ابوبکر صاحب غازی پوری ،انڈیا )
ض ض ض
قرآن و حدیث کے مطالعہ سے یہ بات واشگاف ہوتی ہے کہ دُنیا کی طلب اور اس کی حرص اتنی کہ انسان کو آخرت سے غافل کردے اور اس کو دُنیا کا غلام بنا دے بڑی مذموم اور بُری چیز ہے ! یہ صحیح ہے کہ اسلام دُنیا سے بالکل بے تعلق ہونے کی دعوت نہیں دیتا بلکہ اس کی تعلیم تو یہ ہے کہ
( اِنْتَشِرُوْا فِی الْاَرْضِ وَابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰہِ )' زمین میں پھرو اور اللہ کے فضل ونعمت کو حاصل کرو'
قرآن پاک میں جگہ جگہ اِنفاق فی سبیل اللہ کا حکم ہے ! یہ انفاق بلا کسبِ مال کے کیسے ہو سکتا ہے ؟ فقرائ،مساکین ، یتامیٰ اور بے کسوں اور لاچاروں کی امداد و اعانت بہترین عمل ہے اس کے لیے ضرورت ہے کہ انسان کے پاس پیسہ ہو ! اس لیے جائز طریقہ پر مال حاصل کرنا ضروری ہے ! قرآن واحادیث میں ہمیں اس کی طرف متوجہ کیا گیا ہے اور اس سلسلہ میں خود صحابہ کرام کی زندگی ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے !
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں ایک جماعت تھی جس کا شمار اُونچے درجہ کے مالداروں میں ہوتا تھا حضرت عثمان عرب کے مشہورتاجر تھے ،حضرت ابوبکر کی ابتدائی زندگی میں امیرانہ جاہ وشکوہ تھا !
حضرت عبدالرحمن بن عوف کے پاس جو دولت تھی اُس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان کی وفات کے بعد ان کی چار بیویوں میں سے ہر ایک کو اَسّی اَسّی ہزار درہم ملے تھے ١ اور ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر بیوی کے حصہ میں تراسی ہزار روپیہ آیا تھا !
حضرت زبیر عرب کے مالدار ترین آدمی تھے ان کے پاس صرف غلاموں کی تعداد ایک ہزار تھی ! ٢
حضرت عبداللہ بن مسعو د کا جب انتقال ہوا تو ان کے پاس ستر ہزار درہم تھے ! اسی طرح تابعین میں ایک بڑا طبقہ مالداروں کا تھا ،ائمہ میں حضرت امام ابو حنیفہ کی ثروت ومالداری زبان زد عوام ہے
١ جامع بیان العلم ص١٢٠ ج٢ ٢ ایضاً
فقیہ مصر امام لیث زبردست تاجر تھے ! حضرت عبداللہ بن مبارک کا لقب ہی 'التاجر السفار 'پڑگیا تھا ! حضرت امام وکیع ایک لاکھ سے کاروبار کیا کرتے تھے !
غرض صحابہ سے لے کر تابعین اور تبع تابعین تک جو خیر القرون کا زمانہ تھا اور دین کاگھر گھر چرچا تھا اور عہد ِنبوت سے قرب تھا ،ہر شخص کے دل میں دین کا سودا تھا اُس و قت بھی کسی نے مال و دولت کو نفرت کی نگاہ سے نہیں دیکھا اور دُنیا سے انقطاع کی دعوت نہیں دی اور بلاوجہ فقروفاقہ کی زندگی کو اختیارنہیں کیا ! خود حضورِ اکرم ۖ نے فقروفاقہ سے پناہ طلب کی ہے ! اور اُمت کو اِس کی تعلیم دی ہے آپ ۖدُعا فرماتے تھے :
اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْفَقْرِوَالْفَاقَةِ وَالْقِلَّةِ وَالذِّ لَّةِ۔(جامع بیان العلم ج٢ص١٦)
'اے اللہ ! میں تیرے ذریعہ محتاجی اور فقر سے پناہ مانگتاہوں اور مال کی کمی اور ذلت سے پناہ مانگتاہوں '
کبھی آنحضرت ۖ دُعا میں فرماتے :
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ الْھُدٰی وَالتُّقٰی وَالْعَافِیَةَ وَالْغِنَائَ
'اے اللہ ! میں تجھ سے ہدایت ،پرہیزگاری اور غنا ء کا خواستگار ہوں '
ایک حدیث میں فرمایا گیا :
مَنْ رُزِقَ الدُّنْیَا عَلَی الْاِخْلَاصِ لِلّٰہِ وَحْدَہ وَعِبَادَتِہ لَا شَرِیْکَ لَہ وَاَقَامَ الصَّلٰوةَ وَاِیْتَائِ الزَّکٰوةِ مَاتَ وَاللّٰہُ عَنْہُ رَاضٍْ۔
'جو شخص اخلا ص اور اللہ کی بلاشرکتِ غیر عبادت اور نماز قائم کرنے اور زکٰوة ادا کرنے کی بنا ء پر رزق عطاء کیا گیا تو اُس کا انتقال اس حال میں ہوگا کہ اللہ اُس سے راضی رہے گا'
اور ابو قلابہ رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں : لاَ تَضُرُّکُمُ الدُّنْیَا اِذَا شَکَرْ تُمُوا اللّٰہَ
' تم نے اگر اللہ کا شکر ادا کیا تو دُنیا تم کو نقصان نہیں پہنچائے گی '
غرض نیت ِخالص کے ساتھ ،اللہ کی رضا جوئی کے لیے ،اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کے لیے، اہلِ حاجت کی اعانت ودستگیری کے لیے دُنیا کا حاصل کرنا اور مال ودولت کا جمع کرنا کبھی بھی مذموم نہیں رہا ہے اور نہ شریعت نے اس سے روکاہے ! بلکہ بسا اوقات نفل عبادتوں پر طلب ِرزق کا مقدم کرنا ضروری ہوتا ہے ! اہل و عیا ل کی پرورش انسان کا فریضہ ہے اوراِس فریضہ کی ادائیگی نفلی عبادتوں سے کہیں اہم ہے ! ! !
بہرحال اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ اسلام دُنیا سے الگ ہو کر زندگی گزارنے کی دعوت نہیں دیتا ہے ! اور نہ کسب ِمال اس کے نزدیک فی نفسہ برا عمل ہے ! بلکہ جو چیز اسلام کی نگاہ میں بُری ہے اور جس کی وجہ سے دُنیا او ر اہلِ دُنیا کی مذمت کی جاتی ہے وہ دُنیا کی حد سے زیادہ لالچ اور حرص ہے ! جو اِنسان کو آخرت سے غافل بنا دیتی ہے اور انسان دُنیا میں پھنس کر اپنے پیدا کرنے والے کو بُھلا بیٹھتا ہے ! آخرت سے اُس کا رشتہ کمزور ہو جاتاہے اسے دن رات صرف پیسہ کمانے اوردولت جمع کرنے کی فکر رہتی ہے خواہ یہ دولت کسی طریقہ سے بھی حاصل ہوتی رہے ! وہ فرائض و واجبات کا بھی تارک بن جاتاہے مال کی حرص اس کو بے چین اور پراگندہ خاطر بنائے رہتی ہے ! دوسروں کی دولت کو دیکھ کر اس میں حسد وطمع کا عارضہ پیدا ہوتاہے اور ناشکری کے جذبات پرورش پاتے ہیں ! وہ اپنے مال کو غلط جگہ پر لگاتا ہے اور اپنے سے کم مال والے کو حقیروذلیل سمجھتا ہے ! دین وشریعت کا اُس کی نگاہ میں کوئی وزن نہیں رہتا ! ! !
غرض جب حرص و آزاِس درجہ کو پہنچ جائے اور دُنیا اس درجہ مطلوب ہو جائے کہ شرعی قوانین و اخلاق کی بھی انسان پر وانہ کرے اور انسان اللہ کا بندہ ہونے کے بجائے روپے پیسے کا بندہ بن جائے تو بلا شبہہ ایسے شخص کے لیے کتاب وسنت میں سخت وعید ہے ! قرآن کا ارشاد ہے :
( فَاَماَّ مَنْ طَغٰی وَ اٰثَرَالْحَیٰوةَ الدُّنْیَا فَاِنَّ الْجَحِیْمَ ھِیَ الْمَأْوٰی )( النّٰزعٰت : ٣٧)
'جس نے سرکشی کی اور دُنیاوی زندگی کو آخرت کی زندگی پر ترجیح دی اُس کا ٹھکانا جہنم ہے '
سورۂ یونس میں ایک جگہ فرمایا گیا ہے کہ انسان کی اگر یہی خواہش ہے کہ اسے دُنیا حاصل ہو جائے تو اُسے دنیا دے دی جاتی ہے مگر ایسے شخص کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے ! فرمایا گیا : جو دُنیا کی زندگی اور اِس کی آرائش چاہتا ہے ہم اُس کے اعمال کا بدلہ بلا کسی کمی کے دُنیا ہی میں پورا پورا دیتے ہیں ! یہ وہ لوگ ہیں جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں سوائے آگ کے ! انہوں نے جو کچھ کیا سب اَکارت گیا اور وہ جو کچھ کررہے ہیں وہ باطل ہے ! ! ایک دوسری جگہ ارشاد فرمایا گیا :
( وَمَا ھٰذِہِ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَآ اِلَّا لَھْو وَّ لَعِب وَاِنَّ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ لَھِیَ الْحَیٰوَانُ ) ١
'اور یہ دُنیا کی زندگی تو صرف کھیل اور تماشا ہے اورآخرت کا گھر ہی اصل زندگی ہے '
ایک جگہ ارشاد فرمایا گیا ( فَلَا تَغُرَّنَّکُمُ الْحیٰوةُ الدُّنْیَا وَلاَ یَغُرَّنَّکُمْ بِاللّٰہِ الْغَرُوْرُ) ٢
'دنیا کی زندگی تم کو دھوکے میں نہ ڈالے اورنہ شیطان تم کو اللہ کے بارے میں دھوکے میں رکھے'
یہ دولت کے جمع کرنے والے بیشتر وہ ہوتے ہیں جنہیں نہ دین کی پروا ہوتی ہے اور نہ انسانی اخلاق کی ! وہ اپنے کو ہر قانون سے بری سمجھتے ہیں ! وہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے جو کمایا ہے یہ اُن کی عقل ودانش اور سعی وعمل کا فیض ہے وہ اس دولت کو اپنے لیے رحمت سمجھتے ہیں اور ان کے تمرد ،سرکشی اور ناشکری اور کفرانِ نعمت کے باوجود بھی جواُن کے پاس دُنیا سمٹتی آرہی ہے وہ سمجھتے ہیں کہ ان کا خدا اِن سے راضی ہے ! حالانکہ ان کے اس سرکشی اورکفرانِ نعمت کے بعد بھی دُنیا نے جو اُن پر اپنا دروازہ کھول دیاہے یہ خدا کا عذاب ہے،یہ فتنہ او رآزمائش ہے ! جس کا انہیں اپنی غفلت ،بے پروائی اور آخرت فراموشی کی وجہ سے اِدراک نہیں ہو پاتا ! یہ عذاب کی وہ رسی ہے جس میںہر آنے والے دن وہ کَستے چلے جارہے ہیں ! قرآن میں آنحضور ۖ کو مخاطب بنا کر فرمایا گیا :
( وَلَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْکَ اِلٰی مَا مَتَّعْنَا بِہ اَزْوَاجًا مِّنْھُمْ زَھْرَةَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا لِنَفْتِنَھُمْ فِیْہِ وَرِزْقُ رَبِّکَ خَیْر وَّ اَ بْقٰی ) ٣
١ سُورة العنکبوت : ٦٤ ٢ سُورة الفاطر : ٥ ٣ سُورة طٰہٰ : ١٣١
'آپ اس چیز کی طرف نگاہ نہ کریں جو ہم نے اِن کا فروں میں سے کچھ کو اِس دنیا میں فائدہ اُٹھانے کے لیے دے رکھا ہے ! یہ محض دنیا کی رونق ہے ہم ان کو آزمانا چاہتے ہیں ! آپ کے رب کا رزق زیادہ بہتر اور زیادہ پائیدار ہے'
بہر حال یہ سمجھ لینا کہ مال ودولت کی کثرت اور راحت و آرام کی زندگی معصیت او ر حقوق ناشناسی کے باوصف بھی جو حاصل ہے یہ خدا کا فضل ہے ،یہ نفس کافریب او ر شیطان کا دھوکہ ہے ! آخرت کو نظرانداز کرکے اور خداسے غافل ہوکر زندگی گزارنے والا شخص بہر حال اللہ کے عذاب سے بچ نہیںسکتا ! دیریا سویر اُس کو اپنی اس غفلت اور آخرت فراموشی کا مزہ چکھنا ہے بلکہ بسا اوقات ا س کی یہ دولت خود اُس کے لیے عذاب بن جاتی ہے او روہ اس دُنیا ہی میں اس عذاب کامزہ چکھ لیتا ہے !
اور یہ ضروری نہیں ہے کہ یہ عذاب آسمانی عذاب کی طرح کوئی عذاب ہو بلکہ یہ بھی اللہ کا زبردست عذاب ہے کہ انسان سے خیرو شر کی تمیز اُٹھ جائے ! اس کی سرکشی اور اللہ سے بغاوت بڑھتی جائے، گمراہی و شقاوت کی تہ دَبیز سے دَبیز تر ہوتی جائے ! حرص وطمع کی وجہ سے وہ لوگوں میں بدنام اور حقیر ہو ! اس کی اولاد نافرمان ہو ! ذہن کا سکون اورقلب کا اطمینان غائب رہے ! یہ ساری شکلیں عذاب ہی کی ہیںاور شاید ہی کوئی بندہ ٔ دنیا ایسا ہوگا جس کے ساتھ عذاب کی ان شکلوں میںسے کوئی شکل نہ پائی جاتی ہو ! ! !
نیز جب مال وزرکی کثرت ہوتی ہے اور انسان شرعی و اخلاقی قیود سے آزاد رہتا ہے تو عموماً اخلاقی امراض پیدا ہوتے ہیں جس سے پوری سوسائٹی گندی ہوتی ہے ! چوری ،زنا،قتل و غارت گری ، بغض وعداوت ،حسد وطمع وغیرہ سینکڑوں بیماریاں ہر روز جنم لیتی ہیں ! ! !
آنحضور ۖ نے ا یک حدیث میںفرمایا کہ :
'جب اللہ تعالیٰ کسی قوم پر دِرہم و دینا ر اور سونے چاندی کے دروازے کھول دیتے ہیں تو اُس قوم میں قتل وخونریزی اور رشتہ داروں سے قطع تعلق پیدا ہو جاتا ہے' ١
١ جامع بیان العلم ج ٢ ص١١
ایک دوسری حدیث میں فرمایا گیا :
'دنیا سے بے رغبتی قلب کو آرام پہنچاتی ہے اور دُنیا کی خواہش رنج و غم کو زیادہ کرتی ہے' ١
ان آیات و احادیث سے معلوم ہوا کہ مال ودولت جس طرح انسان کی راحت و آرام کا باعث ہے اسی طرح جب انسان کی حرص وطمع بڑھ جائے اور دوسروں کے حقوق پاما ل ہونے لگیں اور انسان کی نگاہ میں دنیا اور دنیا کی ٹیپ ٹاپ ہی سب کچھ ہوجائے تو یہی مال اس کے لیے لعنت اور عذاب بن جاتا ہے ! آنحضور ۖ نے ایک حدیث میں فرمایا ہے :
' جب تم دیکھو کہ اللہ کسی کو دُنیا دے رہا ہے اور وہ انسان معاصی میں پڑا ہوا ہے تو سمجھ لو کہ یہ اللہ کی طرف سے ڈھیل دی گئی ہے'
ایک دوسری حدیث میں فرمایا گیا :
' چھ چیزیں انسان کے عمل کو ضائع کر دیتی ہیں : (١) مخلوق کے عیوب میںلگنا (٢)دل میںقساوت کا ہونا (٣) دنیا کی محبت میں پڑنا(٤)حیا کاکم ہونا (٥) بڑی اُمید یں رکھنا (٦)ظلم سے باز نہ رہنا ' ٢
ایک حدیث سے معلوم ہوتاہے کہ دنیا کی حرص و ہوس انسان سے جواں مردی کے اوصاف ختم کر دیتی ہے اور اُس کو بزدل بنادیتی ہے اور لوگوں کے دل سے اس کی ہیبت ختم ہو جاتی ہے ! !
او ر ایک دوسری حدیث کے الفاظ یہ ہیں :
اِذَا عَظُمَتْ اُمَّتِیْ الدُّنْیَا نُزِعَتْ عَنْھَا ھَیْبَةُ الْاِسْلَامِ
'جب میری اُمت دُنیا کوبڑی چیز سمجھنے لگے گی تو اس سے اسلام کی ہیبت چھین لی جائے گی'
آج مسلمانوںکی حالت پر غور کرو اور دیکھو کس طرح یہ حدیث اُن پر حرف بحرف صادق آ رہی ہے ! دُنیا کمانے کی فکر ،مال و متاع اور عیش و تنعم کی خواہش نے ان کو آخرت سے غافل کر دیا ہے ! ! دنیا کو اس نے سب کچھ سمجھ رکھا ہے اور اس دنیا کے سامنے اُسے آخرت کی زندگی کی کوئی فکر نہیں ہے ! !
١ جامع الصغیر ج ٢ص٨ ٢ جامع الصغیر ج ٢ ص١٩
دُنیا کی چمک دمک نے اس کی نگاہ کو خیرہ کر دیاہے اور آج مسلمان اسلامی اخلاق وکردار کو پامال کرتے ہوئے ہرطرح دنیا کما رہاہے ! جائز وناجائز اور حلال وحرام کی اسے قطعاً پروا نہیںہے ! لیکن کیا مال ودولت کی کثرت کے باوجود بھی انہیں عزت وآبرو کا وہ مقام حاصل ہو سکا جو ایک باغیرت قوم کے لیے باعث ِافتخار ہوا کرتا ہے ؟ !
اسلامی مملکتوں کو دیکھو ان کی زمین سے دولت کے چشمے اُبل رہے ہیں ! عیش و تنعم کے ساے اسباب مہیا ہیں اور ان کا معیارِ زندگی بلند سے بلند تر ہو گیا ہے لیکن کیا اس زندگی سے ان کی وہ ہیبت وشان بھی باقی ہے جس سے قیصروکسرٰی کے محلات لرزتے تھے ! کیا آج بھی وہی مسلمان ہیں جن کے نام سے قصرِ باطل میں زلزلہ پیدا ہوتا تھا ! ! آج تو دولت کی اس ریل پیل کے باوجود آبرو کی زندگی سے بھی اُمت ِمسلمہ محروم ہے اور اس کی عظمت ِگزشتہ کا ہلکا سا نشان بھی باقی نظر نہیں آتا ! !
دنیا کمانے کا جذبہ جب انسان میں حد سے فزوں ہو جاتا ہے تو اس کا دل ہروقت دنیا کے افکار سے ہی گھرارہتاہے ! اس سے اس کا اطمینان رُخصت ہو جاتا ہے اور اگر کبھی اس کی تجارت فیل ہو گئی یا اس میں نقصان ہو گیا یا اسے اور کسی مادّی خسارے سے دوچار ہونا پڑا تو راتوں کی نیند حرام ہوجاتی ہے اور غم سے نڈھال ہوکر پڑ جاتا ہے ! یہ دن رات کا مشاہدہ ہے اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا ! ! ! ایک حدیث میں ارشاد فرمایا گیا :
اَلدُّنْیَا مَلْعُوْنَة وَ مَلْعُوْن مَا فِیْھَا اِلَّا مَا کَانَ لِلّٰہِ مِنْھَا۔( المراسیل لابی داود : ٥٠٢ )
'دنیا ملعون او ردنیا کی ہرچیزملعون ہے سوائے اُس حصہ کے جو اللہ کے لیے ہو ' (یعنی جو کام اللہ کے لیے دنیا میں رہ کر کیا جائے وہ تو مقبول ہے اس کے سوا جو کچھ بھی ہے وہ سب خیر سے خالی ہے)
دنیا انسان کے لیے امتحان ہے اللہ تعالیٰ نے اس کو مختلف گُل بوٹوں سے سجاکر اوراس میں عیش و تنعم کا ہر طرح کا سامان پیداکر کے اپنے بند ہ کو آزمانا چاہتا ہے کہ میرا بندہ دنیا کی ان نمائشی چیزوں کو دیکھ کر اور اس میں رہ کرمجھے یاد رکھتاہے یا دنیا کی اس چمک دمک سے خیرہ ہوکر مجھ سے غافل ہوجاتاہے ! اورمیرے احکام سے آنکھ بند کرکے اور میرے مقرر کردہ ضابطہ ٔحیات سے بے پروا ہوکر زندگی گزارتا ہے ! اس بات کو اِس حدیث میں بیان کیا گیا ہے :
اِنَّ الدُّنْیَا حُلْوَة خَضِرَة وَّاَنَّ اللّٰہَ مُسْتَخْلِفُکُمْ فِیْھَا فَنَاظِر کَیْفَ تَعْمَلُوْنَ ۔ ١
'دنیا بہترین سرسبز وشاداب جگہ ہے او ر اللہ اس میں تم کو پیدا کرکے دیکھنا چاہتا ہے کہ تم لوگ کیسے عمل کرتے ہو'
ایک دوسری حدیث میں فرمایا گیا :
اَلدُّنْیَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ وَجَنَّةُ الْکَافِرِ۔ ٢
'دنیا مؤمن کے لیے قید خانہ اورکا فر کے لیے جنت ہے'
مطلب یہ ہے کہ جس کا ایمان آخرت پر ہوتاہے اور وہ یہ سمجھتاہے کہ یہاں کی زندگی چند روزہ ہے ! یہ گھر دارِ قرار نہیں دارِ فرار ہے ! وہ اس دنیا سے اس طرح گھبراتا ہے جس طرح قیدی قید خانہ سے ! قیدی کو قید خانہ میں آرام وراحت کا کتنا بھی سامان مہیا ہو وہ چاہتا ہے کہ جلدازجلد یہاں سے نکلے ! اسی طرح مومن کی یہ شان ہوتی ہے کہ وہ مطمح نظر دنیا کو نہیں آخرت کو بناتا ہے اور اُس گھر میں منتقل ہونے کے لیے بے چین رہتا ہے ! دنیا کی آرائش وزیبائش اسے بالکل نہیں بھاتی، بخلاف کافر کے کہ وہ دنیا ہی کو اصلی گھر سمجھتا ہے ! اس کے پیش ِنظر صرف یہی زندگی رہتی ہے اس لیے وہ یہاں رہ کر اپنے لیے زیادہ سے زیادہ عیش وراحت کا سامان جمع کرتاہے ! ایک حدیث میں ارشاد فرمایا گیا کہ
'جواِس حال میں صبح کرے کہ اُس کا سب سے بڑا مقصد دُنیا ہی ہو تو اللہ کے یہاں اُس کا کوئی مقام نہیں ہوتا ! اللہ اس کے قلب میں چار چیزیں اللہ پیدا کردیتا ہے جو اُس کے ساتھ ہمیشہ رہتی ہیں : 'غم'جس سے اس کو کبھی چھٹکارا نہیں رہتا ! 'مشغولیت ' جس سے وہ کبھی فارغ نہیں رہتا ! 'فقر' کہ وہ کبھی غنا کو پہنچ ہی نہیں پاتا ! 'اُمید ' کہ اِس کی کوئی انتہا ہی نہیں ہوتی ہے' ٣
١ مشکوة المصابیح رقم الحدیث ٥١٤٥ ٢ مشکوة المصابیح رقم الحدیث ٥١٥٨ ٣ احیا ء العلوم ص ١٧٦ج٢
اہلِ دنیا کی زندگی کا جائزہ لو اور پھر دیکھو کہ جوچار چیزیں اس حدیث میںبیان کی گئی ہیں کیا ان کی زندگی اورزندگی کے شب وروز اس حدیث کی حقانیت وصداقت کاکھلا اعلان نہیں کر رہے ہیں ؟ کیا مال ودولت کی کثرت نے ان کو فکر وغم سے نجات بخش دی ہے ؟ کیا ایک ایک پیسہ کے لیے اب بھی وہ تگ ودونہیں کر رہے ہیں ؟ کیا ان کی تمنائیں و آروزئیںپوری ہوگئیں ؟ سکون و راحت کاکوئی لمحہ انہیں میسر ہے ؟ سچ ہے دُنیا میں پڑکر دنیا کے چکر سے نکلنا بڑا دُشوار اَمر ہے یہاں ہر روز ایک نئی خواہش اُبھرتی ہے اور جنم لیتی ہے ! کتنی بھی انسان کے پاس دولت ہوجائے وہ ایک پیسہ کے لیے ہزارطرح کی مشقت برداشت کرتا ہے ! اسی وجہ سے آنحضرت ۖ نے فرمایا :
لَیْسَ الْغِنٰی عَنْ کَثْرَةِ الْعَرَضِ وَلٰکِنَّ الْغِنٰی غِنَی النَّفْسِ ١
'غنا مال کی کثرت کانام نہیں ہے بلکہ اصل غنی نفس کا غنا ہے'
٭ حضرت حسن بصری فرماتے ہیںکہ میں نے ایسے لوگوں کو دیکھا ہے جن کے نزدیک دُنیا کی حقیقت مٹی سے زیادہ نہیں تھی ! ٢
٭ حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ قلب میں جب دُنیا کی محبت اور گناہ کی رغبت پیدا ہوجاتی ہے توقلب متوحش رہتا ہے اس لیے کہ قلب میں خیر کا گزرنہیں ہو پاتا ! ٣
٭ حضرت سلمان فارسی نے حضرت ابو در دائ کولکھا کہ میرے بھائی دُنیا سے بچو دُنیا اتنی نہ جمع کرو کہ تم سے اُس کا شکرادا نہ ہوسکے ! ٤
٭ حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں کہ ایک فرشتہ یہ صدا لگا تا ہے کہ'تھوڑا مال جو تمہیں کافی ہو وہ اُس زیادہ سے بہترہے جو تم کو سرکش بنادے' ! ٥
٭ حضرت عبدالواحد بن زید فرماتے ہیں کہ حرص دو طرح کہ ہوتی ہے : ایک نافع اور ایک ضار ! 'نافع' تو وہ ہے کہ انسان اللہ کی عبادت اور اُس کے احکام کی بجاآوری کا حریص رہے اور' ضار' وہ ہے کہ اِنسان دنیا کا حریص ہو جائے ! ( جامع بیان العلم ج١ ص ١ ١٦ )
١ صحیح البخاری رقم الحدیث ٦٤٤٦ ٢ احیاء العلوم ج ٢ ص١٨٣ ٣ ایضاً ٤ ایضاً ص٢٠٠ ٥ ایضاً ص٢٠٧
ان تفصیلات سے معلوم ہوا کہ دُنیا کی حرص اور اُس کی محبت اس درجہ پیدا ہوجائے کہ انسان کے دل سے آخرت کاخیال ختم ہو جائے، وہ حلال وحرام کی بھی پروا نہ کرے،دوسروں کے حقوق پامال ہوں، دنیا کی زندگی ہی اس کی نظر میں سب کچھ ہو جائے وہ بڑا قابلِ ملامت انسان ہے ! ! !
اگرچند باتوں کا لحاظ رکھا جائے تو انسان بڑی حد تک دُنیا کی حرص وطمع سے محفوظ رہ سکتا ہے :
٭ اوّل : وہ اُن آیات و اَحادیث میں باربار غور کرے جن میں دُنیا اور اہلِ دُنیا کی مذمت ہے !
٭ دوم : وہ اپنے انجام پرغور کرے اوریہ کہ اسے دُنیا میں کتنے روز رہنا ہے اور اس دُنیا سے وہ کہاں تک فائدہ اُٹھا سکتاہے !
٭ سوم : اللہ والوںکی زندگی کامطالعہ کرے اور اس زندگی کا اہلِ دُنیا کی زندگی سے موازنہ کرے تاکہ اسے معلوم ہوکہ کس کی زندگی سکون و عافیت اور آرام وچین کی زندگی ہے ! خاص طورپر انبیائِ اور صحابہ کی حیاتِ مبارکہ کا مطالعہ کرے !
٭ چہارم : اللہ کے غضب اور اُس کی صفت ِقہر و جلال کو سامنے رکھے جس سے آخرت فراموشوںکو سامنا کرنا پڑے گا !
٭ پنجم : صبر و قناعت ،توکل اور زُہد فی الدنیا کے فضائل پرغور کرے !
٭ ششم : وہ دیکھے کہ عام طورپر اہلِ دُنیا میں خطرناک اخلاقی امراض پیدا ہو جاتے ہیںمثلاً حسد ، کینہ ، ظلم ،بخل وغیرہ اور پھر اِن امراض کے نقصانات پر غور کرے !
ان چند اُمور کا لحاظ کرنا ان شاء اللہ دُنیا کی حرص وطمع سے نجات دلانے کے لیے کافی ہوگا ! ! !
(مطبوعہ ماہنامہ انوار مدینہ نومبر ١٩٩٢ئ)
شیخ المشائخ محدثِ کبیر حضرت اقدس مولانا سیّد حامد میاں صاحب رحمة اللہ علیہ کے آڈیو بیانات (درسِ حدیث) جامعہ کی ویب سائٹ پر سُنے اورپڑھے جا سکتے ہیں
http://www.jamiamadniajadeed.org
استفادہ کی چند بنیادیں
مولانا محمدبن محمدسرور ، تخصص فی علوم الحدیث
جامعہ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹائون کراچی

تمہید و ترغیب :
انسان اپنی زندگی میں حضراتِ اکابرعلمائِ کرام اوراولیاء اللہ کے وجودکوغنیمت جانے اور اُن سے استفادہ کی خوب کوشش کرے ! چاہے وہ زیارت اورمصافحہ کے ساتھ ہی کیوں نہ ہواوراس میں ہرگز سستی نہ دکھائے تاکہ اُن کے علوم وتجربات،برکات اورفیوضات سے کچھ روشنی حاصل کرلے اورمحروم نہ رہ جائے ! کیونکہ بسااوقات ان اکابر سے انسان وہ رمز اوراِشارہ حاصل کرلیتاہے جوزندگی بھرکتابوں سے حاصل نہیں کرسکتا ! بصورتِ دیگراِن اکابر کے جانے کے بعد انسان زندگی بھر افسوس اور پچھتاوے میں رہتاہے اورتمناکرتاہے کہ کاش سستی کی بجائے چستی اورتاخیرکی بجائے تعجیل سے کام لے لیتا ! اوریہ سلسلہ شروع سے چلتاآرہاہے کہ جنہوں نے بھی اس معاملے میں کچھ تاخیر کی پھر وہ زندگی بھر استفادہ کرنے کی خواہش اورتمناہی کرتے رہے چنانچہ خطیب بغدادی نے اپنی تصنیف اَلرَّحْلُ فِیْ طَلَبِ الْحَدِیْثِ میں خاص طورپر ایک ایسی فصل قائم کی ہے جس میں اُنہوں نے اُن حضرات کا ذکر کیاہے جنہوں نے استفادہ اورطلب ِ حدیث کے لیے کسی معین شیخ کی طرف رخت ِسفرباندھا اور پھر پہنچنے پرمعلوم ہواکہ شیخ داعی ٔ اَجل کو لبیک کہہ چکے ہیںاس پروہ نہایت افسردہ ہوئے ! ! ! چنانچہ بطورِترغیب اورنصیحت چندحضرات کاذکر کیا جاتا ہے :
(١) حمادبن سلمہ کہتے ہیں کہ میں مکہ آیاجبکہ عطاء بن اَبی رباح حیات تھے،میں نے سوچاکہ افطارکرنے (رمضان گزارنے) کے بعدان کے پاس جائوں گالیکن ماہِ رمضان میں ہی ان کا انتقال ہو گیا ! ١

١ الرحل فی طلب الحدیث ص ١٧١
(٢) عبداللہ بن داود الخریبی کہتے ہیںکہ میرا بصرہ جانے کاسبب ابن عون کی زیارت کرناتھا چنانچہ جب میں بنی دارا کے پلوں تک پہنچا توا بنِ عون کی وفات کی خبرمجھے پہنچ گئی ! ! اللہ ہی جانتاہے کہ کیا غم اورافسوس مجھے اُس وقت پہنچا ! ! ١
(٣) علی بن عاصم کہتے ہیں کہ میں اورہشیم دونوں منصورکی زیارت (اوراستفادہ )کی غرض سے شہر واسط سے کوفہ کی طرف نکلے چنانچہ میں واسط سے نکل کرچندفرسخ ہی چلاتھاکہ ابومعاویہ یاکسی اور صاحب سے میری ملاقات ہوئی،میں نے ان سے پوچھاآپ کہاں کاارادہ رکھتے ہیں ؟ توجواباً اُنہوں نے کہاکہ میرے ذمہ کچھ قرض ہے اس کی ادائیگی کے لیے کچھ حیلہ کررہاہوں،علی بن عاصم کہتے ہیں کہ میں نے ان سے کہا کہ آپ میرے ساتھ چلو،میرے پاس چارہزاردرہم موجودہیں ان میں سے دوہزاردِرہم آپ کے حوالے کردیتاہوں ! فرماتے ہیں کہ میں وہاں سے لوٹا اوردوہزار دِرہم ان کے سپردکرکے وہاں سے نکل پڑا ! ہشیم صبح کے وقت کوفہ پہنچ چکے تھے جبکہ میں شام کے وقت پہنچا ، ہشیم نے جاکرمنصورسے چالیس احادیث کاسماع کرلیا ! لیکن میں حمام میں داخل ہوگیا،جب صبح ہوئی تومیں منصور کے دروازے پرگیاتو سامنے سے ایک جنازہ دیکھا ! میں نے پوچھایہ کیاہے ؟ لوگوں نے بتلایاکہ یہ منصور کا جنازہ ہے ! ! ! میں بیٹھ کررونے لگا،وہاں ایک شیخ نے مجھ سے کہا کہ اے نوجوان کون سی چیز آپ کو رُلا رہی ہے ؟ میں نے عرض کیاکہ کوفہ سے اس غرض سے آیاتھاکہ اِس شیخ سے احادیث کاسماع کرلوںجبکہ وہ تو موت کی آغوش میں جاپہنچے ! ٢
ان واقعات سے انسان کو خوب سبق حاصل کرنا چاہیے کہ اپنے اکابر سے استفادہ کرنے میں ہرگز کاہلی اورغفلت کامظاہرہ نہ کرے ورنہ افسوس کادامن ساتھ لگا رہتاہے ! لہٰذا اُس کو چاہیے کہ ہمت اورچستی سے کام لے کرآگے بڑھے اورکوئی چیز استفادہ کرنے سے رُکاوٹ نہ بننے پائے ! ! !
موانع اِستفادہ اوراُن کاعلاج :
چنداُمورایسے ہیں جو طالب کے لیے استفادہ سے رُکاوٹ بنتے ہیں ان سے اپنے آپ کو
١ الرحل فی طلب الحدیث ص ١٧٦ ٢ المصدر السابق ص ١٧٣
خوب بچائے ! اگراپنے اندراِن اُمورمیں سے کسی کے بھی اثرات محسوس کرے تو فوراً اُن کو دُور کرنے کی فکرکرے ورنہ یہ اِس کے لیے ترقی کی راہ میں خطرناک رُکاوٹ ثابت ہوں گے ! !
صرف تین موانع استفادہ مع علاج ذیل میں ذکرکیے جاتے ہیں جوعام طورپر پائے جاتے ہیں :
(١) تکبر :
انسان مستفادمنہ کواپنے سے علم میں کمترخیال کرتاہے اس لیے اس سے استفادہ نہیں کرتا ! جبکہ مستفادمنہ کامقام معتبرعلماء کے ہاںمسلَّم ہواورظاہرحال بھی اس کے خیال کی تکذیب کررہاہو ! لہٰذایہ خیال تکبرہواجواِس کے لیے استفادہ سے رُکاوٹ ہے ! !
اورتکبرکی دوسری صورت یہ ہے کہ مستفادمنہ مستفیدسے عمرمیں چھوٹاہوتاہے جبکہ علم و فضل میں بلند مرتبہ کاحامل ہوتاہے ! لیکن مستفیداس سے استفادہ کرنے میں اپنے لیے عار سمجھتاہے اور مستفادمنہ کو چھوٹا سمجھنے کی بنیادپراستفادہ چھوڑدیتاہے ! !
اور ہر اِنسان اپنے اندر کی کیفیت سے خود واقف ہے اس لیے اگر وہ اس قسم کی کیفیت محسوس کرے تو اس کے علاج کی کوشش کرے جو مختلف ہوسکتے ہیں، کچھ یہاں ذکر کیے جاتے ہیں۔
علاج :
استفادہ سے مانع جب تکبرہوتواِس کاعلاج یہ ہے کہ ہمت کرکے اورنفس کودباکروہی کام کرلے جس سے تکبرمانع بن رہاہے ! چند مرتبہ ایساکرنے سے تکبر کامرض بھی زائل ہوجائے گا اور استفادہ کاراستہ بھی ہموار ہوجائے گا ! امام بخاری رحمہ اللہ نے صحیح بخاری میں حضرت مجاہد کاقول نقل فرمایاہے قَالَ مُجَاہِد لَا یَتَعَلَّمُ الْعِلْمَ مُسْتَحْی وَّلَا مُسْتَکْبِر۔ ١ حضرت مجاہد نے ارشاد فرمایا 'حیا کرنے والا اور تکبر کرنے والا دونوں علم حاصل نہیں کرسکتے '
اس سلسلے میں حضرت موسٰی علیہ الصلوة و السلام کا واقعہ رہنمائی و ہدایت اور اس مرض کے علاج کے لیے نہایت سبق آموزہے !
١ صحیح البخاری کتاب العلم باب الحیاء فی العلم ج ١ ص ٦٠
حضرت موسیٰ علیہ السلام نبوت و رسالت اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہم کلام ہونے کے مراتب پر فائزہیں اس کے باوجود علم حاصل کرنے میں بالکل عار محسوس نہیں کی ! اور استفادہ و حصولِ علم کے لیے طویل سفر کیابلکہ یہاں تک فرمایا کہ میں مجمع البحرین پہنچنے تک سفر کرتا رہوں گاچاہے مجھے کئی حقب ہی کیوں نہ چلنا پڑے ! کَمَا قَالَ تَعَالٰی ( وَاِذْ قَالَ مُوْسٰی لِفَتٰہُ لَآ اَبْرَحُ حَتّٰی اَبْلُغَ مَجْمَعَ الْبَحْرَیْنِ اَوْ اَمْضَِی حُقُبًا ) ١
حافظ ابن عبد البر نے سند کے ساتھ ابن ابی غسان کاقول ذکرفرمایا ہے :
قَالَ عُبَیْدُ بْنُ مُحَمَّدِ الْکِشْوَرِیْ : سَمِعْتُ ابْنَ اَبِیْ غَسَّانَ یَقُوْلُ: لَا تَزَالُ عَالِمًا مَاکُنْتَ مُتَعَلِّمًا ، فَاِذَا اسْتَغْنَیْتَ کُنْتَ جَاہِلًا۔ ٢
'عبید بن محمد کشوری فرماتے ہیں میں نے ابن ابی غسان کوفرماتے ہوئے سنا کہ جب تک آپ حصولِ علم میں لگے رہیں گے تو عالم شمار ہوں گے لیکن جب استغنا ء اور بے پرواہی پر اُتر آئے تو اُس وقت آپ جاہل شمار ہوں گے'
بہرحال مستفید کو چاہیے کہ ان باتوں سے خوب نصیحت حاصل کرے اوراستفادہ کو تر ک نہ کرے چاہے وہ کتنے ہی بلند مقام و مر تبہ پر فائز ہو ! استفادہ سے اس کے مرتبہ میں کمی نہیں بلکہ ترقی ہوگی !
جناب رسول اللہ ۖ نے ارشاد فرمایا مَنْ تَوَاضَعَ لِلّٰہِ رَفَعَہُ اللّٰہُ ، وَمَنْ تَکَبَّرَ وَضَعَہُ اللّٰہُ ٣
'جو اللہ کے لیے جھکتاہے اللہ تعالیٰ اُس کا مقام بلند کردیتے ہیں اور جو تکبرکر تا ہے اللہ تعالیٰ اُس کا مقام پست کردیتے ہیں'
اور اگر استفادہ سے مانع مستفادمنہ کی کم سنی ہوتو ذہن نشین کرنا چاہیے کہ نبی کریم ۖ کامبارک فرمان ہے
اَلْکَلِمَةُ الْحِکْمَةُ ضَالَّةُ الْمُؤْمِنِ حَیْثُ مَا وَجَدَہَا فَہُوَ اَحَقُّ بِہَا ۔ ٤
'حکمت کا کلمہ مومن کی گمشدہ میراث ہے جہاں بھی وہ اس کو پائے وہ اس کا زیادہ مستحق ہوتاہے'
١ سُورة الکہف : ٦٠ ٢ جامع بیان العلم ج ١ ص ١٩٣ ٣ المعجم الاوسط ج ٥ ص ١٣٩
٤ سُنن ابن ماجہ باب الحکمة رقم الحدیث ٤١٦٩
اس حدیث شریف سے امام ابوبکر اِبن سنی استدلال کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
وینبغی للمتعلم ان یتلقف العلم من کل من وجد عندہ وان کان اصغر منہ اذا کان قد سبقہ بالعلم ۔ ١
'اور طالب ِعلم کے مناسب شان یہ ہے کہ وہ جس کے پاس بھی علم پائے اُس کو حاصل کرے اگرچہ وہ( معلم) اس (طالب )سے چھوٹا ہی کیوں نہ ہو بشر طیکہ وہ چھوٹا علم وکمال میں اس (طالب )سے آگے نکلنے والاہو'
شیخ عوامہ حفظہ اللہ 'معالم ارشادیة' میں لکھتے ہیں :
سئل ابوحنیفة : بم نلت ما نلت؟ فقال: ما بخلت بالافادة ، ولم استنکف عن الاستفادة۔ ٢
'امام ابوحنیفہ سے پوچھا گیا کہ اتنا علم آپ نے کیسے حاصل کیا ؟ تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے کبھی فائدہ پہنچانے میں بخل نہیں کیا ! اور فائدہ حاصل کرنے میں کبھی عار محسوس نہیں کی'
مستفید اگر ان باتوں میں غور کرے گا تو ان شاء اللہ اُس کے لیے کم سن اہلِ علم حضرات سے استفادہ کرنا آسان ہوگا ! اور اس سلسلہ میں اکابرین کے بہت سارے واقعات موجود ہیں کہ انہوں نے اپنے سے کم سن حضرات سے کیسے بلا جھجک استفادہ کیا اور بالکل عار محسوس نہیں کی حتی کہ حضراتِ صحابہ کرام نے تابعین سے روایات لی ہیں اور اس کو بلا جھجک آگے بیان کرتے تھے !
(٢) حیا ء :
مستفید مستفاد منہ کو حقیر تو نہیں سمجھتا اوراس کے علم وفضل کا معترف ہوتاہے لیکن یہ خیال کرتا ہے کہ اگرمیں ان سے سوال کروں یا ان کی مجلس میں بیٹھوں تو لوگ کہیں گے کہ یہ بھی ان سے استفادہ کررہا ہے تووہ لوگوں سے حیا ء کرتے ہوئے استفادہ ترک کردیتاہے !
١ ریاضة المتعلمین ص ٢٣٥ ٢ معالم ارشادیة ص ٢١٧
حیاء کا دوسرا رُخ یہ بھی ہوتا ہے کہ انسان مستفاد منہ سے حیاء کرتا ہے کہ اگر میں ان سے یہ سوال کروں تو وہ کہیں گے کہ اس کو اس بات کابھی علم نہیں ہے یا بسا اَوقات سوال اس قسم کا ہوتا ہے جس کو پوچھنے سے انسان شرم محسوس کرتاہے ! بہرحال اس قسم کی حیاء کی وجہ سے بھی انسان استفادہ نہیں کرپاتا !
علاج :
اگر استفادہ سے مانع حیاء ہو تو اس کا علاج یہ ہے کہ مستفید اِس بات کو سوچے کہ استفادہ سے حیا کرنے والا ہمیشہ جاہل رہتاہے جیسے ابھی ما قبل میں حضرت مجاہد رحمة اللہ علیہ کا قول ذکر کیاہے
لَا یَتَعَلَّمُ الْعِلْمَ مُسْتَحْی وَّلَا مُسْتَکْبِر۔
حضرت عمر بن عبد العزیز کا قول بھی اس کی تائید کرتا ہے :
قال عمر بن عبد العزیز : ما من شیء الا وقد علمت منہ الا اشیاء کنت استحیی ان اسئل عنہا فکبرت وفی جہالتہا ۔ ١
'حضرت عمر بن عبد العزیز نے فرمایا کوئی چیز ایسی نہیں جس کے متعلق میں نے علم حاصل نہ کیا ہو سوائے چند اشیاء کے کہ میں ان کے متعلق سوال کرنے سے حیا ء کرتا تھا چنانچہ میں بڑا ہوگیا اور اب بھی میرے اندر اُن اشیاء کی جہالت باقی ہے'
اس سے معلوم ہوتاہے کہ حیاء (بے جا) کبھی علم سے مانع ہوا کرتی ہے !
اور دوسری طرف انسان اگر حیا ء کو نظر انداز کرکے دین کے متعلق استفادے کے لیے تیار ہوجاتا ہے اور سوال کرتاہے تو یہ انتہائی قابلِ تعریف چیز ہے ! چنانچہ ابن ِعبد البر نے جامع بیان العلم میں سند کے ساتھ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کاقول ذکر کیا ہے۔
عَنْ عَائِشَة قَالَتْ : وَنِعْمَ النِّسَائُ نِسَائُ الْاَنْصَارِ لَمْ یَمْنَعْھُنَّ الْحَیَائُ اَنْ یَّتَفَقَّھْنَ فِی الدِّیْنِ ۔ ٢
'حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ انصار کی عورتیں کتنی اچھی ہیں، دین کے متعلق سوال کرنے اور اس میں فقاہت حاصل کرنے سے ان کو حیاء مانع نہیں ہوتی'
١ جامع بیان العلم و فضلہ ج ١ ص ١٨١ ٢ جامع بیان العلم و فضلہ ج ١ ص ١٧٧
ان باتوں کے استحضار سے مستفید میں یہ مرض جو اُس کو اِستفادہ سے منع کررہا ہے ان شاء اللہ ختم ہوجائے گا
(٣) غفلت : مستفید مستفاد منہ کو نہ حقیر سمجھتا ہے اور نہ ہی استفادہ سے اس کو حیاء مانع ہوتی ہے بلکہ وہ استفادہ کودرست سمجھتا ہے لیکن جاننے کے باوجود محض غفلت و سستی کی وجہ سے استفادہ نہیں کر پاتا اور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ان حضرات کے علوم وفیوض اور تجربات سے محروم ہوجاتاہے ! ! !
علاج : استفادہ سے مانع جب سستی ہو تو سمجھ لینا چاہیے کہ سستی کا علاج چستی ہے اور چستی پیدا کرنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ اپنے اکابرین کی زندگیاں ، ان کا حصولِ علم میں اپنے آپ کو کھپانا، طلب علم کا ذوق و شوق اور بالخصوص محدثین نے حصولِ علم حدیث میں کس طرح مشقتیں برداشت کیں ، ان کو عمل کی نیت کے ساتھ پڑھنے اور مطالعہ کرنے سے ان شا اللہ سستی دُور ہوجائے گی اور ان حضرات کی راہوں پر چلنے کا جذبہ پیدا ہوگا اور استفادہ کا راستہ ہموار ہوجائے گا ! ! !
خلاصہ : خلاصہ یہ کہ انسان اپنی زندگی میں موجود اَکابر ہستیوں کے علم اور تجربات سے فائدہ اُٹھالے اور اس میں ہر گز کوتاہی نہ کرے ! ورنہ زندگی بھر کف ِافسوس ملتا رہے گا اور اگر موانع استفادہ میں سے کوئی مانع اپنے اندر محسوس کرے تو اس کا فوری علاج کرکے اُس مانع کودُور کرے اور اپنے لیے استفادہ کاراستہ ہموار کرے ! ! !
استفادہ کرنے کے طریقے :
عام طور پر جن طریقوں سے استفادہ کیا جاتاہے وہ تین ہیں :
ّّ(١) استفادہ بالصحبة : استفادہ کا سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ انسان حضراتِ اکابرین کی صحبت میں کچھ وقت گزارکر فائدہ حاصل کرے ! تاکہ جو علم حاصل کرے اس کو عملی شکل میں بھی اچھی طرح دیکھ لے ! اور شیخ کے کردار، اخلاق، حسنِ سیرت ، تقو ی اور للہیت پر خوب واقفیت حاصل کرلے ! چونکہ ان تمام چیزوں پر اطلاع دیکھنے اور صحبت اختیار کرنے کے بغیر نہیں ہو سکتی اس لیے سب سے بہتر یہ ہے کہ شیخ کی صحبت میں کچھ وقت رہ کر اِستفادہ کرے ! ! !
(٢) استفادہ بالسوال : دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آدمی اُن اکابرین کے پاس جاکر زیارت ، مصافحہ، اجازتِ حدیث اورجس فن میں وہ مہارت رکھتے ہوں اس کے متعلق سوال کرے اور ان کے تجربات سے فائدہ اُٹھائے ! کیونکہ ہر آدمی کے لیے ہر شیخ کی صحبت اختیار کرنا ممکن نہیں ہے ! ! !
(٣) استفادہ بالخط والکتاب : استفادہ کا تیسرا طریقہ یہ ہے کہ ان حضرات سے خط وکتابت کے ذریعے تعلق قائم کرے ! اوراس طریقہ سے ان سے استفادہ کرتا رہے اور استفادہ کو کسی حال میں بھی ترک نہ کرے !
تنبیہ : استفادہ کے کچھ آداب مشترکہ ہیں جن کی رعایت رکھنا ہر مستفید کے لیے ضروری ہے چاہے وہ جس طریقہ سے بھی استفادہ کرنا چاہتاہو ! ان میں سے چند ایک کاذکر درج ذیل ہے :
استفادہ کرنے کے مشترکہ آداب :
وہ آداب جن کا لحاظ رکھنا ہر مستفید کے لیے ضروری ہے اور ان کے بغیر علم کے نور کاحصول مشکل ہے وہ درج ذیل ہیں :
(١) اخلاصِ نیت :
اللہ تعالیٰ کے ہاں حصولِ علم کا اجر پانے ، علم کانور حاصل کرنے اور وبال سے بچنے کے لیے اخلاصِ نیت از حد ضروری ہے ! ! یہ صرف حصولِ علم کے لیے ہی نہیں بلکہ ہرنیک کام کا اجر اخلاصِ نیت پر موقوف ہے جیساکہ رسول اللہ ۖ نے ارشاد فرمایا : اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ ١ اعمال کا دار ومدار نیتوں پر ہے ! اگرکسی نیک کام میں کوئی دنیوی غرض شامل ہو تویہ عمل ثواب کی بجائے وبال کا سبب ہوسکتا ہے ! اور بالخصوص تعلیم وتعلّم کے معاملے میں دنیوی غرض تو بہت بڑے وبال کاسبب ہے ! ! ! جناب نبی کریم ۖ نے ارشاد فرمایا : من طلب العلم لیجاری بہ العلماء او لیماری بہ السفہاء او یصرف بہ وجوہ الناس الیہ ادخلہ اللّٰہ النار ۔ ٢
١ صحیح البخاری باب کیف کاب بدء الوحی رقم الحدیث ١
٢ الجامع الکبیر سُنن ترمذی باب ما جاء فیمن یطلب بعلمہ الدنیا رقم الحدیث ٢٦٥٤
'جو شخص علم اس نیت سے حاصل کرے کہ اس کے ذریعے علماء کے پڑوس میں بیٹھے یا جاہلوں سے جھگڑا کرے یا لوگوں کو اپنی طرف مائل کرے تو اللہ تعالیٰ اس کو جہنم میں داخل کریں گے '
اس لیے ہر طالب ومستفید کو چاہیے کہ سب سے پہلے اپنی نیت کوخالص کرے اور باربار اِس کا استحضار کرتارہے ! حضرت لقمان حکیم نے اپنے بیٹے کو نصیحتیں فرمائی تھیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے جیسا کہ زید بن اسلم نے نقل فرمایا :
عن زید بن اسلم، ان لقمان قال لابنہ : یا بنی لا تتعلم العلم لثلاث ولا تدعہ لثلاث: لا تتعلمہ لتماری بہ، ولا لتباہی بہ ، ولا لترائی بہ ولا تدعہ زہادة فیہ، ولا حیاء من الناس، ولا رضا بالجہالة۔ ١
'زید بن اسلم کہتے ہیں کہ لقمان حکیم رحمہ اللہ نے اپنے بیٹے سے فرمایا اے میرے پیارے بیٹے ! علم تین چیزوں کی خاطر حاصل نہ کرنا اور نہ تین چیزوں کی وجہ سے چھوڑنا ،جھگڑا کرنے ، فخر کرنے اور اپنا آپ دکھلانے کے لیے علم حاصل نہ کرنا، اور اس سے اعراض کرنے ، لوگوں سے حیا کرنے اور جہالت پر راضی رہنے کی وجہ سے اِسے مت چھوڑنا'
(٢) تواضع اختیار کرنا :
طالب علم ومستفید کے لیے لازم ہے کہ شیخ کی موجودگی و عدم موجودگی میں اور ظاہراًاورباطناً ہر اِعتبار سے تواضع کے ساتھ پیش آئے ! کیونکہ تواضع کے بغیر علم نافع کا حصول مشکل ہے
عن الشعبی قال رکب زید بن ثابت فاخذ ابن عباس برکابہ فقال لہ لا تفعل یا ابن عم رسول اللّٰہ ۖ قال : ہٰذا امرنا ن نفعل بعلمائنا ۔۔۔۔ الحدیث ٢
١ جامع بیان العلم و فضلہ ج ١ ص ٢١٢ ٢ المجالسة و جواہر العلم الجزء التاسع ص ٢٨٨
'امام شعبی سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضرت زید بن ثابت سوار ہوئے توحضرت ابن عباس نے ان کی سواری کی لگام پکڑلی ! تو حضرت زید بن ثابت نے ان سے فرمایا اے رسول اللہ ۖ کے چچا کے بیٹے ایسا نہ کرو ! تو حضرت ابن عباس نے جواب دیا کہ ہمیں علماء کے ساتھ ایساہی کرنے کا حکم دیا گیا ہے'
حضرت عبد اللہ بن عباس ، حضرت زید بن ثابت کے شاگرد ہیں، انہوں نے اپنی جلالت ِشان کے باوجود اپنے اُستاذ کے ساتھ تواضع کا معاملہ فرمایا ! جناب نبی کریم ۖ نے بھی طلبا ء کو اَساتذہ کے ساتھ تواضع کا معاملہ اختیار کرنے کا حکم دیا !
عن ابی ہریرة قال قال رسول اللّٰہ ۖ تعلموا العلم ، وتعلموا للعلم السکینة ، والوقار، وتواضعوا لمن تعلمون منہ ۔ ١
'حضرت ابو ہریرہ سے مروی ہے انہوں نے فرمایا کہ جناب رسول اللہ ۖ نے ارشاد فرمایا : علم حاصل کرو اور علم کے لیے اطمینان ووقار حاصل کرو اور جن سے تم علم حاصل کرو اُن سے تواضع کے ساتھ پیش آئو'
(٣) صبر و اِستقامت کا مظاہرہ کرنا :
طالب ومستفیدکو چاہیے کہ طلب ِعلم واِستفادہ میں استقامت وصبرکا مظاہرہ کرے ! ! کسی مسئلہ کی طلب میں وقت کے زیادہ لگنے سے دل کو تنگ نہ کرے اور اُکتائے نہیں بلکہ مسلسل تلاش وجستجو میں رہے ! ! یونس بن یزید کو اِبن شہاب نے اسی قسم کی نصیحت فرمائی تھی :
عن یونس بن یزید قال: قال لی ابن شہاب(یا یونس لا تکابر العلم ، فان العلم اودیة، فایہا اخذت فیہ قطع بک قبل ان تبلغہ ، ولکن خذہ من الایام واللیالی، ولا تاخذ العلم جملة، فان من رام اخذہ جملة ذہب عن جملة ، ولکن الشیٔ بعد الشیٔ مع اللیالی والایام ۔ ٢

١ المعجم الاوسط للطبرانی ٦/٢٠٠ رقم الحدیث ٦١٨٤ ٢ جامع بیان العلم و فضلہ ١/٢٠٦
'یونس بن یزید سے مروی ہے انہوں نے فرمایا کہ مجھ سے ابن شہاب نے فرمایا : اے یونس علم کو بڑا مت خیال کرو ! اس لیے کہ علم کے کئی میدان ہیں ،جس میدان میں تو داخل ہوگا اُس کی انتہا تک نہیں پہنچ پائے گا ! لہٰذا علم کو روزانہ تھوڑا تھوڑا کرکے لینے کی کوشش کرو ! اور ایک ہی مرتبہ لینے کی خواہش مت کرو، اس لیے کہ جو علم کوایک ہی مرتبہ لینے کی کوشش کرتاہے تو وہ بالکل حاصل نہیں کرپاتا '
اسی طرح فارسی کا ایک جملہ ہے ہرچہ زود بر آید دیر نپاید جوچیز جلدی آتی ہے وہ دیر تک نہیں رہتی
(٤) اُستاذ کے لیے دُعا کرنا :
طالب ِعلم اور مستفید کو چاہیے کہ اپنے اُستاذ اور شیخ کے لیے ہمیشہ دعا کرتا رہے ! اس سے اُس کا علم بابرکت اور نافع بھی بنے گا اور نورانیت بھی نصیب ہوگی ! حضراتِ اکابرین اس بات کا بہت اہتمام کرتے تھے چنانچہ چند مثالیں آپ کے سامنے پیش کی جاتی ہیں :
قال الامام ابوحنیفة رحمہ اللّٰہ : ما مددت رجلی نحو دار استاذی حماد اِجلالا لہ ، وکان بین داری ودارہ سبع سکک ، وما صلیت صلاة منذمات حماد الا استغفرت لہ مع والدی، وانی لاستغفر لمن تعلمت منہ او علمنی علما۔ ١
'امام ابو حنیفہ نے فرمایا : میں نے اپنے اُستاذ اِمام حماد کی تعظیم میں کبھی ان کے گھر کی طرف اپنے پائوں کو لمبا نہیں کیا جبکہ میرے اور اُن کے گھر کے درمیان سات گلیوں کا فاصلہ تھا ! اور امام حماد کی وفات کے بعد سے جب بھی میں نے نماز پڑھی ہے تو اپنے والدین کے ساتھ اِمام حماد کے لیے بھی بخشش کی دعا کی ہے ! اور بلا شبہ میں اُن سب کے لیے بخشش کی دعاکرتا ہوں جن سے میں نے علم حاصل کیا یا اُنہوں نے مجھے کوئی علم سکھایا'
وقال ابو یوسف تلمیذ ابی حنیفة : ( انی لأدعو لابی حنیفة قبل ابویَّ، ولقد سمعت اباحنیفة یقول : انی لأدعو لحماد مع ابویَّ ۔ ٢
١ الاعلام بحرمة اہل العلم و الاسلام ص١٩٥ ٢ ایضًا
'امام ابو حنیفہ کے شاگرد اِمام ابو یوسف فرماتے ہیں کہ میں امام ابو حنیفہ کے لیے اپنے والدین سے پہلے دعا کرتا ہوں اور بلا شبہ میں نے ابوحنیفہ سے یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میں اِمام حماد کے لیے اپنے والدین کے ساتھ دعا کرتاہوں'
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے اساتذہ ومشائخ سے استفادہ کرنے اوران کے آداب کی رعایت کرنے کی توفیق عطا فرمائیں،آمین



قارئین اَنوارِمدینہ کی خدمت میں اپیل
ماہنامہ انوارِ مدینہ کے ممبر حضرات جن کو مستقل طورپر رسالہ اِرسال کیا جارہا ہے لیکن عرصہ سے اُن کے واجبات موصول نہیں ہوئے اُن کی خدمت میں گزارش ہے کہ انوارِ مدینہ ایک دینی رسالہ ہے جو ایک دینی ادارہ سے وابستہ ہے اِس کا فائدہ طرفین کا فائدہ ہے اور اِس کا نقصان طرفین کا نقصان ہے اس لیے آپ سے گزارش ہے کہ اِس رسالہ کی سرپرستی فرماتے ہوئے اپنا چندہ بھی ارسال فرمادیں اوردیگر احباب کوبھی اِس کی خریداری کی طرف متوجہ فرمائیں تاکہ جہاں اِس سے ادارہ کو فائدہ ہو وہاں آپ کے لیے بھی صدقہ جاریہ بن سکے۔(ادارہ)

دارُالافتاء
( حضرت مولانا مفتی محمد زبیر حسن صاحب ، مفتی ومدرس جامعہ مدنیہ جدید )

السلام علیکم ! محترم مفتی صاحب کیا فرماتے ہیں مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ آج کل مارکیٹ میںموزے کے علاوہ ریگزین کے موزے اور کپڑے کی بھی کچھ جرابیں ایسی مل رہی ہیں جن کے بارے میں دُکانداروں کا کہنا ہے کہ اِن پر مسح کرنا جائز ہے ! آپ شرعی اعتبار سے رہنمائی فرمائیں کیا ان کو ہم استعمال کر سکتے ہیں ؟
الجواب
بِسْمِ اللّٰہِ حَامِدًا وَّمُصَلِّیًا جاننا چاہیے کہ چمڑے کے موزوں کی تین اقسام ہیں :
(١) خُفَّیْنْ : جو مکمل چمڑے کے ہوں
(٢) مُجَلَّدَیْنْ : جن کے قدم کے اوپر اور نیچے والے چمڑے کے ہوں
(٣) مُنَعَّلَیْنْ : جن کے صرف نچلے حصے پر چمڑا ہو
ان تین قسم کے موزوں پر فقہا ئِ احناف کے ہاں بالاتفاق مسح کرنا جائز ہے ! البتہ اگر موزے چمڑے کے نہ ہوں بلکہ ریگزین یا کپڑے وغیرہ کے ہوں تو ان پر مسح کرنے کے لیے تین شرطیں ہیں :
(١) ایسے شخین (موٹے) ہوں کہ اِن میں پانی نہ چھنے یعنی ان پر پانی ڈالا جائے تو پاؤں تک نہ پہنچے !
(٢) مضبوط ہوں کہ کم از کم تین میل تک چلا جاسکتا ہو !
(٣) کسی چیز سے باندھے بغیر اپنے موٹاپے اور سختی کی وجہ سے پنڈلی کے ساتھ قائم ہوں اور یہ قائم رہنا کپڑے کی تنگی اور چستی کی وجہ سے نہ ہو !
یہ تین شرطیں جس موزے (کپڑے یا ریگزین وغیرہ) میں پائی جائیں اس پر مسح کرنا جائز ہے ! لیکن اس میں صرف دُکانداروں کی بات پر اعتماد نہ کیا جائے بلکہ خود اِن تین شرطوں کے مطابق اچھی طرح دیکھ لیا جائے یا پھر کسی ماہر مفتی صاحب کو دِکھا کر موزوں کو استعمال کیا جائے تاکہ نماز جیسی اہم عبادت ضائع نہ ہو !
چنانچہ فتح القدیر (ج١/ ص ٨٠،١٠٩) میں ہے :
ولا یجوز المسح علی الجوربین عند ابی حنیفة رحمہ اللّٰہ الا ان یکونا مجلدین او منعلین، وقالا : یجوز اذا کانا ثخینین لا یشقان) لما روی ان النبی ۖ مسح علی جوربیہ ، ولأنہ یمکنہ المشی فیہ اذا کان ثخینا، وھو أن یستمک علی الساق من غیر ان یربط بشی فاشبہ الخف .......... وعنہ انہ رجع الی قولھما وعلیہ الفتوی ۔
اور النھر الفائق (ج١ ص ١٢٢ ،١٢٣ ) میں ہے :
وصح علی الموق والجورب المجلد والمنعل الثخین۔ ( کنز الدقائق )
(الثخین) الذی لیس مجلدا ولا منعلا بشرط ان یتمسک علی الساق بلا ربط ولا یری ما تحتہ لصدق اسم الخف علیہ بامکان تتابع المشی فیہ وھذا قولھما و روی رجوع الامام الیہ قبل موتہ بثلاثة ایام وقیل بسبعة وعلیہ الفتوی لما ثبت من انہ علیہ الصلٰوة والسلام مسح علی الجوربین قید بالثخین لان الرقیق من شعر وصوف لا یجوز المسح علیہ بلا خلاف
کتبہ محمد زبیر حسن


دارُ الافتا ء جامعہ مدنیہ جدید

الجواب صحیح محمد آباد ١٩ کلو میٹر رائیونڈ روڈ لاہور پاکستان
خالد محمود


٩ جمادی الاولیٰ ١٤٤٤ھ/٤ دسمبر ٢٠٢٢ء

معصیت اور اُ س کے اثرات
( حضرت مولانا ظفیر الدین صاحب )
ض ض ض
اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کے احکام سے رُو گردانی کائنات ِ انسانی کا سب سے بڑا جرم ہے اور ہر شخص جانتا ہے کہ مجرم سزا کا مستحق ہوتا ہے ! ہمارا عقیدہ ہے کہ ہمارا کوئی عمل اللہ تعالیٰ سے پوشیدہ نہیں ہے اس کے لکھنے والے ہر وقت اپنا دفتر مرتب کر رہے ہیں ! رب العزت کے فرشتے دن رات ہمارے ساتھ لگے ہیں اور ہم جو کچھ کرتے رہتے ہیںوہ ان کو برابر لکھ رہے ہیں اور وہی لکھتے ہیں جو ہم کرتے ہیں ،کوئی کمی بیشی وہ اپنی طرف سے ہر گز نہیں کرتے ! قیامت کا دن جو بدلے کا دن ہے، ساری رُودادِ عمل سامنے پیش کی جائے گی ان جرائم کی سزا انسان کوصرف آخرت میں ہی نہیں ملے گی بلکہ قرآن و حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آخرت سے پہلے بھی گناہوں کی سزا مل سکتی ہے، دنیا کے اندر آئے دن جو فتنے فساد برپا ہوتے رہتے ہیں اور دن رات جیسے کچھ فساد اور مصائب کی بوچھاڑیں آتی رہتی ہیں یہ سب کی سب انسانی اعمال کی پاداش میں ہوا کرتی ہیں، انسان کے اعمال اور اخلاق میں اگر انقلاب نہ ہوتا اور وہ اطاعت وعبادت کی راہ سے نہ ہٹتا تو شاید موجودہ مصائب کا سامنا نہ کرنا پڑتا ارشادِ باری ہے :
( ظَھَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا کَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ) (سُورة روم : ٤١)
'لوگوں کے ہاتھوں کی کمائی کے نتیجہ میں خشکی و تری میں فساد پھیل پڑا'
کفروشرک، عصیان وطغیان اور اعمال واخلاق کی پستی کی وجہ سے فتنہ و فساد کے چشمے اُبل پڑے ! ملکوں اور جزیروں میں خرابی پھیلی گئی ! دنیا کا امن و سکون ناپید ہوگیا ! خشکی سے لے کر سمندروں تک میں جنگ کے شعلے بھڑک اُٹھے ! مارپیٹ، کاٹ مار اور قتل وخونریزی سے کوئی چپہ محفوظ نہ رہ سکا اور یہ جو کچھ ہے سب ہماری بداعمالیوں کی سزا کا ادنیٰ نمونہ ہے پوری سزا تو آخرت میں ملے گی اور یہ نمونہ نہ صرف اس لیے دکھایا گیا ہے کہ ممکن ہے کچھ لوگ یہ دیکھ کر ڈریں اور عبرت و بصیرت حاصل کریں
دوسری آیت میں ہے :
( وَمَا اَصَابَکُمْ مِّنْ مُّصِیْبَةٍ فَبِمَا کَسَبَتْ اَیْدِیْکُمْ وَ یَعْفُوْا عَنْ کَثِیْرٍ ) ١
'جو تم پرمصیبت پڑی وہ تمہارے ہاتھوں کی کمائی کا بدلہ ہے اور وہ بہت سے گناہوں کو معاف کردیتا ہے'
یعنی انسان مصیبتوں اور آفتوں کے جن طوفانوں سے ہو کر گزر رہے ہیں ان کے اسباب خود ان کے ہاتھوں نے فراہم کیے ہیں اور موجودہ مصائب کی وجہ خود اُن کے برے اعمال واخلاق ہیں اور پھر رحمتِ الٰہی نے ترس کھایا ہے ورنہ معلوم نہیں کیا حال ہوتا ! بہت سے گناہوں سے تو در گزر فرمایا گیا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے یہ مسئلہ بھی صاف طور پر بیان کردیا ہے کہ وہ نعمت کی جگہ زحمت کب پیدا کرتا ہے اور انعام واکرام کی نوازش کب بند کردیتا ہے ارشادِ ربانی ہے :
( ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ لَمْ یَک ُ مُغَیِّرًا نِعْمَةً اَنْعَمَھَا عَلٰی قَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِھِمْ وَاَنَّ اللّٰہَ سَمِیْع عَلِیْم ) ٢
'اس کا سبب یہ ہے کہ اللہ اس نعمت کو جو کسی قوم کو دی تھی ہر گز بدلنے والا نہیں ہے جب تک وہی اپنے جیون کی بات بدل نہ ڈالیں اور یہ کہ اللہ سننے والا ہے'
معلوم ہوا کہ پہلے انسان کی نیت واعتقاد اور اس کے اعمال واخلاق میں بے اعتدالی پیدا ہوتی ہے ! اور یوں رفتہ رفتہ اس کے فطری استعداد اور صلاحیت میں انقلاب آتا ہے تو کہیں جاکر احکم الحاکمین نعمتوں کو سلب کرتا ہے اور انعام اکرام کی جگہ شانِ انتقام پیدا کرتا ہے ! ایک جگہ ارشاد ہے :
( وَ ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلًا قَرْیَةً کَانَتْ اٰمِنَةً مُّطْمَئِنَّةً یَّاْتِیْھَا رِزْقُھَا رَغَدًا مِّنْ کُلِّ مَکَانٍ فَکَفَرَتْ بِاَنْعُمِ اللّٰہِ فَاَذَاقَھَا اللّٰہُ لِبَاسَ الْجُوْعِ وَ الْخَوْفِ بِمَا کَانُوْا یَصْنَُوْنَ ) ٣
'اللہ نے ایک مثال بتلائی کہ ایسی بستی چین اور امن سے تھی، ہر جگہ سے اس کو فراغت کی روزی چلی آتی تھی پھر اُس نے اللہ کے احسانوں کی ناشکری کی تو اللہ نے اس کو مزہ چکھایا کہ بھول اور ڈر اُس کے بدن کے کپڑے ہوگئے، یہ اس کا بدلہ ہے جو وہ کرتے تھے' ١ سُورة الشوریٰ : ٤٤ ٢ سُورة الانفال : ٣٣ ٣ سُورة النحل : ١١٢
یہ قرآن کی مثال کتنی واضح ہے اور رب العزت نے کتنا عمدہ نقشہ کھینچا ہے، جو دلیل ہے کہ انسانوں پر مصائب اور طرح طرح کے عذاب وشدائد اُس وقت آتے ہیں جب خود بھی کفرانِ نعمت اور ناشکری پر اِتر اتا ہے۔
ان ساری آیتوں کے پیش کرنے کا مقصد یہ ہے کہ دنیا میں جتنے مصائب وشدائد اور جس طرح کے عذاب وآفت کا نزول ہوتا ہے وہ انسان کے اعمال واخلاق اور نیت واعتقاد کے فتور اور کمزوری کا نتیجہ ہے ! دوسرے لفظوں میں یوں کہیے کہ اطاعت وعبادت سے رُوگردانی اور معصیت کے ارتکاب کے اثرات ہیں جو آئے دن ہمیں زندگی میں پیش آتے رہتے ہیں ! نیز اِس وقت یہ بھی ثابت کرنا ہے کہ ہم جو کچھ کرتے ہیں اُس کا بدلہ ہمیں کسی نہ کسی شکل میں ضرور ملا کرتا ہے اور یہ بدلہ دنیا میں بھی ملتا ہے اور آخرت میں بھی ! پھر دنیا جو کچھ اعمالِ بد کے نتائج پیش آتے ہیں ان کا بڑا مقصد یہ ہوتا ہے کہ ہم انسان اپنے برے اعمال واخلاق اور نیات واعتقادات کا یہ پھل چکھ کر اپنے برے کاموں سے باز آجائیں اور اس اصلاحِ حال کی پوری کوشش کریں۔
یہ اصولِ قرآنی جب سمجھ میں آگیا تو اب آئیے معصیت کے اثرات ملاحظہ فرمائیے کہ دنیا میں اس کا کیا اثر پڑتا ہے ! حافظ ابن القیم نے اپنی کتاب 'الجواب الکافی' میں معاصی کے نقصانات بڑی تفصیل سے بیان کیے ہیںاُن میں سے چند کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔
رسولِ اکرم ۖ کا گزر ایک دفعہ' دیارِ ثمود' سے ہوا تو آپ نے صحابہ کرام میں اعلان فرمادیا کہ اللہ تعالیٰ کے عذا ب کو یاد کر کے روتے ہوئے چلو ! اور خبردار اِس دیار کا پانی تک استعمال نہ کرو ، حتی کہ یہاں کے پانی سے جو آٹا گوندھا گیا تھا اس کے متعلق فرمایا کہ 'خبردار ہے اسے اُونٹ کو بھی نہ کھلائو حدیث کا یہ واقعہ بتاتا ہے کہ معصیت اور نافرمانی کی وجہ سے جو اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوتا ہے اس عذاب کا اثر وہاں کی ہر ہر چیز میں ہوجاتا ہے پانی جیسی عام منفعت کی چیز بھی عذاب کے اثر سے نہیں بچا کرتی !
اُوپر کے واقعہ میں جس طرح آپ نے پڑھا کہ پانی میں عتاب و عذابِ الٰہی کا اثر ہوتا ہے اسی طرح کبھی ایسا ہوتا ہے کہ معصیت کا اثر، پھل، میوہ اور غلہ پر بھی پڑا کرتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اُس کی ہر طرح کی برکت جاتی رہتی ہے ! پیداوار میں خاصی کمی ہوجاتی ہے ! آسمانی آفات کا نزول ہوتا ہے جس سے ساری فصل برباد ہوجاتی ہے ! کبھی قحط پڑتا ہے جس سے کھیتی جل جاتی ہے ! کبھی سیلاب آتا ہے جس سے فصل تہِ آب ہوجاتی ہے ! اور انسانوں میں 'بھوک بھوک' کی پکار ہوتی ہے ! جس کا اشارہ اُوپر کی آیتوں میں گزر چکا ہے اور تو اور حد یہ ہے کہ مصیبت اور گناہ کا اثر ظاہری شکل وجسامت پر بھی پڑتا ہے جس سے پھل چھوٹے ہوجاتے ہیں، غلوں کے دانہ کی جسامت میں کمی آجاتی ہے ! اور یہ کوئی افسانہ نہیں واقعہ ہے۔
'امام احمد ' نے اپنی مسند میں ایک حدیث کے ضمن میں تحریر فرمایا ہے کہ 'بعض بنو اُمیہ کے خزانہ میں ایک گیہوں کا دانہ میں نے پایا جو کھجور کی گٹھلی کے برابر تھا اور وہ ایک تھیلے میں بحفاظت رکھا ہوا تھا جس پر یہ لکھا تھا کہ 'یہ عدل کے زمانہ کی پیداوار ہے' (الجواب الکافی ص ٨٥)
یہ بیان کس قدر ذمہ دار بزرگ کا ہے ؟ پس اس کے بعد کیا شبہ ہوسکتا ہے ! معلوم ہوا احکامِ خداوندی سے رُو گردانی آفتوں کا پیش خیمہ ہے ! عدل وانصاف کی جگہ جب جورو ظلم نے لی تو قدرت کی طرف سے برکت اُٹھالی گئی۔ آج کل کے گیہوں کے دانے اور عدل و انصاف کے زمانہ کے گیہوں میں باعتبارِ جسامت کتنا عظیم الشان فرق رونما ہوگیا ہے ! 'حافظ ابن القیم ' نے 'شیوخِ سحرا' کی روایت سے بیان کیا ہے کہ پھلوں کی جسامت میں نسبتاً بڑا فرق پیدا ہوگیا ہے، پہلے بہت بڑے پھل ہوا کرتے تھے (حتیٰ کہ پھلوں وغیرہ کا ذائقہ تک گناہوں کے اثرات سے محفوظ نہیں رہا )
آج کل جو لوگ بوڑھے اور بڑی عمر کے رہ گئے ہیں ان سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ نصف صدی پہلے انار وغیرہ پھلوں میں باعتبارِ جسامت کافی فرق آگیا ہے، جتنے بڑے پھل کے دانے پہلے ہوتے تھے اب باقی نہیں رہے، باقی پیداوار کی قلت، تو یہ مسئلہ اس قدر عیاں ہے کہ دلیل کی ضرورت ہی نہیں، کسان کے بچے بچے کی زبان سے سن لیجیے کہ پیداوار پہلے کی نسبت برائے نام رہ گئی ہے اور ہر سال کمی ہی واقع ہوتی جارہی ہے۔
خود رسول اللہ ۖ کے بیان سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ ظلم و جور اور فسق و فجور کا اثر ہے کہ پھلوں کی جسامت مختصر ہوگئی، اور جب کبھی رُوئے زمین مصیبت اور نافرمانی کی گندگیوں سے پاک ہوگی تو ساری برکتیں عود کر آئیں گی۔
ترمذی شریف میں آنحضرت ۖ کا ارشاد منقول ہے جس کا مفہوم یوں ہے : (قیامت کے قریب زمانے میں) جب اللہ تعالیٰ زمین کو ظلم، خیانت اور بدکاری سے پاک کرنا چاہے گا تو اہلِ بیت نبی میں سے اپنے ایک بندے سے کام لے گاوہ زمین کو انصاف سے بھردے گا یہود و نصاریٰ قتل ہوں گے اور دین صحیح رنگ میں جاری ہوگا ! (ایسے میں) زمین پھر برکتوں سے مالا مال ہوگی حتیٰ کہ ایک انار پوری جماعت کے لیے کافی ہوگا اور انگور کا ایک گچھا اتنا وزنی ہوگا جتنا وزن اُونٹ اُٹھا سکتا ہے ! اسی طرح ایک اُونٹنی کا دودھ ایک جماعت کو کافی ہوگا۔
معلوم ہوا ظالموں کا ظلم، خائنوں کی خیانت اور بدکاروں کی بدی نے زمین سے برکتوں کو فنا کردیا ہے ! اور پھر اُس وقت تک زمین کی یہ برکت لوٹ کر نہ آئے گی جب تک رُوئے زمین ان گندیوں سے پاک نہ کردی جائے ! اور عدل و انصاف، اطاعت وعبادت اور اَمربالمعروف اور نہی عن المنکر کی کار فرمائی نہ ہو ! انسان جب احکامِ الٰہی کی پابندی نہیں کرتا، عبادت واطاعت کا حق ادا نہیں کرتا اور مشکوةِ نبوت کی روشنی پاتے ہوئے راہِ راست سے بھٹک جائے تو بہت سی نعمتوں کا دروازہ بند ہوجا تا ہے اور لعنت وعذاب کی بارش اُمنڈ اُمنڈ کر بر سنے لگ جاتی ہے۔ حدیث قدسی میں ہے : 'میرے عزت و جل
ال کی قسم کوئی بندہ جب اُس کام کو چھوڑ کر جس کو میں پسند کرتا ہے ایسے کام میں لگ جاتا ہے جو مجھے پسند نہیں تو میں بھی اس کے محبوب کام کو بند کردیتا ہوں اور ناگوارِ خاطر کا دروازہ کھول دیتا ہوں '




معلوم ہوا کہ جب طاعت کی جگہ معصیت، شکر کے بجائے ناشکری اور رضاطلبی کے مقام میں باعث ِ غضب اُمور انجام دیے جاتے ہیں تو رب العزت بھی انعام و اِکرام کی جگہ انتقام ،رحمت کی جگہ زحمت اور عافیت کی جگہ عقوبت کا منظر دکھاتا ہے، اور شوکت وعزت دیکھتے ہی دیکھتے ہیں ذلت ومسکنت میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ یہ ہر شخص کو یقین کر لینا چاہیے کہ دنیا کی اکثر و بیشتر مصیبتیں گناہ اوراللہ تعالیٰ کی رضا جوئی سے سرتابی کا نتیجہ ہیں، سچ فرمایا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے :
مَا نَزَلَ بَلَائ اِلَّا بِذَنْبٍ وَلَا رَفَعَ بَلَائ اِلَّا بِتَوْبَةٍ ۔ ( الجواب الکافی ص ٩٧ ) 'جو بھی بلا نازل ہوتی ہے اس کا سبب گناہ ہے اور یہ بلا صرف تو بہ سے دُور ہوتی ہے'
انسان اگر اس رمز کو یقین کے ساتھ سمجھ لیں تو وہ بہت ساری آفتوں اور مصیبتوں سے محفوظ ہوجائیں مگر افسوس صد افسوس وہ سارا فلسفہ سمجھ لیتے ہیں لیکن اس معاملہ میں اس کی نگاہ بہت کوتاہ ہوتی ہے جس کا نتیجہ ہے کہ وہ اس بنیادی اسباب وعلل تک نہیں پہنچ پاتا ہے۔
موجودہ خوف و ہراس جس کا گھر گھر چرچا ہے کس کی پیداوا ہے ؟ یہ سب معصیت اور کفرانِ نعمت ہی کے پیٹ سے پیدا ہوئے ہیں ،قلت وکثرت کا مسئلہ ایک موہوم مسئلہ ہے، اگر اس کی کوئی حقیقت ہوتی تو اوائلِ اسلام میں جو کچھ دینِ اسلام کے پیروکاروں کو ترقی ہوئی شاید نہ ہوتی !
واقعہ یہ ہے کہ بندہ جب خدا سے غافل ہوجاتا ہے اور اُس کی نافرمانی کو اپنا شعار بنالیتا ہے اور اُس کی اطاعت و عبادت سے منہ موڑ لیتا ہے تو قدرت کی طرف سے اس کی سزا یہ ہوتی ہے کہ خوف و ہراس اُس کے دل میں گھر کرلیتا ہے ! جہاں کوئی پتہ کھڑکھڑایا، اس کے چہرے کا رنگ فق ہوگیا، اطمینان وسکون جاتا رہا اور راہِ فرار کی فکر دامن گیر ہوگئی ! قرآن نے کتنی سچی حقیقت کا اعلان کیا : ( اَلَا بِذِکْرِ اللّٰہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ ) (سُورة الرعد : ٢٨ )
وجہ معلوم ہے کہ طاعت ِ الٰہی اور اُس کی رضا ایک عظیم الشان قلعہ ہے، جو اِس میں داخل ہوا وہ ہر آفت اور تمام خوف وہراس سے مطمئن ہوگیا ! نہ دنیا اور اُس کے مصائب کا خطرہ رہا اور نہ آخرت اور اس کے عذابِ الیم کا غم ارشاد باری تعالیٰ ہے ( لَاخَوْف عَلَیْھِمْ وَلَا ھُمْ یَحْزَنُوْن) ( البقرة : ٦٢ )
تاریخ بھی شاہد ہے اور موجودہ دور میں بھی ایسی مثالیں ملتی ہیں کہ قتل و خونریزی کے اوقات میں بھی فرمانبردار بندوں کے قدم نہ ڈگمگائے ! اور آگ اور خون کی بارش بھی ان کی ثبات قدمی میں لغزش پیدا نہ کر سکی ! مگر جونہی وہ دینی قلعہ سے باہر آئے سارا اَمن واَمان خوف و ہراس سے بدل گیا !
سچ تو یہ ہے کہ جو رب العزت کا ہوگیا اور اس سے ڈرا، ساری چیزیں اس کی فرمانبردار ہوگئیں اور اس کو تمام خوف و ہراس سے اَمن و سکون نصیب ہوگیا ! اور جس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی اور اس سے نہیں ڈرا، تمام مخلوق کے خوف میں گِھر گیا اور سکون واطمینان کھودیا ! جس کا وحشت ناک منظر کبھی یہ دیکھنے میں آیا ہوگا کہ معاصی و ذنوب میں ڈوبا ہوا متوحش اور پریشان حال ہے اس کا قلب وحشت کی وادی میں جاں بلب ہے ! یہ وحشت بھی اس کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان حائل نظر آئے گی ! کبھی اس کے اور مخلوق کے باہم کا فرما ہوگی اور کبھی وہ خود اپنی ذات سے وحشت محسوس کرتا ہوگا ! ! ! اور معصیت کی کثرت اور اُس کے اشتداد کے ساتھ وحشت کی شدت بھی ترقی پذیر ہوگی ! عقلمند وہ ہے جو اِن حالات پر گہری نظر رکھے۔
یہاں بھی بات وہی ہے کہ طاعت ربُ العزت کی قربت اور نزدیکی کا ذریعہ ہے اور قربت سے اُنس و محبت پیدا ہوا کرتی ہے ! اور معصیت خدا سے دُوری اور بُعد کو چاہتی ہے اور جوں جوں دُوری بڑھتی جائے گی، وحشت پیدا ہوتی جائے گی ! دنیا میں دیکھا گیا ہے کہ اغیار اور اعداء سے وحشت ہوتی ہے اور اَقرباء واَحباب سے اُنسیت و محبت ! اور یہی وجہ ہے گنہگار بندہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں معتوب ومردُود ہوتا ہے اور اُس کی نظرمیں حقیر وبے قیمت ! کیونکہ گناہ کر کے اس نے اپنے کو خدا سے دُور کر لیا ہے ! اور اس کی عدول حکمی کے جرم میں اس سے عزت ومکرمت چھین لی گئی ہے ! جس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ مخلوق کی نگاہ میں گرگیا ہے اور شریفوں کی محبت سے محروم ہے ! نہ کوئی اس کی عزت وتوقیر کرتا ہے اور نہ کوئی اسے اچھی نظر سے دیکھتا ہے ! سب کے دلوں میں اس کی طرف سے نفرت جاگزیں ہوچکی ہے ! ابھی منہ پر تو رُعب و دبدبہ کی وجہ سے برا نہیں کہتا مگر دل سب کا ہی پھرا ہوا ہے ! بدکار ،بدکردار، بد اَخلاق، بد معاملہ اور برے اعتقاد والے کو جس ذلت آمیز طریقہ پر ہم میں یاد کیا جاتا ہے وہ ہم سب کو معلوم ہے ! چور، ڈاکو، سود خور، مہاجن وظالم اور غیر منصف حکام عوام میں کیسی زندگی گزارتے ہیں یہ کس کو معلوم نہیں ؟ اور صحیح عزت و وقعت مل بھی کیسے سکتی ہے یہ تو نیک لوگوں کا حصہ ہے ! قرآن کا فیصلہ ہے : ( وَمَنْ یُّھِنِ اللّٰہُ فَمَا لَہ مِنْ مُّکْرِمٍ ) (سُورة الحج : ١٨ )
'جس کو اللہ ذلیل کرے اُس کو کوئی عزت دینے والا نہیں ہے' (مطبوعہ ماہنامہ انوار مدینہ اکتوبر ١٩٩٢ئ)
ٹیپو سلطان کی ریاست میں (١) 'صوبے دار' کا عہدہ گورنر کا عہدہ ہوتا تھا ! ١ انگریز نے ایک لیفٹیننٹ کے ماتحت عہدے کوصوبے دار کا نام دے دیا ! !
(٢) ٹیپو سلطان کے وزیرِ خوراک کے منصب کو' خانِ ساماں' کہا جاتا تھا ! انگریزوں نے اپنے باورچی کو' خانساماں' کہنا شروع کر دیا ! ! (٣)ٹیپو سلطان نے سلطنت ِعثمانیہ کے خلیفہ سے مدد چاہی تھی ! انگریزوں نے حجام کا نام 'خلیفہ ' رکھ دیا ! !
(٤)ٹیپو سلطان کے دربار میں پگڑی کو عزت اور فضیلت کی علامت سمجھا جاتا تھا ! انگریز نے نوکروں اور غلاموں کو پگڑی پہنا دی ! ! (٥)ٹیپو سلطان کی دور میں' جمعدار' ایک بہت بڑے پولیس افسر کا عہدہ تھا ! انگریوں نے خاکروب کو 'جمعدار' کا نام دے دیا ! !
(٦) بادشاہ یا سلطان کے دو بڑے معتمد اور اعلیٰ وزیر ، بادشاہ کے دائیں اور بائیں بیٹھتے تھے تو اِن کی قربت اور سمت کی وجہ سے فارسی میں چپ (بائیں) اور راس (دائیں)کی نسبت سے 'چپراسی'کہلاتے تھے ! اتنے معزز عہدوں کے نام کو ذلیل کرنے کے لیے PEON کو 'چپراسی' کا نام دے دیا گیا ! !
ہماری فرمانبرداری دیکھیے ! ہم آج تک نفرت اور تذلیل کی اس میراث کو گلے سے لگائے پھر رہے ہیں ! ! ! ١ صوبے والا ، صوبے کا ذمہ دار
جامعہ مدنیہ جدید و مسجد حامد کی تعمیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیجیے
بانی ٔجامعہ حضرت اَقدس مولانا سیّد حامد میاں صاحب رحمہ اللہ نے جامعہ مدنیہ کی وسیع پیمانے پر ترقی کے لیے محمد آباد موضع پاجیاں (رائیونڈ روڈلاہور نزد چوک تبلیغی جلسہ گاہ) پر برلب ِسڑک جامعہ اور خانقاہ کے لیے تقریباً چوبیس ایکڑ رقبہ ١٩٨١ء میں خرید کیا تھا جہاں الحمد للہ تعلیم اور تعمیر دونوں کام بڑے پیمانہ پر جاری ہیں۔ جامعہ اور مسجد کی تکمیل محض اللہ تعالیٰ کے فضل اور اُس کی طرف سے توفیق عطاء کیے گئے اہلِ خیر حضرات کی دُعائوں اور تعاون سے ہوگی، اِس مبارک کام میں آپ خود بھی خرچ کیجیے اور اپنے عزیزواَقارب کو بھی ترغیب دیجیے۔ ایک اندازے کے مطابق مسجد میںایک نمازی کی جگہ پر دس ہزار روپے لاگت آئے گی، حسب ِاستطاعت زیادہ سے زیادہ نمازیوں کی جگہ بنوا کر صدقہ ٔ جاریہ کا سامان فرمائیں۔
منجانب سیّد محمود میاں مہتمم جامعہ مدنیہ جدید و اَراکین اورخدام خانقاہ ِحامدیہ
خطوط ،عطیات اور چیک بھیجنے کے پتے سیّد محمود میاں' جامعہ مدنیہ جدید' محمد آباد19 کلو میٹر رائیونڈ روڈ لاہور
+92 - 333 - 4249302 +92 - 333 - 4249301






+92 - 335 - 4249302 +92 - 345 - 4036960

Have a question?

Email us your queries on jamiamadniajadeed@gmail.com you will be answered in less than 24 hours or Give us a call directly at +92 333 4249302, +92 333 4249 301.